خالق

 

 میرا خدا کی ذات پر پختہ یقین ہے، اور میں خدا کو پسند بھی کرتا ہوں، مگر اسلئے نہیں کہ اس نے مجھے بنایا، یا یہ زندگی دی۔ بلکہ اسکی بنائی دنیا اور یونیورس اور اس میں چھپے انگنت راز، پیٹرن اور منطق (جتنا بھی ہم اپنی محدود عقل اور سوچ کیساتھ سمجھ پاتے ہیں) ۔۔۔ ان سب نے مجھے بیحد متاثر کیا ہے۔ بھلا میں اس خدا سے نفرت کیسے کر سکتا ہوں جس نے میوزک تخلیق کیا۔

مگر خدا کے کانسیپٹ کو لیکر دنیا اور سوسائیٹی کو جس طرح آپریٹ کیا جاتا رہا اور اب بھی کیا جا رہا ، اس سے مجھے اتفاق محسوس نہیں ہوتا۔

ہمیں خدا (اپنے خالق) سے کیا چاہئے، اسکی تو سینس بنتی ہے، مگر یہ سوال کہ خدا کو ہم سے کیا چاہئے؟  اس پر میں آج تک خود کو قائل نہیں کر پایا کہ خدا کو واقعی ہم سے وہی سب کچھ درکار ہے جو ہمیں سکھایا اور بتایا جاتا ہے۔ یعنی اس کے آگے جھکو، سجدہ کرو، فلاں فلاں حرکت روٹین سے کرو، فلاں کلمات پڑھو، اس کی خوشی کیلئے بھوکے رہو، اور اس کے غیض و غضب سے بچنے کیلئے فلاں کام نہ کرو۔ مزید یہ کہ خدا جس انسان سے محبت کرتا ہے، تم بھی اسکے ساتھ محبت کرو۔

جبکہ خدا خود کہتا ہے کہ وہ کسی کا رشتے دار نہیں نہ کوئی اسکا رشتے دار ہے۔ اسکے کوئی جذبات نہیں۔ اس کائنات کا حجم اور اسکے پیچھے چھپے راز اور ہر ہر تخلیق کی ایگزسٹنس کی منطق دیکھیں تو جسقدر بڑی ذات خدا کی ہے، ذروں جیسی انسانی مخلوق کے کسی عمل سے اس کے ہرٹ ہونے، ناراض ہونے، غیض و غضب کا شکار ہونے یا کسی کو سزا دینے کی میری نظر میں کوئی سینس نہیں بنتی۔ اسی طرح اسکے کسی بات پر خوش ہونے، محبت کرنے اور انفرادی طور پر کسی کو نوازنے کی منطق بھی نہیں بنتی۔ پھر بھلا کوئی خدا کا فیورٹ کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ فیورٹ بننے اور بنانے والی صرف ہماری اپنی انسانی سوچ ہو سکتی ہے۔

ہم جتنا مرضی انکار کریں مگر جس بھی مذہب کو اٹھا کر دیکھ لیں، ہم انسان خدا کو اپنے ہی جیسا جذباتی مگر بہت بڑا، طاقتور انسان سمجھنے پر مصر ہیں جو انفرادی طور پر ہر انسان سے ڈیل کر رہا۔

جبکہ اس ننھی سی دنیا کے ذرے برابر انسان کے  مائکروسکوپِک عمل کے جوابی ردعمل اور ہر اِن پٹ کی منطقی آؤٹ پُٹ دینے کیلئے اتنے عظیم اور لامتناہی سسٹم کے خالق کے بنائے انگنت قوانینِ قدرت ہی کافی ہیں۔ ایسی ذات کی پسند و ناپسند بھی منطق بیسڈ ہونی چاہئے ناں کہ پرسن سپیسیفک۔

مجھے مذاہب کی جو تعلیمات متاثر کرتی ہیں، اُن میں حقوق العباد جیسے کانسیپٹس کی سوسائٹی اور معاشرت کیلئے پرفیکٹ سینس بنتی ہے۔ اور اس کی بات سبھی مذاہب کسی ناں کسی صورت کرتے ہیں۔ مگر اسکی عدم فراہمی پر بھی حساب کتاب کرنے کیلئے خدا کو خود حرکت میں آنے کی بالکل ضرورت نہیں۔ اَن دیکھی شے پر یقین کی وجہ ہمارے علم کی کمی ہے۔ اگر ہر وقوعے کے وقوع پذیر ہونے کے پیچھے کے تمام حالات و واقعات و وجوہات کی ہر لڑی کا ادراک ہمیں حاصل ہو جائے تو کسی کیساتھ بھی کچھ اچھا یا برا ہونے کی منطق بھی ہم پر واضح ہو جائے گی۔

 

جدید معاشرت بغیر کسی مذہب کو فالو کیے اِن حقوق اور انصاف کی فراہمی اور اسکے نفاذ میں آگے بڑھ ہے، اور میری سوچ کو خوراک خوراک اور بڑھاوا اس فیکٹر سے ملتا ہے کہ اوورآل دنیا کی ترقی (اگر زندگی کے مختلف شعبہ جات میں پراگریس کرنا، علم و ٹیکنالوجی کی گروتھ، ھیومن رائٹس، سِوِک سینس، کمیونٹی سٹینڈرڈز، Gender equality، قوانین کی بالادستی اور انصاف کے نفاذ وغیرہ کو ترقی سمجھا جائے تو اِس ترقی) میں فی الحال مذاہب کا کردار یا کارفرمائی نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتی ہے۔ بالخصوص مذہب کا بینر اٹھانے والوں یا مذہب کی اجارہ داری والے علاقوں کی صورتحال اور بھی زیادہ مخدوش دکھائی دیتی ہے۔

اسلام - ایک لبرل دین

 اسلام کی شروعات میں یہ اُس زمانے کے حساب سے تبدیلی کا دین تھا۔ ایک ایسا لبرل مذہب تھا جس نے چودہ سو برس پرانی قدامت پسند روایات کی حوصلہ شکنی کی تھی۔ اِس کے انقلابی پن اور مقبولیت کی سب سے اہم وجہ اسکا ہلکا پھلکا ہونا اور عام آدمی کے مطلب اور آسانی کیلئے سیدھی سادی بات کرنا تھا۔ جو ایک بَدو کو بھی سمجھ آ جاتی تھی۔

مگر وقت گزرنے کیساتھ اس میں اکابرین کا بوجھ شامل ہوتا گیا۔ آج کے مسلمان کو اپنے ایمان کیلئے اللہ کے احکامات کیساتھ ساتھ صدیوں پر محیط اسلامک ہسٹری، اکابرین کے کردار، انکے طرزِ عمل، طرزِ زندگی پھر انکی رنگ برنگی تشریحات (جنہیں عہدِ حاٖٖٖٖٖٖضر کے مسائل پر میپ کرنا جوئے شیر لانے کی مترادف ہے) کو بھی ساتھ ساتھ اٹھائے رکھنا اور اکثر انکا دفاع بھی کرنا پڑتا ہے۔ آج خود کو مذہبی کہلوانے والا طبقہ ہی قدامت پسند روایات کا سب سے بڑا محافظ بنا دکھائی دیتا ہے۔
دوسری جانب مُلا نے اپنی افادیت اور ضرورت کو ناگزیر بنانے کی خاطر مذہبی علم کی ایسی دیوار کھڑی کر دی ہے کہ آج ایک پڑھے لکھے شخص کو بھی دین کی بات سمجھنے کیلئے علماء کی مدد درکار ہے۔

خدا

 جس طرح سائنس و دیگر مضامین میں رٹا لگا کر نمبر مل جاتے ہیں۔ اسلامیات میں بھی کانسیپٹ بلڈنگ کی بجائے رٹے پر ہی فوکس ہوتا ہے۔ اسلامی ہسٹری کی غیر متنازعہ چیزیں فلٹر کر کر کے نصاب بنا لیا جاتا۔ بچہ یاد کر کے نمبر لے لیتا، مگر جب وہی بچہ معاشرے میں مذہب اور مسلک کے نام پر وبال برپا دیکھتا تو کتابی دین اور معاشرے میں اسکا امپیکٹ اور اثرات اسے کنفیوز کرتے ہیں۔ نتیجتا وہ یاں تو شدت پسندی اڈاپٹ کر لیتا ہے یا پھر مذہب بیزار بن جاتا۔

