فوبیا فرینڈشپ
"فوبیا فرینڈشِپ"
اپنی زندگی میں ہم سبھی کسی ناں کسی فوبیا کا شکار ہوتے ہیں۔ اکثر ہم انھیں تمام عمر شناخت ہی نہیں کر پاتے۔ اور اکثر ہم جانتے بوجھتے انھیں ڈسکس نہیں کرتے۔ جہاں انکا تذکرہ ہونے کا احتمال ہو ہم موضوع بدل دیتے ہیں، مصنوعی ڈائیلاگز کیساتھ وقت گزار لیتے ہیں یا پھر موقع سے رفوچکر ہو لیتے ہیں۔ مگر بیشتر کیسز میں فوبیاز تمام زندگی ساتھ چلتے اور کبھی ختم نہیں ہوتے۔
اپنے فوبیاز کو ختم کرنے کی بجائے اِنکے ساتھ دوستی کرنے کی کوشش کریں پھر وہ آپ کو ڈرائیں گے نہیں. فوبیاز سے دوستی کرنے کے لئے ان کو اکثروبیشتر ڈسکس کریں. انہیں دہرائیں.. کبھی اُن کے تذکرہ کرتے ہوئے خود اپنا مذاق بنائیں۔ اپنے فوبیاز کے ساتھ کھیلیں، اُنہیں کبھی کبھار ٹچ کرنے کی کوشش کریں. اُن کے قریب قریب سے جان بوجھ کر گزریں
(بس اتنا قریب کہ جس میں کسی نقصان کا احتمال نہ ہو)
کچھ ایسا ہی کہنا ہے میرے ایک دوست کا جو اپنے فوبیاز کے ساتھ لاڈیاں کرتا ہے. مثلاً اُسے انجان فون نمبر سے کال آنے پر تشویش اور دھڑکا لگ جاتا ہے، مگر وہ فون سرہانے رکھ کر سوتا ہے۔ اسے اونچائی سے ڈر لگتا ہے مگر خود کو یہ سمجھا کر جہاز کی کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ کیا ہو جائے گا؟ خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو گیا تو کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ کس سیٹ پر بیٹھے ہو.
حقیقی نفسیاتی مسئلہ تب درپیش ہوتا ہے. جب آپ اپنے کسی فوبیا سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور تب اس فوبیا کا ذکر ہی آپ کے دل میں ڈر پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے.
- خرم امتیاز
اپنی زندگی میں ہم سبھی کسی ناں کسی فوبیا کا شکار ہوتے ہیں۔ اکثر ہم انھیں تمام عمر شناخت ہی نہیں کر پاتے۔ اور اکثر ہم جانتے بوجھتے انھیں ڈسکس نہیں کرتے۔ جہاں انکا تذکرہ ہونے کا احتمال ہو ہم موضوع بدل دیتے ہیں، مصنوعی ڈائیلاگز کیساتھ وقت گزار لیتے ہیں یا پھر موقع سے رفوچکر ہو لیتے ہیں۔ مگر بیشتر کیسز میں فوبیاز تمام زندگی ساتھ چلتے اور کبھی ختم نہیں ہوتے۔
اپنے فوبیاز کو ختم کرنے کی بجائے اِنکے ساتھ دوستی کرنے کی کوشش کریں پھر وہ آپ کو ڈرائیں گے نہیں. فوبیاز سے دوستی کرنے کے لئے ان کو اکثروبیشتر ڈسکس کریں. انہیں دہرائیں.. کبھی اُن کے تذکرہ کرتے ہوئے خود اپنا مذاق بنائیں۔ اپنے فوبیاز کے ساتھ کھیلیں، اُنہیں کبھی کبھار ٹچ کرنے کی کوشش کریں. اُن کے قریب قریب سے جان بوجھ کر گزریں
کچھ ایسا ہی کہنا ہے میرے ایک دوست کا جو اپنے فوبیاز کے ساتھ لاڈیاں کرتا ہے. مثلاً اُسے انجان فون نمبر سے کال آنے پر تشویش اور دھڑکا لگ جاتا ہے، مگر وہ فون سرہانے رکھ کر سوتا ہے۔ اسے اونچائی سے ڈر لگتا ہے مگر خود کو یہ سمجھا کر جہاز کی کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ کیا ہو جائے گا؟ خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو گیا تو کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ کس سیٹ پر بیٹھے ہو.
حقیقی نفسیاتی مسئلہ تب درپیش ہوتا ہے. جب آپ اپنے کسی فوبیا سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور تب اس فوبیا کا ذکر ہی آپ کے دل میں ڈر پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے.
- خرم امتیاز
0 comments: