خود ساختہ دُکھ
آج خود ساختہ دکھوں والی بات کی تشریح کرنا
چاہتا ھوں. دکھ تو ہر کسی کی زندگی میں ہوتے ہی ہیں. اس سے انکار نہیں.
لیکن خود ساختہ دکھ بھی بہت بڑی حقیقت ہیں. ایسے لوگوں کی تعداد بھی کم
نہیں.یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی اصل زندگی دوسروں کے مقابلے میں نسبتا بہتر
ہی ہوتی ھے، بظاہر کوئی مسئلہ ہوتا نہیں. لیکن وہ اپنے آپ کو نارمل زون میں
رکھنے کے لئے اپنے آپ کو ان مسائل کا شکار کر لیتے ہیں. یہ اصل میں دو
مسائل ہیں. یا دو مراحل کہہ لیں.
1 -
پہلے مرحلے پر انسان شعوری یا لاشعوری طور پر ایسے دکھوں اور ٹینشنوں کو
سوچنا شروع کر دیتا ہے، جن کی سر درد لئے بغیر بھی اسکے عمومی معاملات خاصے
بہتر ہی چل رھے ہوتے ہیں ... مگر وہ خوامخواہ کے غم اپنی شخصیت سے منسوب
کر کے اپنے آپ کو دوسروں کی نسبت زیادہ دکھی اور مظلوم محسوس کرنا شروع کر
دیتا ہے.لاشعوری طور پر ایسا کرنے کا ایک محرک یہ بھی ہوتا ہے کے اسے لگنے
لگتا ہے کہ اس کا تجربہ دوسروں کے مقابلے میں بہت زیادہ وسیع اور جذباتی
معاملات میں اسکا ویژن بھی بہت زیادہ براڈ ہو گیا ہے. ایسے ہی میں کچھ لوگ
اپنے آپ پر رحم کر کے خوش ہونا شروع ہو جاتے ھیں. اسی میں سکون محسوس کرنے
لگتے ھیں. انھیں خود ترسی کا نشہ ہو جاتا ہے. پھر ایک وقت آتا ہے کہ
خودساختہ کچھ نہیں رہتا، یہ فیکٹس ان کی زندگی اور شخصیت میں سیمنٹ کی طرح
پکے ہو جاتے ھیں.
2 - دوسرے مرحلے
پر یہ لوگ اپنی ان دکھی کیفیات کو دوسرے لوگوں سے شیئر کر کے مزہ لیتے ہیں.
ان کے غم سوشل ہو جاتے ہیں. اکثر و بیشتر باتوں میں دکھ کی شدت کم زیادہ
کرنے کے لئے کچھ مصالحہ شامل کرنا پڑے تو وہ بھی کر لیتے ہیں. کمیونیٹیز
اور حلقہ احباب میں لوگ ان کے غم اور مسائل کو ڈسکس کرتے نظر آتے ہیں. جو
لوگ زیادہ ہمدردی، تسلی اور دردمندی کریں، انکے لئے آنسو بہائیں. انکو بیسٹ
فرینڈز ہونے کا درجہ عنایت ہو جاتا ہے. سوشلی اپنے درد و غم کا اظہار ان
کے کتھارسس کا حصہ بن جاتا ہے. انہی میں سے کچھ حد تک optimistic لوگ فنکار
، ادیب اور خصوصا شاعر بھی بن جاتے ہیں. اور نام و شہرت بھی کما لیتے
ہیں.... اور باقی کے لوگ اپنے ہاتھ اپنا گلا گھونٹنے کی پوزیشن میں رکھتے
ہوئے، رو دھو کر حبس زدہ ناشکری کی زندگی گزارتے رہتے ہیں. لیکن نہ یہ اپنا
گلا گھونٹتے ہیں. نہ رونا بند کرتے ہیں.
اور نہ ہی واویلا.
-
21 فروری 2014
0 comments: