بڑی امّاں
کچھ منفرد کردار :: # 2 - بڑی امّاں
---------------------------------------
رشتے میں میری بڑی ممانی ھیں. لیکن ان کے ساتھ اتنے زیادہ رشتے ھیں کہ جسکے لئے پوری ایک فہرست بنانے کی ضرورت ھے. لیکن وہ ساری فیملی کی بڑی اماں ھیں. چھوٹے بڑے سبھی انکو اسی نام سے پکارتے ھیں. میری امی، میں، اور اب میرے بچے بھی انکو بڑی اماں ہی کہتے ھیں.
.
وہ میری امی کے تایا کی بیٹی ھیں، ان کے والدین اپنی جوانی ہی میں وفات پا گئے جس کے بعد یہ لڑکپن ہی میں میری نانی کو پرورش کیلئے سونپ دی گئیں. تب میری امی کی پیدائش بھی ابھی نہیں ہوئی تھی. بعد ازاں اسی گھر میں میرے بڑے ماموں کے ساتھ شادی طے پا گئی اور امی کی بھابھی بھی بن گئیں. میری امی کے بقول امی کو بڑی اماں ہی نے پالا پوسا اور ہماری نانی کی وفات کے بعد اصل میں بڑی اماں ہی انکی ماں اور ہماری نانی بھی ھیں.
.
صوم و صلات اور تہجد کی پابند. بہت سی عبادات وہ کرتی ھیں. ہر سال اعتکاف پر بیٹھیں گی، اور چِٹی ان پڑھ ہوتے ہوئے بھی پتا نہیں کیسے اتنی زیادہ حدیثیں اور آیتیں انکو یاد ھیں.
.
بڑی اماں جوانی میں انتہائی خوبصورت تھیں. سبز رنگ کی آنکھیں، گورا رنگ اور بھورے بال. آگے سے ان کے سبھی بچے بھی بڑے خوبصورت. جب سے میں نے ہوش سنبھالا بڑی اماں کی خوبصورتی کے قصے سنے. ھم پوچھتے کہ بڑی اماں آپ اتنی پیاری کیسے ھو تو وہ کہتی ھیں میرے حسن کا راز ھے 'تبت سنو' کریم . اور واقعی ھم نے انہیں ہر موقع پر چہرے پر 'تبت سنو' کریم لگاتے اور آنکھوں میں ہاشمی سرمہ لگاتے ہی دیکھا.
.
بڑی اماں کے گیارہ بچے ہوئے جن میں سے صرف سات حیات ھیں، انکے ہاں چھانگے (چھ انگلیوں والے) بچوں کی پیدائش ھوتی تھی، جو بعد ازاں جانبر نہ ھو پاتے تھے. مگر جب بھی بچوں کا ذکر آئے، وہ اپنے مرحوم بچوں کا ذکر ضرور کرتی ھیں.
.
بڑی امّاں ایک ایسی انپڑھ خاتون ھیں، جنکو پڑھائی کی قدر کا بھرپور اندازہ ھے. انہوں نے اپنے بچوں کو پڑھانے کے لئے بہت محنت کی لیکن کوئی بھی بچہ پڑھائی میں آگے نہیں نکل سکا. اور پھر سوائے ایک کے کوئی بھی بیٹا ذمے دار ثابت نہ ہوا. کوئی غلط صحبت کا شکار ھو گیا، تو کوئی کسی حادثے کا شکار ھو گیا. کسی نے اپنی زندگی باڈی بلڈنگ کی نذر کر دی تو کوئی کبوتر بازی میں ہی مگن ھو گیا، اور کوئی اپنی مرضی کی شادی کر کے الگ ھو گیا. میرے بڑے ماموں کے فنانشل حالات بھی کوئی بہت آسودہ نہیں تھے، پھر وہ طویل علالت کا شکار رھے، بڑی اماں نے انکی خوب خدمت کی پندرہ سال قبل ماموں بھی وفات چکے.
.
دیکھا جائے تو بڑی اماں کی زندگی دکھوں سے بھرپور رہی، لیکن بڑی اماں کی شخصیت کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ انہیں کوئی پریشانی بھی لاحق ھو گی. وہ انتہائی زندہ دل خاتوں ھیں. زبردست پنجابی بولتی ھیں، اور بہت زیادہ بولتی ہیں. اکثر ھم ان کی باتوں کو سمجھے بغیر آگے سے 'ہوں ہاں' کرتے رہتے ھیں، مگر وہ بولے جاتی ہیں. پتا نہیں کون کون سے قصے کہانیاں. انتہائی فرینڈلی، اور ہر کسی کے کام آنے والی ہیں.. ایک بار ہمارے ساتھ ٹرین پر سیالکوٹ سے آئیں، تو فیصل آباد پہنچتے پہنچتے دوسری اجنبی خواتین کیساتھ اتنی دوستی گانٹھ چکی تھیں کہ سب نے ان سے ایڈریس لیا کہ وہ سیالکوٹ آ کر ضرور ملیں گی. رشتے داریاں نبھانے والی، ہر کسی کے لئے پریشان ہونے والی. ہر خوشی غمی میں سب سے پہلے پہنچنے والی. ہر شادی کا لازمی جزو. کبھی کسی سے ناراض نہیں ہوئیں. نہ ہی کوئی ان سے ناراض ھو سکا. ہمیشہ حرکت میں نظر آتی ھیں. اتنی معمر مگر ایکٹیو خاتون میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی. ھم جب سیالکوٹ جائیں، تو رات کو سب سے آخر میں وہ سوتی ھیں، اور صبح اٹھو تو وہ پہلے سے جاگ رہی ھوتی ھیں، انکے لئے کام کا کوئی وقت مقرر نہیں. ایسی خاتوں ھے جو رات کو بارہ بجے بھی کپڑے دھوتی پائی جائیں گی، اپنے چھوٹے سے گھر میں نجانے کون کون سے گملے اور پودے لگا کر باغبانی کا شوق بھی پورا کرتی ھیں. مرغیاں بھی پال رکھی ھیں، گھر میں بکری بھی ھے.
.
بڑی اماں کی سادگی بھری باتوں میں چٹکلے بھرے ہوتے ھیں. ان کے پاس بیٹھ جاؤ تو پھر ہنستے جاؤ ہنستے جاؤ. ساری اقساط دیکھ کر بھی ڈرامے کی سٹوری انکو پتا نہیں ھوتی ___ اسی طرح کرکٹ کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں مگر میچ شوق سے دیکھتی ھیں .. ایک بار میں نے انکے پاس بیٹھ کر کرکٹ میچ دیکھا. پاکستان کی بیٹنگ چل رہی تھی، باؤلر بھاگ کر آتا، تو اسکے رن اپ کے دوران بڑی اماں کہتی ... ھُن آؤٹ .. آؤٹ .. آؤٹ ... میرے ٹوکنے پر کہنے لگیں، "اچھا میں سمجھی اونہاں دی واری چل رہی اے" ............ سپن اور فاسٹ باولنگ پر ان کا تبصرہ کچھ یوں تھا کہ آفریدی کے اوور کے بعد شعیب اختر باولنگ کروا کے پسینے سے شرابور ھو رہا تھا .. بڑی اماں بولیں :: "گولی وجنا !! اینویں دوڑ دوڑ کے اپنیاں لتاں پئا تھکاؤندہ اے. بھلا تُو وی آفریدی وانگر کھلوتا کھلوتا گیند سُٹ لیا کر" .................. ایک پلئیر نے چھکا لگایا، گیند اسٹیڈیم سے باہر چلی گئی، جو واپس نہ آئی تو باہر سے گراؤنڈزمین گیندوں کا ڈبہ اٹھائے گراؤنڈ میں داخل ہوا .... بڑی اماں بولیں .... "اینہوں ویکھو چھکے دی کِنی خوشی ہوئی اے، فورا ای مٹھائی دا ڈبہ چک لیایا اے"
.
بڑی اماں کو مل کر سوچتا ھوں. کہ ایسے پیارے لوگ اب اللہ نے بنانے کیوں بند کر دیئے ھیں.
