انا پرستی
ھم اکثر دوسروں سے اپنی توقعات اور معیارات پورے نہ ہونے پر انہیں انا پرست قرار دیتے نظر آتے ھیں. اکثر دوسروں کی ایگو اور انا سے خائف نظر آتے ھیں.
ہر دوسرے شخص کے ساتھ ہماری انا کا وہی ایک جیسا لیول نہیں ھوتا. کسی کے ساتھ کم، کسی کے ساتھ معتدل اور کسی کے ساتھ زیادہ . اس کا مطلب ھے کہ ہماری انا کا دارو مدار ھم سے زیادہ اس دوسرے شخص (یا اس دوسرے شخص کیساتھ ہمارے تعلق) پر منخصر ھوتا ھے.
سچ پوچھیں تو میں کسی شخص میں موجود انا کو ختم کرنے، یا دبانے کے بالکل حق میں نہیں ھوں. میں انا کو کوئی بری چیز بھی نہیں سمجھتا. یہ ایک قدرتی صلاحیت ھے، جو مختلف تعلقات اور مختلف سچویشن میں مختلف انداز میں نمودار ھوتی ھے. ھم سب اکثروبیشتر (اپنے علاوہ) کسی دوسرے شخص کی بے جا انا کا شکوہ کرتے ہوئے نظر آتے ھیں …. میری تھیوری کے مطابق دوسروں کی انا کو کم زیادہ کرنے کی خواہش کی بجائے ہمیں اس دوسرے شخص کی انا کے مطابق اپنے رویوں، خواھشات اور اس رشتے میں اپنی امیدوں میں اعتدال لانے کی ضرورت ھوتی ھے. …… اگر ھم یہ سوچ رکھیں اور ایسا ہی کرنے کی پریکٹس کریں ھم ہر طرح کے شخص سے ڈیل کرنے کے قابل ھوں گے
ہر دوسرے شخص کے ساتھ ہماری انا کا وہی ایک جیسا لیول نہیں ھوتا. کسی کے ساتھ کم، کسی کے ساتھ معتدل اور کسی کے ساتھ زیادہ . اس کا مطلب ھے کہ ہماری انا کا دارو مدار ھم سے زیادہ اس دوسرے شخص (یا اس دوسرے شخص کیساتھ ہمارے تعلق) پر منخصر ھوتا ھے.
اگر تو کسی کی انا کے لیول (مقدار) کا فیصلہ ھم انسانوں نے اُس شخص کے ہمارے ساتھ روا تعلق سے اخذ کرنا ھے. پھر تو کبھی بھی کسی کے بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی کہ فلاں شخص انا پرست ھے. اس فیصلے سے پہلے ہمیں خود اپنے آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہئے کہ کیا ھم نیوٹرل ھیں؟
یہ فیصلہ کیونکر ھو کہ وہ فلاں شخص انا پرست ھے ؟ وہ انا پرست ھے __ یا__ میں اس کی توجہ/چاھت کا ضرورت سے زیادہ بھوکا ھوں. اگر میں اسکی توجہ/چاھت کا زائد از ضرورت متقاضی ھوں تو پھر اعتدال کی ضرورت اس کو نہیں ، مجھے ھے. پروبلم اس شخص کی طرف نہیں ، بلکہ خود میری طرف ھے.
0 comments: