16 دسمبر

4:15 AM 0 Comments

آرمی اسٹیبلشمنٹ کو چاہئے کہ سقوط ڈھاکہ سے پہلے جو حالات مشرقی پاکستان میں پیدا کر دیئے گئے تھے، ان پس پردہ حقائق اور ذمے داران کے نام منظر عام پر لائے جائیں. ہمیں بتایا جائے کہ نوے ہزار فوجیوں نے کیونکر بھارتی فوج کے آگے ہتھیار ڈال دیئے تھے؟ کیا اسکی وجہ یہ تو نہیں کہ ہمارا مقابلہ بیک وقت انڈین آرمی کے ساتھ ساتھ بنگالی عوام کے ساتھ بھی تھا؟ اگر ہم بنگالی عوام کے ساتھ بھی برسر پیکار تھے تو ایسا کیوں ہو رہا تھا؟ کیا وہ بغاوت تھی یا زبردستی تسلط قائم رکھنے کی جارحانہ پالیسی ؟ ایوب خان کا دور جس کے بارے میں ہمیں بتلایا جاتا ہے کہ بہت خوشحالی آئی اس خوشحال دورِ حکومت میں حالات سقوط ڈھاکہ کی جانب کیوں گامزن تھے ؟................ ہمیں کتابوں میں جس طرح پڑھایا گیا تو لگتا تھا کہ سقوط ڈھاکہ بس ایک دن میں ہو گیا .. اور ملک کے دو ٹکڑے ہو گئے. اب مجھے جو سمجھ آ رہی ہے وہ یہ کہ بنگالیوں نے باقاعدہ تحریک آزادی لڑی تھی پاکستانی فوج کے خلاف .

میں ملک کے تعلیم یافتہ طبقے سے تعلق کے باوجود اتنا کنفیوز ہوں تو سوچئے دوسرے کم تعلیم یافتہ اور ان پڑھ طبقہ کے اس بارے نالج کی حالت کیا ہو گی؟



آخر کب تک آرمی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بھی سوال پوچھنے کو فوج کی بدنامی کے زمرے میں ڈال کر خاموشی اختیار کی جائے گی؟

آرمی کو چاہئے کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد افغان سویت یونین کی جنگ میں پاکستانی فوج کا کردار وضح کریں، طالبان کی افزائش اور افغانی معاملات میں زائد از ضرورت انوولومنٹ کی وضاحت کریں. ہماری کیا مجبوری تھی جو ہمیں وہ سب کرنا پڑا .... اسکے بعد دہشت گردی کی جنگ میں امریکا کیساتھ ملکر قبائلیوں و افغانیوں کو نیست و نابود کرنے کی پالیسی کی وضاحت کی جائے.

یقین مانئے عام آدمی پاک فوج سے محبت کرتا ہے لیکن وہ حد درجہ کنفیوزڈ ہے. مجھے ایسے شخص کو بھی معلوم نہیں کہ ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی آخر ہے کیا؟ ہماری انڈیا کے بارے میں سوچ کلئیر نہیں، اسرائیل کے بارے میں موقف مبہم ہے. ہماری عوام امریکا سے نفرت کرتی ہے مگر ہر دور میں ہماری فوج اور حکومتیں امریکا کے تلوے چاٹتی نظر آتی ہیں... ہمیں ایشوز پر ملک کی ایک ہارڈ لائن پالیسی کیوں نہیں بتلائی جاتی؟ ہم کس بات پر اگریسیوو ہوں کس بات کو ڈیفنڈ کریں ... ہمیں کچھ نہیں معلوم .. ہم کنفیوزڈ قوم بن گئے ہیں

بینظیر قتل کی انویسٹیگیشن میں فوج اور ایجنسیوں نے نے کوئی بھی کردار کیوں ادا نہ کیا؟

عوام کو بتایا جائے کہ آگے اس ملک کی پالیسی دشمن کے بچوں کو پڑھانے کے علاوہ اور کیا ہے ؟؟

یاستدانوں کو ملک ٹھیک سے نہ چلانے پر گالی پڑتی ہے ..... مگر آپ ہسٹری پڑھیں ... جس طرح ایوب خان نے اپنی مرضی سے سب پرانے سیاستدانوں کا صفایا کرکے نئے سیاستدانوں کی پود تیار کی، آج تک ہر سیاسی جماعت میں اسی فیکٹری سے تیار کردہ سیاستدانوں کا تسلسل چلا آ رہا ہے ... اس ملک سے جمہوری سیاست کا خاتمہ اور حقیقی دھاندلی کا آغاز اسی دن ہو گیا تھا جس دن فاطمہ جناح کو دھاندلی سے ہرایا گیا تھا .........جنرل ضیاء اور پھر جنرل مشرف نے اسی ایوب والی پالیسی کو دہرا کر ہر دس سال بعد اسی ایوبی فلسفے اور سیاستدان بنانے کی فیکٹری کو جلا بخشی. ____________ جن دس سالوں میں فوج حکومت پر قابض نہیں ہوتی ان دس سالوں میں قوم کو سیاستدانوں کو گالی دینے کی نوکری پر معمور کر دیا جاتا ہے ... اسلئے موجودہ ملکی ابتری میں سیاستدانوں سے زیادہ آرمی اسٹیبلشمنٹ کو قصور وار خیال کرتا ہوں.
 

0 comments: