ایک خط - بنام مسٹر اینڈ مسز جاوید مرزا
پیارے تایا اور تائی جی
.
السلام علیکم!
.
کے بعد عرض ھے کہ مدتوں بعد بالآخر آپ دونوں کو زندگی نے گزشتہ برس بڑی مشکل سے دریافت کیا تھا اور دل ہی دل میں اس بات کی انجانی سی خوشی تھی کہ آپ سے بارہا مل کر لاہور میں ہمارا بھی دل لگا رھے گا ____ یقین مانئے کہ پہلی ملاقات کے بعد سے آپ کے درشن کرنے کا کوئی موقع اگر قصدًا ضائع نہیں کیا ھو تو مجرم ھوں. اور جب آپکے پاکستان سے جانے کے ارادے کی بھنک پڑی ___ سچ کہوں تو بالکل اچھا نہیں لگا تھا. احساسات پر گویا خود غرضی سی غالب آ گئی ھو ___ دل سے دعا کی کہ آپ کا ویزا نہ لگے ___ پھر آپ نے بتایا کہ دو سال کے ویزے کی ٹرائی کر رھے ھیں تو دعا کی کہ ایک سال سے زیادہ کا ویزا نہ لگے. لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دعا کی کے مصداق بس مقدر بنانے والے نے ہماری تقدیر میں دوری لکھ رکھی تھی.
.
پاکستان میں آپ سے آخری ملاقات کے دن ایک بار پھر ھر احساس کے عارضی ہونے کا یقین دل میں سر اٹھا رھا تھا. دل میں گویا یہی فقرے بار بار گونج رھے تھے کہ "دو سال تو بہت زیادہ ھیں ____ اور کل کس نے دیکھا ھے؟ ___ یا قسمت یا نصیب "
انہی سوچوں کے درمیان آپ ہمارے رشتے کی تمام تر گرمجوشی رد کرتے ہوئے کسی انتہائی سرد دیس کی یاترا کو چل دئیے. اور اس برفانی ماحول میں بھی خوش خوراکی پر آپکا مسلسل فوکس دیکھتے ہوئے بے اختیار آپ دونوں کو 'کینیڈین بٹ' کا خطاب دینے کو دل کرتا ھے.
.
گزشتہ سال آپ دونوں کے ہمراہ بِتائے تمامتر بے لوث لمحوں، انمول شفقت، یادگار محفلوں، لذیذ بریانی اور نشہ آور گلاب جامنوں کو میں بیحد مِس کرتا ھوں.
.
روزانہ آپکی تصویروں اور کمنٹس میں آپکو دیکھ کر بس یہی خیال آتا ھے کہ زندگی کسقدر چھوٹی ھے مگر دوریاں اور خواھشیں کتنی بڑی. خود کو یہی یقین دلاتے ھیں کہ آپ پردیس میں اپنوں کیساتھ خوش ھیں اور ہمیں آپ دونوں سے دوری کے احساس پر افسردہ ہونے کی بجائے آپکی اپنے پیاروں کے درمیان اصل خوشی میں خوش ہونا چاہئے،
.
دعا ھے کہ دو برس چٹکی بجاتے میں گزر جائیں اور آپ اپنی تمامتر حشر سامانیوں کے ساتھ ایک بار پھر ہماری زندگی میں جلوہ گر ھوں گے. آمین
.
فقط آپکا خود ساختہ بیٹا
- خرّم امتیاز -
.
السلام علیکم!
.
کے بعد عرض ھے کہ مدتوں بعد بالآخر آپ دونوں کو زندگی نے گزشتہ برس بڑی مشکل سے دریافت کیا تھا اور دل ہی دل میں اس بات کی انجانی سی خوشی تھی کہ آپ سے بارہا مل کر لاہور میں ہمارا بھی دل لگا رھے گا ____ یقین مانئے کہ پہلی ملاقات کے بعد سے آپ کے درشن کرنے کا کوئی موقع اگر قصدًا ضائع نہیں کیا ھو تو مجرم ھوں. اور جب آپکے پاکستان سے جانے کے ارادے کی بھنک پڑی ___ سچ کہوں تو بالکل اچھا نہیں لگا تھا. احساسات پر گویا خود غرضی سی غالب آ گئی ھو ___ دل سے دعا کی کہ آپ کا ویزا نہ لگے ___ پھر آپ نے بتایا کہ دو سال کے ویزے کی ٹرائی کر رھے ھیں تو دعا کی کہ ایک سال سے زیادہ کا ویزا نہ لگے. لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دعا کی کے مصداق بس مقدر بنانے والے نے ہماری تقدیر میں دوری لکھ رکھی تھی.
.
پاکستان میں آپ سے آخری ملاقات کے دن ایک بار پھر ھر احساس کے عارضی ہونے کا یقین دل میں سر اٹھا رھا تھا. دل میں گویا یہی فقرے بار بار گونج رھے تھے کہ "دو سال تو بہت زیادہ ھیں ____ اور کل کس نے دیکھا ھے؟ ___ یا قسمت یا نصیب "
انہی سوچوں کے درمیان آپ ہمارے رشتے کی تمام تر گرمجوشی رد کرتے ہوئے کسی انتہائی سرد دیس کی یاترا کو چل دئیے. اور اس برفانی ماحول میں بھی خوش خوراکی پر آپکا مسلسل فوکس دیکھتے ہوئے بے اختیار آپ دونوں کو 'کینیڈین بٹ' کا خطاب دینے کو دل کرتا ھے.
.
گزشتہ سال آپ دونوں کے ہمراہ بِتائے تمامتر بے لوث لمحوں، انمول شفقت، یادگار محفلوں، لذیذ بریانی اور نشہ آور گلاب جامنوں کو میں بیحد مِس کرتا ھوں.
.
روزانہ آپکی تصویروں اور کمنٹس میں آپکو دیکھ کر بس یہی خیال آتا ھے کہ زندگی کسقدر چھوٹی ھے مگر دوریاں اور خواھشیں کتنی بڑی. خود کو یہی یقین دلاتے ھیں کہ آپ پردیس میں اپنوں کیساتھ خوش ھیں اور ہمیں آپ دونوں سے دوری کے احساس پر افسردہ ہونے کی بجائے آپکی اپنے پیاروں کے درمیان اصل خوشی میں خوش ہونا چاہئے،
.
دعا ھے کہ دو برس چٹکی بجاتے میں گزر جائیں اور آپ اپنی تمامتر حشر سامانیوں کے ساتھ ایک بار پھر ہماری زندگی میں جلوہ گر ھوں گے. آمین
.
فقط آپکا خود ساختہ بیٹا
- خرّم امتیاز -
0 comments: