میری 'صِلہ' اور میڈیکل سائنس
میری کوشش ہوتی ھے کہ دوست احباب کیساتھ ہمیشہ
کوئی پازیٹو یا خوشی کی بات شئیر کی جائے. اس لئے یہ بیٹی کی وفات کا تذکرہ
گروپ پر کبھی نہیں کیا. لیکن یہ ایک کڑوی حقیقت ھے. اور صبح آفس آتے ہی
پوسٹ دیکھی، لیکن سوچا آفس کی افراتفری میں اس پوسٹ پر کمنٹ نہیں کروں گا.
2008
میں فیصل آباد کے سِول ہسپتال میں CBC کو مد نظر رکھے بغیر میری 13 مہینے
کی بیٹی 'صِلہ' کو anesthesia کا انجکشن لگا دیا گیا جس سے وہ کوما میں چلی گئی.
اور پھر کچھ دن بعد اس کے تمام نظام آہستہ آھستہ کام کرنا چھوڑ گئے .. وہ
وینٹیلیٹر پر چلی گئی اور جانبر نہ ھو سکی.... اس وقت شاید مجھے اور میری
فیملی کو زیادہ میڈیکل شعور بھی نہیں تھا اور انتہائی دکھ کے ساتھ ھم نے اس
واقعے کو خدا کی مرضی سمجھ کر قبول کر لیا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سمجھ
لگی کہ اس سارے سانحے میں بنیادی وجہ غلط میڈیکل ٹریٹمنٹ تھا
یہ
بہت دلخراش واقعہ ھے میری زندگی کا. ہمیں بہت وقت سنبھلنے میں لگا ....
اور مجھے اپنی بیوی کو واپس زندگی میں انٹرسٹ لینے کے لئے بہت محنت کرنا پڑی. یہ
سب کسی کو سمجھانا بھی بہت مشکل ھے کہ والدین کس کیفیت سے گزرتے ھیں. اپنی
مری ہوئی اولاد بھی کبھی نہیں بھولتی
میرے
میڈیکل سائنس کے بارے میں بہت مکسڈ قسم کے تجربات رھے ھیں ... جن میں سے
زیادہ تر ناخوشگوار ہی رھے. اور یہ صرف پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں کا
مسئلہ نہیں بلکہ پرائیویٹ اور حتی کہ انٹرنیشنل سٹینڈرڈ ہسپتالوں میں بھی
کوتاہیاں برتی جاتی ھیں. اگر روٹین سے ہٹ کر کوئی بیماری آ جائے، (جس کا
ڈاکٹر کو نالج نہ ھو ) تو اس مریض پر تجربے ہی ہوتے ھیں پھر ..
مجھے
افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ ڈاکٹری ایک مقدس پیشہ ھے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ
دنیا کا سب سے بڑا بزنس بھی ھے .... پیسہ کمانے کے چکر میں زیادہ تر
ڈاکٹرز اتنے مصروف ہو جاتے ھیں کہ اپنے نالج کو اپ ڈیٹ بھی نہیں کرتے .
زیادہ تر کیسز میں مریض کے لواحقین کو درست انفارمیشن بھی نہیں بتاتے. اور
مریض کے کم علم لواحقین کے لئے ڈاکٹر کی ہر بات حرف آخر ہوتی ہے. جس کا
مریض ہسپتال میں ہوتا ہے، اس کو آپ پانچ روپے کا کیپسول پانچ سو میں بھی
بیچیں گے تو وہ خریدے گا. اسکے علاوہ جعلی ادویات کو بھی مافیاز کنٹرول کر
رھے ھیں. افسوس کی بات ھے کہ میڈیکل کے شعبے میں یہ سب دو نمبریاں ہو رھی
ھیں. ناصرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں.
---
10 نومبر 2014
---
10 نومبر 2014
0 comments: