خلوص
ھم لاتعداد مرتبہ یہ لفظ استعمال کرتے ہیں. آج
میں "خلوص" کی ایک مختلف تعریف پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں. احباب کی ملامت
سہنے کے لئے پہلے سے تیار ہوں. سوچنے کی بات ھے کہ خلوص آخر ہوتا کیا ھے؟
مجھے لگتا ھے کہ خلوص ایک ایسے جذبے کا نام ھے، جو کسی بھی رشتے کے آغاز
میں بےدریغ برتا جاتا ھے. اس کو پیار، محبت جیسے جذبوں کے ساتھ مکس کرنے کی
کوشش نہیں کرنی چاہیے. ھر نیا رشتہ شروع میں انتہائی پرخلوص ہی ہوتا ھے.
لیکن خلوص میں ایک فارمیلٹی ہوتی ھے، خوامخواہ کا پروٹوکول ہوتا ھے. خلوص
رشتوں کو قید کرتا ھے، آزاد نہیں رھنے دیتا، رشتوں کو وزنی بناتا ھے، رشتوں
کے پر کاٹ کے رکھتا ھے، خود کو اور دوسرے فریق کو بھی آزادانہ پرواز سے
روکتا ھے. بے ساختگی سے روکتا ھے. خلوص کی عمر کم ہوتی ھے، لانگ ٹرم رشتوں
میں فریںکنیس بڑھنے کے بعد خلوص غائب ھونا شروع ہو جاتا ھے، اور اس رشتے کی
اصل ماہیت اور ہیئت نمودار ہونا شروع ہو جاتی ھے.
میاں
بیوی کی مثال لے لیجئے، شادی کے کچھ سالوں بعد، جب رشتہ پروان چڑھ چکتا
ھے. بہت سی سوشل بائنڈنگ بھی آ جاتی ھے بیچ میں. بچے بھی ہوتے ہیں درمیاں،
ایک دوسرے کے بغیر رہنا ناممکن لگنے لگتا ھے، میاں بیوی ایک دوسرے کے لئے
کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں. لیکن تب دونوں کے بیچ خلوص کا پردہ نہیں رھتا.
جس بات پر پیار آئے، بلا جھجھک پیار کا اظہار کرتے ہیں، جس بات پر غصہ آئے ،
دل کھول کر غصہ بھی نکالا جاتا ھے. کیا نارمل حالات میں آپ نے آج تک کسی
شوہر کو کہتے سنا کہ وہ اپنی بیوی سے بہت مخلص ھے (یہ کہنے کی ضرورت ہی
نہیں ہوتی). یا کبھی کسی باپ یا ماں کو یہ کہنے کی ضرورت پیش آئی کہ وہ
اپنی اولاد کیساتھ مخلص ہیں.
ھم
اپنے جگری یاروں کے ساتھ کوئی فارمیلٹی نہیں برتتے، منہ پر بیستی، منہ پر
عزت، اور کسی بھی بات پر بے ساختہ "yes" یا "no" کرتے ہیں، اسی کو ھم اچھی
اور دیرپا دوستی سمجھتے ہیں. لیکن جن دوستوں کے ساتھ پرخلوص ہوں، ان کے
ساتھ آپ ایسا جگری یاروں والا برتاؤ بھی نہیں کر سکتے.
"
نرم آوازیں، بھلی باتیں، مہذب لہجے
پہلی بارش میں ہی یہ رنگ اتر جاتے ھیں
"
آپ سے معضرت کے ساتھ۔ آپ نے خلوص کو جن چیزوں سے تشبیح دی ہے وہ کہیں سے بھی خلوص پر پوری نہیں اترتیں۔ آپ اس کو تکلّف توکہ سکتے ہیں مگر خلوص ہرگز نہیں۔ تکلّف کی ایکُحد ہوتی ہے اور جب وہ اس حد کو پہنچتی ہے تو بے تکلّفی میں بدل جاتی ہے۔ ہم آپ جناب کے اونچے پہاڑ سے نیچے آتے ہیں تو تُوتڑاخ پر اتر آتے ہیں۔ اور بے تکلفی کی اپنی کوئ انتہا نہیں۔ آپ چاہے پیار سے برا بھلا بھی کہیں تو برا نہیں لگتا کیونکہ شرم اور لحاظ اس بے تکلّفی کے طوفان میں کہیں کھو چکے ہوتے ہیں۔ خلوص اس کے بالکل برعکس ہے۔ رشتہ چاہے ایک دن کا ہو یا ایک سال یا ایک صدی کا۔ اس کی شکل کبھی نہیں بدلتی۔ اس کی کوئ حد نہیں اور اس سے کسی کو کوئ نقصان نہیں ہوتا۔ آپ چاہے جتنے بے تکلّف ہو جائیں آپ کو پر خلوص ہونے سے کوئ نہیں روک سکتا۔ خلوص کی بنیاد نیک نیتی پر کھڑی ہے۔ رشتہ چاہے میاں بیوی کا ہو ماں باپ کا بہن بھائ کا یا دوستی کا ہر رشتہ کی بنیاد خلوص پر مبنی ہوتی ہے۔ اگر ہم پرخلوص ہیں تو ہمارے رشتے پائیدار اور ہر ڈر اور خوف سے پاک رہیں گے۔ اس بات سے قطع نظر کہ ہم ان رشتوں سے کتنے بے تکلّف ہیں یا ہیں بھی یا نہیں۔ خلوص آپ پر پہرے نہیں لگاتا یہ آپ کے پر نہیں کاٹتا۔ یہ کام صرف تکلّف کرتا ہے۔ جیسے کسی نے کیا صحیح کہا ہے " تکلّف میں ہے تکلیف سراسر"۔ خلوص آپ کے کردار کا حصہ ہے ۔ اسے پیدا نہیں کیا جاسکتا نا ہی یہ کوئ عادت ہے جسے سیکھا جاسکتا ہو۔ آپ پر خلوص ہیں یا نہیں ہیں۔ یہ صرف اور صرف آپ ہی بتا سکتے ہیں اور کوئ نہیں۔ اور بے تکلّف ہونا اس بات پر کبھی اثر انداز نہیں ہوگا کہ آپ کتنے پر خلوص ہیں۔ ۔۔۔ سلیم
جواب دیںحذف کریں