---------------------------------------
رشتے میں میری بڑی ممانی ھیں. لیکن ان کے ساتھ اتنے زیادہ رشتے ھیں کہ جسکے لئے پوری ایک فہرست بنانے کی ضرورت ھے. لیکن وہ ساری فیملی کی بڑی اماں ھیں. چھوٹے بڑے سبھی انکو اسی نام سے پکارتے ھیں. میری امی، میں، اور اب میرے بچے بھی انکو بڑی اماں ہی کہتے ھیں.
.
وہ میری امی کے تایا کی بیٹی ھیں، ان کے والدین اپنی جوانی ہی میں وفات پا گئے جس کے بعد یہ لڑکپن ہی میں میری نانی کو پرورش کیلئے سونپ دی گئیں. تب میری امی کی پیدائش بھی ابھی نہیں ہوئی تھی. بعد ازاں اسی گھر میں میرے بڑے ماموں کے ساتھ شادی طے پا گئی اور امی کی بھابھی بھی بن گئیں. میری امی کے بقول امی کو بڑی اماں ہی نے پالا پوسا اور ہماری نانی کی وفات کے بعد اصل میں بڑی اماں ہی انکی ماں اور ہماری نانی بھی ھیں.
.
صوم و صلات اور تہجد کی پابند. بہت سی عبادات وہ کرتی ھیں. ہر سال اعتکاف پر بیٹھیں گی، اور چِٹی ان پڑھ ہوتے ہوئے بھی پتا نہیں کیسے اتنی زیادہ حدیثیں اور آیتیں انکو یاد ھیں.
.
بڑی اماں جوانی میں انتہائی خوبصورت تھیں. سبز رنگ کی آنکھیں، گورا رنگ اور بھورے بال. آگے سے ان کے سبھی بچے بھی بڑے خوبصورت. جب سے میں نے ہوش سنبھالا بڑی اماں کی خوبصورتی کے قصے سنے. ھم پوچھتے کہ بڑی اماں آپ اتنی پیاری کیسے ھو تو وہ کہتی ھیں میرے حسن کا راز ھے 'تبت سنو' کریم . اور واقعی ھم نے انہیں ہر موقع پر چہرے پر 'تبت سنو' کریم لگاتے اور آنکھوں میں ہاشمی سرمہ لگاتے ہی دیکھا.
.
بڑی اماں کے گیارہ بچے ہوئے جن میں سے صرف سات حیات ھیں، انکے ہاں چھانگے (چھ انگلیوں والے) بچوں کی پیدائش ھوتی تھی، جو بعد ازاں جانبر نہ ھو پاتے تھے. مگر جب بھی بچوں کا ذکر آئے، وہ اپنے مرحوم بچوں کا ذکر ضرور کرتی ھیں.
.
بڑی امّاں ایک ایسی انپڑھ خاتون ھیں، جنکو پڑھائی کی قدر کا بھرپور اندازہ ھے. انہوں نے اپنے بچوں کو پڑھانے کے لئے بہت محنت کی لیکن کوئی بھی بچہ پڑھائی میں آگے نہیں نکل سکا. اور پھر سوائے ایک کے کوئی بھی بیٹا ذمے دار ثابت نہ ہوا. کوئی غلط صحبت کا شکار ھو گیا، تو کوئی کسی حادثے کا شکار ھو گیا. کسی نے اپنی زندگی باڈی بلڈنگ کی نذر کر دی تو کوئی کبوتر بازی میں ہی مگن ھو گیا، اور کوئی اپنی مرضی کی شادی کر کے الگ ھو گیا. میرے بڑے ماموں کے فنانشل حالات بھی کوئی بہت آسودہ نہیں تھے، پھر وہ طویل علالت کا شکار رھے، بڑی اماں نے انکی خوب خدمت کی پندرہ سال قبل ماموں بھی وفات چکے.
.
دیکھا جائے تو بڑی اماں کی زندگی دکھوں سے بھرپور رہی، لیکن بڑی اماں کی شخصیت کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ انہیں کوئی پریشانی بھی لاحق ھو گی. وہ انتہائی زندہ دل خاتوں ھیں. زبردست پنجابی بولتی ھیں، اور بہت زیادہ بولتی ہیں. اکثر ھم ان کی باتوں کو سمجھے بغیر آگے سے 'ہوں ہاں' کرتے رہتے ھیں، مگر وہ بولے جاتی ہیں. پتا نہیں کون کون سے قصے کہانیاں. انتہائی فرینڈلی، اور ہر کسی کے کام آنے والی ہیں.. ایک بار ہمارے ساتھ ٹرین پر سیالکوٹ سے آئیں، تو فیصل آباد پہنچتے پہنچتے دوسری اجنبی خواتین کیساتھ اتنی دوستی گانٹھ چکی تھیں کہ سب نے ان سے ایڈریس لیا کہ وہ سیالکوٹ آ کر ضرور ملیں گی. رشتے داریاں نبھانے والی، ہر کسی کے لئے پریشان ہونے والی. ہر خوشی غمی میں سب سے پہلے پہنچنے والی. ہر شادی کا لازمی جزو. کبھی کسی سے ناراض نہیں ہوئیں. نہ ہی کوئی ان سے ناراض ھو سکا. ہمیشہ حرکت میں نظر آتی ھیں. اتنی معمر مگر ایکٹیو خاتون میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی. ھم جب سیالکوٹ جائیں، تو رات کو سب سے آخر میں وہ سوتی ھیں، اور صبح اٹھو تو وہ پہلے سے جاگ رہی ھوتی ھیں، انکے لئے کام کا کوئی وقت مقرر نہیں. ایسی خاتوں ھے جو رات کو بارہ بجے بھی کپڑے دھوتی پائی جائیں گی، اپنے چھوٹے سے گھر میں نجانے کون کون سے گملے اور پودے لگا کر باغبانی کا شوق بھی پورا کرتی ھیں. مرغیاں بھی پال رکھی ھیں، گھر میں بکری بھی ھے.
.
بڑی اماں کی سادگی بھری باتوں میں چٹکلے بھرے ہوتے ھیں. ان کے پاس بیٹھ جاؤ تو پھر ہنستے جاؤ ہنستے جاؤ. ساری اقساط دیکھ کر بھی ڈرامے کی سٹوری انکو پتا نہیں ھوتی ___ اسی طرح کرکٹ کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں مگر میچ شوق سے دیکھتی ھیں .. ایک بار میں نے انکے پاس بیٹھ کر کرکٹ میچ دیکھا. پاکستان کی بیٹنگ چل رہی تھی، باؤلر بھاگ کر آتا، تو اسکے رن اپ کے دوران بڑی اماں کہتی ... ھُن آؤٹ .. آؤٹ .. آؤٹ ... میرے ٹوکنے پر کہنے لگیں، "اچھا میں سمجھی اونہاں دی واری چل رہی اے" ............ سپن اور فاسٹ باولنگ پر ان کا تبصرہ کچھ یوں تھا کہ آفریدی کے اوور کے بعد شعیب اختر باولنگ کروا کے پسینے سے شرابور ھو رہا تھا .. بڑی اماں بولیں :: "گولی وجنا !! اینویں دوڑ دوڑ کے اپنیاں لتاں پئا تھکاؤندہ اے. بھلا تُو وی آفریدی وانگر کھلوتا کھلوتا گیند سُٹ لیا کر" .................. ایک پلئیر نے چھکا لگایا، گیند اسٹیڈیم سے باہر چلی گئی، جو واپس نہ آئی تو باہر سے گراؤنڈزمین گیندوں کا ڈبہ اٹھائے گراؤنڈ میں داخل ہوا .... بڑی اماں بولیں .... "اینہوں ویکھو چھکے دی کِنی خوشی ہوئی اے، فورا ای مٹھائی دا ڈبہ چک لیایا اے"
.
بڑی اماں کو مل کر سوچتا ھوں. کہ ایسے پیارے لوگ اب اللہ نے بنانے کیوں بند کر دیئے ھیں.
0 comments: