ڈِسکونیکٹڈ
آج سحری کے بعد اپنے گھر کی چھت پر واک کرنے چلا گیا، تپتے دن کے برعکس اچھی ہوا چل رہی تھی، سب کچھ نارمل ہی تو تھا، لیکن نہیں !! سب کچھ ہی تو بدل چکا ہے. پہلے ہماری چھت سے تاحد نگاہ نظر جایا کرتی تھی، اب اتنے اونچے گھر بن گئے ہیں کہ پندرہ بیس گھروں سے آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا.
.
فیصل آباد کا یہ وہ محلہ ہے جہاں میں نے بچپن اور لڑکپن گزارا اور اسلام آباد / لاہور نوکری کے باوجود اس گھر اور محلے سے رابطہ منقطع نہ ہو سکا. ہر ویکینڈ پرلوٹ کر یہیں آتا تھا. پھر فیملی کے ساتھ لاہور شفٹ ہو گئے. آج کل یہاں چھٹیاں منانے کو آئے ہیں.
.
اپنے اردگرد بکھرے گھروں اور گلیوں پر طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے میں دس، پندرہ، بیس اور پچیس سال پیچھے چلا گیا....... "کیا لیگیسی ہے اس چھت اور محلے کی !!! " اس محلے کی گلیوں کے رستے اور کونے میرے قدموں کو نہ بھولنے والے سبق کی طرح زبانی یاد ہیں اور اس چھت پر کھڑے کھڑے کتنی ہی کہانیاں ہیں جو میں سنا سکتا ہوں
.
واک کے دوران ماضی کی بہت سی رینڈم ویڈیوز میرے دماغ میں چلنے لگیں. اسی چھت پر زندگی کی کیسی کیسی بہاریں اور خزائیں دیکھ رکھی ہیں، ہر سال بسنت منائی جاتی تھی، کٹی پتنگیں پکڑنے کو ہمسایوں کی دیواریں پھلانگیں اور ڈانٹ کھائی. سردیوں میں دھوپ سینکنے کے ساتھ ان گنت کینو مالٹے بھی کھائے اور یہیں بیٹھ کر سکول کالج کی کتابوں کے رٹے بھی لگائے. جب پینٹنگ کا جنون ہوا تو یہیں چھت پر بنے سٹور میں پورا پورا دن بیٹھ کر پینٹنگز بھی بنائیں. یہاں شب برات پر پھلجڑیاں اور انار بھی پھوڑے، جشن آزادی پر جھنڈیاں لگائیں، انہی دیواروں پر چراغاں بھی ہوا کرتا تھا اور باربی کیو پارٹیاں بھی مناتے رہے.
.
بچپن میں اسی چھت پر ہم سب بہن بھائی اور کزنز شور مچاتے بے مقصد بھاگ دوڑ کرتے تھے اور نچلی منزل سے ابو جی کی گرجدار آواز پر قدم وہیں کے وہیں جم جاتے، مگر پھر تھوڑی دیر بعد وہی اچھل کود.
.
یہ سب سوچتے ہوئے خودبخود اک مسکان میرے چہرے پر دوڑ گئی ......... مگر اب کتنی ویران ہے یہ چھت، بسنت تو ویسے ہی ختم ہو گئی، گلے کٹتے ہیں لوگ مرتے ہیں، بے فائدہ تہوار....کتابیں پڑھنے کے لئے اب چھت پر کیوں آئے کوئی، بچوں کو ہم خود ہی چھت پر نہیں آنے دیتے کہ اکیلے میں کوئی چوٹ نہ لگ جائے. پینٹنگ کا سارا سامان لاہور منتقل کر لیا، یہ الگ بات کہ وہاں بھی اس ایکٹیویٹی کیلئے ٹائم نہیں نکل پاتا. کسی تہوار پر جھنڈیوں اور موم بتیوں پر کون وقت برباد کرے. وہی جھنڈیاں بعد میں پیروں تلے آتی ہیں تو بے حرمتی ہوتی ہے. اس کے علاوہ بھی اب کوئی چھت پر شاذوناذر ہی آتا ہے.
.
میں پھر محلے کی جانب متوجہ ہوا، پہلے سحری کے بعد لاؤڈ سپیکروں کا ایک شور بپا ہوتا تھا. دور دور سے اذانوں اور صلواتوں کی آوازیں آیا کرتی تھیں، اب تو شاید لاوڈ سپیکر پر پابندی لگ گئی ہے،.... اچھا ہی ہوا.... لیکن پہلے سحری میں بہت اہتمام ہوا کرتا تھا ہر گھر جاگ اٹھتا تھا، اب ویسا کیوں نہیں ہے؟ محلے کے بہت سے گھر یوں تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے جیسے وہاں سحری کے لئے کوئی جاگا ہی نہ ہو. کیا روزہ رکھنے کا ٹرینڈ ختم ہو رہا ہے؟ پہلے محلے کے بچے اور لڑکے غول در غول مسجدوں کو جایا کرتے تھے، ایک دوسرے کے گھروں پر جا کر جگایا کرتے تھے ..... اب ہم اپنے بچوں کو محلے کے بچوں سے دوستی کا رسک ہی نہیں لینے دیتے ... کیونکہ گلی محلوں کا ماحول ہی بہت خراب ہو گیا ہے. اور ویسے بھی بچے سکول ، موبائل، ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ سے بھی اتنا کچھ سیکھ لیتے ہیں دوستوں کی ضرورت ہی کیا ہے ؟
.
نچلے کمروں میں لگے اے سی کے آؤٹر یونٹ جو اب چھت پر دھرے ہیں اچانک مجھ پر گرم ہوا پھینکنے لگے، چھت پر کھڑے ہونا مشکل ہو گیا. کمروں میں فیملی والے اور بچے سوئے پڑے ہیں. گرمیاں تو ہمارے بچپن میں بھی ہوتی تھیں. چھت پر پانی کا چھڑکاؤ کر تے، ترتیب وار چارپائیاں بچھا کر سب سو جاتے.تب پنکھوں سے گزارا ہو جاتا تھا، ابھی ایک منٹ کے لئے لائٹ چلی جائے تو یو پی ایس کام شروع کر دیتا ہے. اور بیشک ہزاروں روپوں کا بل آئے لیکن بچوں کے لئے اے سی بند نہیں ہونا چاہئے. بچے بھی ان سہولتوں کے عادی ہو گئے ہیں اور ہم بھی.
.
میں نے نظر دوڑا کر جائزہ لیا تو محلے کے تقریبا ہر گھر کی چھت اور دیوار پر جابجا اے سی آؤٹر یونٹ نصب تھے. سب کچھ ہی تو بدل گیا ہے.
------
- خرّم امتیاز

ہر زمانے کی اپنی دلچسپیاں اور مشاغل ہوتے ہیں ۔۔۔ تحریر اچھی ہے ۔
جواب دیںحذف کریں