مذہبی تعلیمات اور خدا بارے کانسیپٹس جو کتابوں میں سکھلائے جاتے ہیں ان میں سے اکثریتی کانسیپٹس کو عہدِ حاضر کیلئے obsolete اور غیر متعلقہ بنانے میں خود وہ کتابیں کردار ادا کرتی ہیں جو سینکڑوں ہزاروں برس قبل کسی مخصوص زمان و مکاں و حالات کے زیرِ اثر تحریر ہوئی تھیں۔ ہزاروں برس قبل عرب کے صحرائی کلچر کی مثالیں یا قرونِ اولی کے قصے آج ٹیکنالوجی بھری جدید لائف سٹائل کی حامل دنیا اور کائنات پر لاگو کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ چند پسماندہ ممالک کے سوا کوئی انکو فکشن سے بڑھ کر اہمیت نہیں دیتا۔ اور یہ بات دنیا کے سبھی مذاہب پر صادق آتی ہے۔
ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ اللہ انسانوں جیسی خصوصیات نہیں رکھتا، مگر آپ جس مرضی عالم کو پڑھ/سُن لیں، آپکو اندازہ ہو گا وہ خود خدا کو ایک بہت طاقتور اور بڑے انسان جیسی ہی کوئی جذباتی مخلوق تصور کرتے ہے، جو دور اُوپر کہیں بس حساب کتاب کرنے اور انعام و اکرام بانٹنے کیلئے بیٹھا ہے۔ میرے بھیا حساب کتاب تو بذاتِ خود ایک انسانی اور مادی شے ہے۔ خالقِ کائنات و جن و انس کی ذات تو ان میٹیریلسٹک محرکات، ذاتیات اور جذبات سے مبرا ہے۔ ہزاروں برس قبل رائج محدود نالج کے مطابق اگر کچھ مثالوں سے خدا کے تصور کو سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی تو اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ اب اگلے ہزاروں سال انہی پرانی محدود مثالوں پر ہی کانسیپٹ پکا کیے رکھیں۔
ہم بچپن میں کوئی سوال اٹھاتے تو ہمارے بڑے بزرگ ہمیں ڈانٹ ڈپٹ کے چپ کرا دیتے تھے (اور ہم احتراما خاموش رہتے) کہ ایسا سوچنے سے بھی گناہ ہوتا۔ اب میں سمجھ سکتا ہوں کہ جب بڑوں کے پاس کسی سوال کا جواب نہیں ہوتا تب پہلے مرحلے پر ڈانٹ ڈپٹ ہی ہوتی، پھر ڈراوے سے، خوف اور مار سے سوالات کا گلا گھونٹا جاتا ہے۔
آج ایک طرف ہم اپنے بچوں کو جدید علم کی دنیا میں فری تھنکرز بنانے کیلئے کوشاں ہیں، دوسری جانب ان کے اٹھائے ننھے سے سوالات کا جواب بھی دینے سے قاصر ہیں۔ میری دس سالہ بیٹی پوچھتی ہے کہ اسے سمجھ نہیں آتی کہ
Why all the times God is so personal and judgmental about his own creatures؟
ایک حقیر سے انسان کی کسی حرکت پر خدا غبضبناک کیونکر ہو سکتا ہے؟ اسی طرح خدا کا انسان پر صدقے واری ہونا یا ماؤں جیسا پیار کرنا بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔
بس جی بزرگوں نے کہہ دیا، کتابوں میں لکھا ہے تو یقینا ایسا ہی ہو گا۔ مگر جب آپ اپنی پوری زندگی میں ایک بار بھی اسکی عملی مثال دیکھ نہیں پاتے تو ایسے کانسیپٹ ساری زندگی کیسے اپنے ساتھ باندھ کر رکھ سکتے ہیں؟

دعائیں

 دعاؤں پر یقین اور اللہ کے ہوتے ہوئے کیا اچھا ہوسکتا تھا مگر نہیں ہوا، اور کیا برا نہیں ہونا چاہئے تھا مگر وہ ہو گیا۔
اس بارے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ خدا کی ذات ان سبھی چھوٹی انسانی سوچوں اور منطقوں سے مبرا اور کہیں اوپر ہے۔

اس نے ہمیں ایک بہت بڑے اور انٹیلیجنٹ سسٹم میں اتارا ہے، جہاں ہر شے لاجیکل اور قوانینِ فطرت کے ماتحت ہے۔ ایک خوردبینی جاندار کی کارستانیوں سے لیکر بین الاقوامی سیاست اور اس سیارے سے باہر کی لامتناہی دنیا بھی قوانینِ فطرت کے عین مطابق چل رہی۔
جو ان قوانین کے مطابق حالات کو دیکھتا اور سمجھتا ہے، اس کیلئے کچھ بھی اچنبھے کی بات نہیں۔
میرا نہیں خیال کہ اسقدر انٹیلیجنٹ سسٹم کو بنانے کے بعد بھی خدا ہم چیونٹی سے بھی بے ضرر انسانوں کے ننھے منے انفرادی مسائل اور پریشانیوں کی گتھیاں سلجھانے کا کام کرتا ہو گا۔ جو ہونا ہے اسی سسٹم کے تحت اور کسی کوشش اور حرکت کے نتیجے میں ہی ہونا ہے۔
دعاؤں کو شاید ہم نے ایک ٹُول سمجھ رکھا ہے، کہ جب مکمل بے بسی اور معاملات آؤٹ آف کنٹرول دکھائی دیں تو ہم قوانینِ فطرت کے الٹ اپنی کسی ڈیمانڈ کو دعا کی صورت پورا ہوتے دیکھنے کے متمنی ہو جاتے۔ سنی سنائی معجزاتی روایات اس سلسلے اور یقین کو بڑھاوا دینے کا کام کرتے ہیں۔ مگر آج تک اپنی گنہگار آنکھوں سے کچھ بھی غیر منطقی اور قوانینِ فطرت کے الٹ ہوتا نہیں دیکھا۔ دعاؤں کی کامیابی و ناکامی خدا کی ذات کو جانچنے کا کوئی پیمانہ ہرگز نہیں ہو سکتی۔

مڈل کلاس

وبا لاکھوں شہریوں کے روزگار کیساتھ ساتھ سلمان کی نوکری بھی کھا گئی تھی۔ تین ماہ سے بیروزگار سلمان آج بھی کرونائی گرمی میں ماسک لگائے کام کی تلاش میں شہر کے بازاروں کی خاک چھانتا پھرا۔ لگتا تھا صرف وہی نہیں پورا شہر کسی معاشی عفریت سے نبردآزما ہے۔ کوئی آٹے کو رو رہا تھا تو کوئی چینی کو اور کسی کو پیٹرول نہیں مل رہا۔ شام کو جب گھر لوٹا، اہلِ خانہ کے کسی سوال کا جواب اسکے پاس نہیں تھا۔ کافی عرصے بعد اس رات سے لوڈ شیڈنگ کی شروعات بھی ہو گئی۔ پسینے میں شرابور سلمان اور اسکی بیوی سوتے بچوں کو ہاتھ کا پنکھا جھل رہے تھے۔ تبھی سلمان نے مہینوں سے جاری اپنی چپ کا روزہ توڑتے ہوئے بیوی کو اپنے معاشی بحران سے آگاہ کیا۔ الفاظ زبان میں اٹک رہے تھے۔ اندھیرے میں پسینہ آنکھیں جھلسا رہا تھا، اشک اندر ہی اندر کہیں گر رہے تھے۔ چند بے بس سسکیاں سوالیہ نشانوں کی طرح گونج رہی تھی۔ جنکا کوئی جواب نہیں تھا
اگلی صبح ناشتہ کیے بغیر سلمان نے پھر بازار کا رخ کیا، رستے میں اچانک اس نے اپنا ماسک اتار کر جیب میں رکھ لیا اور بغیر ماسک پہنے بازار کی بھیڑ میں گھس گیا۔

سروائیول

ملک صاحب آپکا بہت شکریہ کہ بوجوہ لاک ڈاؤن سکول بند ہونے پر بھی آپ ہر ماہ باقاعدگی سے بچے کی فیس جمع کراتے ہیں۔ فیس کی رسید پکڑاتے ہوئے سکول ایڈمنسٹریٹر سہیل تشکر بھرے انداز میں گویا ہوا۔
"سہیل بھائی، بھلے سکول بند ہیں، بجلی و دیگراخراجات آپکو ادا نہیں کرنا پڑ رہے، مگر سکول کی عمارت کا کرایہ تو دینا پڑ ہی رہا ہو گا ناں۔ پھر بچوں کی فیس آپکو ملنا تو اس لیے بھی ضروری ہے کہ آپ نے اپنے سٹاف کو تنخواہیں جو دینا ہوتی ہے۔ گو کہ اِس صورتحال میں ہم کاروباری اشخاض خود بڑی مشکل سے گزارہ کر رہے ہیں، مگر کوشش ہے کہ وبا ختم ہونے تک یہ سسٹم کسی طور سروائیو کرتا رہے۔ سبھی کو تنخواہ ملتی رہے۔ اساتذہ بیروزگار نہ ہوں۔ سب کے گھر کا چولہا چلتا رہے"۔
"بالکل ملک صاحب اس مشکل میں یہ بات اگر ہم پڑھے لکھے لوگ نہ سمجھیں گے تو پھر کون سمجھے گا"
فیس جمع کرا کے وہ سکول سے نکل رہے تھے تو گیٹ پر تعینات پرانا گارڈ اور سکول میں چھوٹے بچوں کو سنبھالنے والی آیا ملک صاحب کی جانب لپکے۔
"صاحب جی، کچھ ہماری بھی مدد کر دو۔ قسم سے گھرکا خرچہ چلانا دوبھر ہو گیا ہے، سکول والوں نے تین ماہ سے تنخواہ نہیں دی اور کام بھی لئے جا رہے ہیں، تنخواہ کا سوال کرو تو اس مشکل گھڑی میں نوکری سے فارغ کرنے کی دھمکی لگا دیتے ہیں"

ؤالدین

زندگی بیحد مختصر ہے، یہ کوئی ریہرسل نہیں چل رہی کہ کسی کی غلطی یا غلط فیصلے کی سزا کوئی دوسرا زی روح چپ چاپ بھگت کر اپنی زندگی کو جہنم بناتا رہے۔ بزرگ بھی اکثر و بیشتر غلطیاں کرتے ہیں اور اکثر انھیں بھی درستی کی ضرورت ہوتی ہے۔ محض کسی کے احترام میں اپنی زندگی تیاگ دینا اولڈ فیشن ہو چکا ہے۔
بنیادی طور پر والدین اٹھارہ سال کی عمر تک کے بچے کو پالنے کے ذمے دار ہیں۔ اور یہ بچوں پر کوئی احسان ہرگز نہیں بلکہ یہ اُن بچوں کو اِس دنیا میں لانے کے فیصلے کا کفارہ ہے کہ انھیں اب دنیا کی باگ ڈور سنبھالنے کے قابل بنانا بھی انھی والدین کی ذمے داری ہے جو اسے دنیا میں لیکر آنے کی وجہ بنے۔
مگر ہمارے ہاں والدین خود کو بچوں کا مالک تصور کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں کا فنانشل سماجی سسٹم اسقدر کھوکھلا ہے کہ یہاں بچہ پیدا کرنے کا بنیادی محرک ہی دراصل اپنے "بڑھاپے کا سہارا" پیدا کرنا ہوتا ہے۔ جبھی ہر کسی کو لڑکا چاہئے جو کماؤ پوت بن سکے۔ وہ اپنے بڑھاپے کے اس سہارے کو اپنے بڑھاپے تک سنبھال سنبھال کے رکھنا چاہتے ہیں۔ جبھی لاشعوری طور پر بچے کو آزاد ہوتا یا فیصلے کرتا دیکھنا ہی نہیں چاہتے، اور اٹھارہ سال کے بعد بھی ان کی زندگی کا ہر فیصلہ کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ انگنت زندگیاں ایسے ہی متصادم فیصلوں کی ںذر ہو جاتی ہیں
اِن شارٹ ہمارے ہاں insecurities کا کلچر رائج ہے، والدین خود بھی insecure ہوتے ہیں، اور وہ اپنی اولاد کو بھی اپنے بغیر insecure رہنے کا عادی بناتے ہیں۔

ڈیپریشن

 ہم اپنے نوجوانوں کو سمجھانے میں ناکام رہے ہیں کہ زندگی اسقدر بے وقعت نہیں جتنی انھیں محسوس ہو رہی ہے۔ مزید یہ کہ ہم بھاشن دیتے ہیں کہ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ بہتری آئے گی۔ امید قائم رکھو۔ محنت جاری رکھو وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ اب اس بے حس اور اخلاقی طور پر پاتال پذیر معاشرے میں ہمیں خود اپنی یہ باتیں بے وزن معلوم ہونے لگی ہیں۔ جب بار بار کی امید کے بعد بھی مایوسی اور اندھیرا ہی مقدر دکھائی دیتا ہے تو زندگی دھندلی اور اسکے لوازمات بے معنی معلوم ہوتے ہیں

سگریٹ نوش کی بیوی


کیا آپ نے کبھی اس عورت کی اذیت کا اندازہ کیا جسے سگریٹ حتی کہ اسکی تک بدبو سے بھی چڑ ہوتی ہے مگر اُسے ساری زندگی  کسی چَین سموکر کیساتھ گزارہ کرنا پڑتا ہے اورنام نہاد کمپرومائز کی بدولت وہ علیحدگی کا تصور بھی نہیں کر سکتی 

دوست کی موت پر

ہم سب انسان ایک جگسا پزل (Jigsaw Puzzle) کی طرح ہیں، ہم بہت سے ٹکڑوں کیساتھ مل کر مکمل ہوتے ہیں۔ مگر اس پزل کے صرف کچھ ہی ٹکڑے ہمارے پاس ہوتے ہیں۔ بقیہ سبھی ٹکڑے ہمارے اردگرد ہمارے آشناؤں کے پاس، ہمارے کمرے، گلی محلے، شہر میں، اور جہاں جہاں ہماری اپروچ ہوتی ہے، وہاں وہاں اس پزل کے ٹکڑے جابجا بکھرے پڑے ہیں۔ ماسوائے ہمارے چاہنے والوں کے کسی کو اتنی فرصت اور دلچسپی نہیں ہوتی کہ ان ٹکڑوں کو جوڑے اور ہمیں مکمل سمجھ سکے۔
آپکی وفات کا سن کر پہلے تو مجھے سچ مچ بہت زیادہ افسوس ہو گا۔ اور شاید کچھ دن میں اس بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکوں۔ پھر شاید کچھ دن بعد ایک کف افسوس ملتی پوسٹ کروں جس میں آپ سے متعلق ان تمام جذبات کا بے دھڑک اظہار ہو گا جو ابھی آپ سے کہنے کی ہمت نہیں ہے۔ مگر شاید ایک پوسٹ کر کے میری تسلی نہ ہو۔
شاید میں آپ کے قریبی دوستوں اور فیملی سے بھی رابطہ کر کے انھیں بتانے کی کوشش کروں کہ میری نظر میں آپ کیسے انسان تھے یا جس زاویے سے جسقدر بھی میں نے آپکو دیکھا اور سمجھا ہے وہ بتلا سکوں۔ شاید کہ میرے پاس آپکے پزل کا جو ٹکڑا ہے، اسے جوڑ کر کہیں کسی کی یاداشتوں میں آپکی تصویر اور کہانی مکمل ہو سکے۔