گاندھی دنیا میں جناح سے زیادہ مقبول کیوں؟

4:16 AM 0 Comments


پہلی بات یہ کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ گاندھی جی بین الاقوامی طور پر جناح سے بہت زیادہ مقبول ہیں. لیکن میرا نہیں خیال کہ اس فیکٹر کے پیچھے پاکستانیوں کی کوئی کوتاہی شامل ہے. ٹین ایج میں مجھے بھی ملال ہوتا تھا کہ ہمارے لیڈر جناح کو دنیا میں اسطرح لوگ کیوں نہیں جانتے جس طرح گاندھی کو جانتے ہیں ...

1 - قائد اعظم ہمارے لئے بہت بڑے لیجنڈ رہنما ہیں لیکن وہ صرف برصغیر کی چند ریاستوں (صوبوں) کے مسلمانوں کے لیڈر تھے، انہوں نے یہاں کے مسلمانوں کے حقوق کی جدوجہد لڑی اور مسلمانوں کے لئے الگ ملک حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، ان ریاستوں میں بھی ان کے مسلمان مخالفین بہت اکثریت میں تھے. .......... جبکہ گاندھی پوری دنیا کے ہندوؤں کے واحد لیجنڈ لیڈر کے طور پر متعارف کروائے گئے. انہیں مہاتما گاندھی کا درجہ دیا گیا.




2 - قائداعظم کی سیاست، افکار، نظریات اور جدوجہد صرف برصغیر کے مسلمانوں کے مسائل اور پاکستان کی آزادی کے گرد گھومتی ہے. ............. جبکہ گاندھی کی جانب سے ہندوستان کی تحریک آزادی کے رہنما ہونے کے علاوہ بہت سے معاملات میں یونیورسل فلسفے کی سوچ سامنے آئی. جو ناصرف بہت حد تک عیسائیت کے بنیادی مذہبی عقائد سے مماثلت رکھتی ہے بلکہ جدید دنیا کے لئے یسوع مسیح کے وچاروں کی ارتقائی تشریح خوبصورت انداز میں کرتی ہے ... ان فلسفوں میں فلسفہءِ عدم تشدد ، انتہائی صلح جوئی، شدت پسندی کی نفی، ظلم برداشت کرنا، خاموش احتجاج ، سول نافرمانی پر عمل ، احتجاجی دھرنوں کی عملی سیاست، بھوک ہڑتال ... کسی کے پہلے تھپڑ کے جواب میں اپنا دوسرا گال بھی پیش کر دینا وغیرہ وغیرہ اور ایسی ہی بہت سی سوچیں شامل ہیں .... کرسچینز کو یہ سب باتیں اپنے مذہبی افکار سے قریب ترین محسوس ہوتی تھیں اور یہ سب باتیں قیام پاکستان سے بہت پہلے سے مغربی لٹریچر کا حصہ بننے لگی تھیں.... گاندھی نے تحریک آزادی سے پہلے نسلی تعصب (racism) کی تحریک سے شہرت پائی، جو آج ماڈرن دنیا کا ایک حقیقی ایشو سمجھا جاتا ہے ..... امریکہ میں پچاس ساٹھ کی دہائی میں کالے لوگوں کی تحریک کے روح رواں "مارٹن لوتھر کنگ" تک اپنی تحریک میں گاندھی کے اقوال کے حوالے دیا کرتے تھے. وہ تحریک بھی کامیاب ہوئی، اور امریکا میں کالوں کو حقوق ملنا شروع ہوئے نسلی تعصب کا خاتمہ شروع ہوا ..





3 - گاندھی کی شخصیت اور افکار پر انٹرنیشنل سطح پر بہت کچھ لکھا اور سراہا گیا ہے، ھالی ووڈ لیول پر ان کی شخصیت پر فلمیں بنی ہیں. 1981 میں ھالی ووڈ میں بننے والی فلم "گاندھی" نے نو آسکر ایوارڈ جیت کر پہلی بار کسی ایک ہی فلم کی جانب سے اتنے زیادہ آسکر جیت کر نئی تاریخ رقم کی تھی ....... اور یقین مانئے وہ فلم دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ..... اس کے علاوہ دیگر قابل ذکر فلموں میں 1985 کی فلم "میں نے گاندھی کو نہیں مارا" اور 2006 میں ریلیز ہوئی فلم "لگے رہو منا بھائی" شامل ہیں. ______ اس تمام لٹریجر اور فلموں کو دیکھنے کے بعد یہ بات خود بخود سمجھ آتی ہے کہ گاندھی محض ایک فریڈم فائٹر نہیں تھے، ان کی شخصیت اور افکار کے بہت سے پہلو تھے جنہیں بین الاقوامی طور پر پسند کیا جاتا ہے ....

اس کے علاوہ میں ایک فلم "The Great Debaters" دیکھ کر حیران ہوا، جس میں چالیس کی دھائی میں امریکا میں کالج سٹوڈنٹس کے مابین تقریر بازی کے مقابلوں کا رجحان دکھایا گیا .... فلم کے آخر میں سٹوڈنٹس کی ٹیم کو فائنل تقریر کے لئے کوئی موضوع سمجھ نہیں آ رہا تھا تو انہوں نے گاندھی کے افکار کو بنیاد بناتے ہوئے اپنی تقریر لکھی ... اور وہ تقریری مقابلہ جیت لیا ... جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ چالیس کی دھائی میں گاندھی کے فلسفے بین الاقوامی سطح پر فیشن کا درجہ حاصل کر چکے تھے
 

تو میری ذاتی رائے میں ہمیں گاندھی کو محض ہندؤں کا ایک لیڈر اور فریڈم فائٹر سمجھتے ہوئے ان کا مقابلہ قائد اعظم محمد علی جناح کیساتھ نہیں کرنا چاہئے. کیونکہ گاندھی تحریک آزادی کے رہنما سے بڑھ کر بہت کچھ تھے، وہ ہندوستان کے علاوہ بھی دنیا بھر کے لوگوں کی سوچ بدلنے کا باعث بنے، اور بن رہے ہیں ..... اور آج اگر وہ زیادہ مقبول ہیں تو یہ انکا حق بنتا ہے



ایک مزے کی بات جو میری ذاتی رائے ہے. (اگر کسی کی دل آزاری نہ ہو)

آج ہم لوگ پاکستان میں، اور ہندوستانی وہاں بھارت میں بڑی اچھل کود کرتے ہیں کہ ہم نے انگریزوں کو یہاں سے مار بھگایا، اور آزادی حاصل کر لی :) .... جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے برصغیر کے لیڈران نے زور تو بہت لگایا لیکن ان سے بن کچھ نہیں پا رہا تھا. آج ان موضوعات پر بعد میں جو فلمیں ڈرامے اور مضامین لکھے جاتے رہے ان میں اس دور کی انگریز حکومت پر ہندوؤں اور مسلمانوں کا شدید پریشر دکھایا جاتا ہے ........... جبکہ ایسا کوئی چکر نہیں تھا، انگریز حکومت آخر دم تک یہاں سٹرونگ تھی ... انگریزوں نے طاقت کے زور پر یہاں حکومت قائم کی تھی، اور وہ طاقت کے زور پر برصغیر عمدگی سے چلا رہے تھے، انہوں نے جو زبردست ترقیاتی کام اس دور کے برصغیر میں کیے انکی مثال نہیں ملتی ...... وہ ان آزادی کی تحاریک کے پریشر میں آنے والے نہیں تھے... ہاں وہ یہاں کی عوام پر ظلم بھی کرتے ہوں گے ... کیونکہ غلامی کی قیمت بہرحال غلاموں کو ادا کرنی پڑتی ہے ....

تو پھر سوال یہ ہے کہ بھارت/پاکستان کی آزادی کیوں کر ممکن ہو پائی؟ اس سوال کا عام فہم میں جواب یہ ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد جو سیاسی و معاشی حالات تھے ان حالات میں تاج برطانیہ کے لیے ممکن ہی نہ رہا تھا کہ وہ اپنے نوآبادیاتی مقبوضہ جات پر اپنا تسلط برقرار رکھ پاتا۔ انہوں نے اسی طرح برصغیر سے جان چھڑانے میں عافیت سمجھی جسطرح آج امریکا اپنے مقاصد پورے ہو جانے پر افغانستان اور عراق سے نکل رہا ہے ...برطانیہ کی معاشی اور اقتصادی بہتری کیلئے انہیں تب یہاں سے جانا ہی تھا. بہرکیف 14اور 15 اگست 1947 کی درمیانی شب پاکستان اور بھارت الگ ممالک کے طور پر معرض وجود میں آ گئے۔ برطانوی سامراج سے (سو کالڈ) آزادی مل گئی۔ اور ہم نے حقیقی عملی آزادی کی جانب گامزن ہونے کی بجائے صرف اپنے لیجنڈز کو پوجنا شروع کر دیا :)
 

0 comments: