کیا لٹریچر کسی کی سوچ اچھی بنا سکتا ھے؟

میں نے آج تک لٹریچر کی بدولت کسی کی سوچ بدلتے نہیں دیکھی. انسان مجموعی حثییت میں ویسا ہی رہتا ھے. یہی وجہ ھے کہ آپ کو ادباء میں بھی ہر رنگ کے نمونے مل جایئں گے. جن لوگوں کا لکھا لٹیرجر ہم پڑھ کر اپنی شخصیت سنوارنے کی بات کر رھے ہیں ، پہلے ان لکھنے والوں کی اپنی شخصیات کی صف بندی تو ذرا کیجئے.ہر طرح کی ورائٹی دستیاب ہے لٹریچر لکھنے والوں میں ہی. 

حسد کرنے والے بھی، پیار کرنے والے بھی، ٹانگ کھینچنے والے بھی، جلتی پر تیل ڈالنے والے بھی، لالچی بھی، سخی بھی، جھوٹے لوگ، سچے لوگ ، نفسیاتی الجھنوں کا شکار بھی، لبرل بھی، کنزرویٹیو بھی، دھڑے بندیاں کرنے والے بھی اور سب کو جوڑ کر مل ملا کر چلنے والے بھی، مزاروں اور صوفی بزرگوں کے پیچھے جانے والے بھی، اور صوفی ازم سے انکاری بھی، دوست بھی، دشمن بھی، مغرور بھی، مسجود بھی، نشے میں چور شرابی بھی اور زانی بھی، حاجی بھی اور دھریئے بھی....

جناب نہ ادب کی کوئی حد ھے اور نہ ہی ان ادیبوں کی رنگ برنگی ورائٹیوں کی کوئی کمی ھے.

تو جب ان پڑھ لوگوں میں بھی انہی تمام خصلتوں کے لوگ پائے جاتے ہیں، درمیانے درجے کے پڑھے لکھے لوگوں میں بھی اوپر بیان کی گئی تمام ورائٹیاں پائی جاتی ہیں اور بلند پایہ اعلی ادب پڑھنے اور لکھنے والے بھی انہی شخصیات میں بٹے نظر آتے ہیں. تو میرا نہیں خیال کہ یہ دنیاوی علم اور فکشن کسی کی بنیادی شخصیت میں رتی بھر بھی تبدیلی کا باعث بنتا ھے..... ہاں مختلف معاملات میں نالج ضرور بڑھتا ھے، انسان کو مختلف موضوعات پر چپڑ چپڑ باتیں ضرور کرنا آ جاتی ہیں. لیکن جب میں خود بلند پایہ ادبی لوگوں کو گری پڑی حرکتیں کرتا دیکھتا ہوں، تو میرا یقین اور پختہ ہو جاتا ھے، کہ یہ دنیاوی تعلیم درحقیقت انسانی خصلت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی. یہ انسان کی اپنی زندگی کے پے درپے حالات و واقعات ہی ہیں، وہ ذاتی زندگی میں درپیش تجربہ و مشاہدہ، ٹھوکریں اور تھپکیاں، دوستیاں اور دشمنیاں، بوسے اور گالیاں ہی ہیں، جو آپ کی شخصیت بناتی ہیں.

"میں" وہ نہیں ہوں، جو میرے ہاتھ میں پکڑی کتابوں میں لکھا ھے، بلکہ میرے چہرے کے اک اک زخم اور جھریوں سے مل کر "میں" بنا ہوں


 کیا علم و ادب کی باتیں کر لینا، مختلف مضوعات پر چرب زبانی کر لینا، لمبی لمبی اور گہری گہری باتیں کر لینا، فلسفے بگھار لینا ہی شخصیت میں بہتری کی علامات سمجھی جاتی ہیں؟ اگر ایک صاحب_مطالعہ شخص بھی اپنی ذاتی زندگی میں کوئی بہتر کردار ادا کرتا نظر نہیں آتا، اور ایک ان پڑھ شخص انہی معاملات کو زیادہ بہتر انداز میں نبھاتا نظر آئے، تو شخصیت پر مطالعے کے اثرات کہاں ہیں؟ 

کیا لٹریچر صرف "دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ھے" والا کام نہیں کرتا؟؟؟ کیا یہ اثرات صرف ذاتی تسکین کی حد تک نہیں ہیں؟ کیا مطالعہ کے بعد ایک شخص اپنی ازدواجی زندگی میں ایک ان پڑھ کی نسبت زیادہ بہتر شوھر ثابت ہو جاتا ھے؟ کیا صاحب_مطالعہ لوگ اپنے والدین کی زیادہ بہتر خدمت کرتے ہیں؟ کیا صاحب_مطالعہ لوگوں میں جذبہ حب الوطنی ان پڑھ لوگوں سے بڑھ جاتا ھے؟ کیا کتابیں پڑھ لینے سے انسان تمام ذاتی برائیوں سے دور ہو جاتے ہیں؟ شخصیت کا نکھار کہاں ھے؟


 جناب، میں تو اس اثر کو "انتہائی مختصر" یا پھر بےاثر کہوں گا. بلکہ منفی اثرات کہنا چاہئے. کیونکہ ادب کا لبادہ اوڑھ کر انسان اپنی اصل شخصیت کو چھپائے لوگوں کو بہتر ڈاج کرنا شروع کر دیتا ھے. یہ علم و ادب اور فلسفے کا wrapper انسان کو کم سٹریٹ فارورڈ، زیادہ ڈپلومیٹک اور انتہائی مخفی بنا ڈالتا ھے. مگر بحثیت_مجموعی، مختلف معاملات میں اس کی مثبت و منفی کردار پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا.

اشفاق احمد صاحب اپنی تحریروں میں جن بابوں کا ذکر کرتے ہیں، انہوں نے کتنی کتابیں پڑھ رکھی ہوتی ہیں؟ اور بانو قدسیہ کا راجہ گدھ پڑھ کر کتنے قاری ہیں جنہوں نے ذاتی زندگی میں حلال و حرام کو صحیح معنوں میں امپلیمنٹ کر ڈالا ھو؟ یہ لٹریچر کا شوق دراصل صرف اور صرف مطالعہ کی حد تک اپنے نفس کی تسکین اور ادبی محافل میں بڑھ چڑھ کر نالج جھاڑنے کی دوڑ ھے، اور کچھ بھی نہیں. اور انسان کی اچھے، برے، مثبت و منفی، نفیس، درد مند، سخی، جارح یا مستقل مزاج رویوں سے ادب کا کچھ بھی لینا دینا نہیں. 

عمران خان نے خود اقرار کیا کہ وہ اپنی مصروف ترین زندگی کے باعث کتب سے دور رہا، تو کیا شوکت خانم جیسے مقصد کے حصول کے لئے اس کو کتابوں کی ضرورت کیوں نہ پڑی؟ عبدالستار ایدھی صاحب بھی فلاحی کاموں میں ایسے جتے کہ کتابوں کی دوڑ سے ہی آگے نکل گئے. راشد منہاس نے اٹھارہ سالہ زندگی میں وہ دانشوروں کا کونسا لٹریچر پڑھ لیا تھا جس نے اسے اپنا طیارہ زمین پر ٹکرا دینے کا حوصلہ دیا؟

میرا تو یہی مشاہدہ ھے کے جتنا پڑھو گے، اتنے ہی آپ کے جذبے خالص پن سے عاری ہوتے جاتے ہیں. لٹریچر پڑھنا ہمیں ہمارے جینوئن پن سے دور کرتا جاتا ھے، ھم دوسروں کی سوچ سوچنا شروع کر دیتے ہیں، دوسروں کی سوچ کو اپناتے اپناتے ہماری اپنی سوچ بھی ہماری نہیں رھتی.


کتابیں پڑھ پڑھ کر سوچ اڈاپٹ کرنا اور پھر اس کا ہر معاملے میں پرچار کرنا ایک الگ چیز ھے اور اپنی اصل شخصیت اور عقآید کو اس اڈاپٹڈ سوچ کے پیچھے چھپائے چھپائے رکھنا ایک الگ چیز. آپ کی اصل سوچ وہ ھے جو آپ کے پریکٹیکل معاملات میں سامنے آتی ھے. دوسری وہ اڈاپٹ کی ہوئی (اکثر اچھی) سوچ جس کے لبادے میں ، ہم اپنے آپ کو لپیٹ کر پیش کرتے ھیں. (اور یہ وہی کتابوں کے زیر_اثر سوچ ہوتی ھے)

مثال کے طور پر میں (کتابوں سے adopt کی ہوئی سوچ کو لے کر) سوشلی اپنے مضامین میں حقوق_نسواں کے متعلق لبرل عقائد کی باتیں کرتا پھروں. لیکن جب میرے اپنے گھر کی خواتین کو وہی آزادی درکار ھو تو میں قدامت پسند رویہ ہی ظاہر کرتے ہوئے کچھ مختلف اقدام کروں. اس سے میری ڈپلومیٹک پروان چڑھی ہوئی شخصیت سامنے آئے گی (یعنی ظاہرا میں جس مرضی سوچ کا اظہار کروں، لیکن اندر سے میں رھوں گا ایک قدامت پسند انسان ہی) .... اگر آپ نظر دوڑائیں ہمارے معاشرے میں یہی چیز وافر مقدار میں ہو رہی ھے، کیونکہ لوگوں کی اپنی شخصیت، عقل اور عقائد کے مابین ہی مڈبھیڑ جاری ھے. جیسے جیسے انسان علم حاصل کرتا جاتا ھے، شخصیت کا یہ دوغلا پن بڑھتا ہی جاتا ھے.

پڑھ پڑھ علم تے فاضل ھوییں تے کدے اپنے آپ نوں پڑھیا نھیں
بھج بھج وڑناں اے مندر مسیتی تے کدے من اپنے وچ وڑیا نھیں
لڑنا روز شیطان دے نال تے کدے نفس اپنے نال لڑیا نھیں
بلھے شاہ آسمانی اڈدیاں پھڑو نھیں، جیہڑا گھر بیٹھا اوہنوں پھڑیا نھیں

عمران قاضی

عمران قاضی کا تعلق ہانگ کانگ سے ھے. وہیں پیدا ہوئے، نوجوانی میں تعلیم کی غرض سے پاکستان آئے، اور پھر بیاہ کر واپس ہانگ کانگ چلے گئے. اب وہیں زندگی کا سفر جاری رکھے ہوئے ھیں. شعبہ تدریس سے منسلک ھیں.  ہماری ابھی تک ملاقات نہیں ہوئی، لیکن بس میرا اور عمران قاضی کا ایک غائبانہ کونیکشن ھے، عمران قاضی کو شائد محسوس نہ ھوتا ھو. لیکن اتنی عادت ھو گئی ھے اس شخص کی ..... جیسے ان کی فیس بک کی نپی تلی لائف اب اپنی لائف میں بھی فِٹ ھو چکی ھو .... سب پتا ھے عمران قاضی کی روٹین، ..... اس وقت سو رھے ھیں، اس وقت جاگ رھے ھیں.... کس وقت اپنے سکول میں ہوتے ہیں، ... کس وقت موبائل فون پر آن لائن ہوتے ھیں. کس وقت گھر کے کمپیوٹر پر بیٹھے ہوئے ھیں .........دن کے کس حصے میں وہ رومن میں کمنٹ لکھتے ھیں .... کس وقت اردو رسم الخط میں لکھیں گے. کس وقت سرسری جواب دیتے ھیں. کس وقت مفصل بات کرنے کا موڈ ھوتا ھے. ان کے کھانا کھانے کا وقت بھی .... اور ان کی باتیں.... جیسے سب کچھ پہلے ہی سے مجھے پتا ھے، لیکن پھر بھی انکے ھر ھر کومنٹ میں میرے لئے نئے پن کا احساس. کسی بھی موضوع پر پہلے ہی سے اندازہ ھوتا ھے عمران قاضی کتنا بولیں گے، کیا بولیں گے ........... ان کو کیا بات پسند آئے گی .. کیا پسند نہیں آئے گی..... کس ایشو پر جذباتی ھو سکتے ھیں. کس معاملے کو اگنور کرنے کی صلاحیت رکھتے ھیں ............. ایسے لگتا ھے عمران قاضی کا سارا انفارمیشن پروگرام مجھ میں فیڈ ھو چکا ھے

-
١٩ مارچ 2014

میچوریٹی


جب آپ کو خود پر اتنا کنٹرول ہو جائے کہ کسی موقع کی مناسبت اور ماحول دیکھتے ہوئے سے بات اور ردعمل ظاہر کریں یا ردعمل ظاہر کرنے سے رک سکیں. جب آپ کسی کی غلط بات کو اس کا معیارِ گفتگو سمجھ کر نظر انداز کرنے لگ جائیں، تو سمجھیں آپ میچور ھو گئے ھیں.

 میچوریٹی ایک صلاحیت ہے، جو کتابوں اور سکولوں سے حاصل نہیں ہو سکتی. میچوریٹی کوئی ایک محدود باؤنڈری والا دائرہ یا سکوپ ہرگز نہیں ھے، جس میں اک انسان اپنی صلاحیتوں کے باعث موجود ہو ، بلکہ ایک ہی انسان کے اندر مختلف معاملات میں میچوریٹی کے مختلف لیولز پائے جاتے ھیں. اس لئے عین ممکن ھے کہ ایک گھاگ اور میچور بزنس مین جذباتی رشتوں کے معاملوں میں یکسر اِمییچور طرزِعمل ظاہر کر دے، اور ایک میچور انجینئیر ھو سکتا ھے اپنے شعبے میں تو بہت میچور فیصلے کرتا ھو، مگر کورٹ کچہری کے معاملات میں امییچورٹی کا ثبوت دیتا نظر آئے. جس انسان کا کسی خاص فیلڈ میں جتنا تجربہ بڑھتا جاتا ھے، اور کسی متعلقہ شعبے میں اس نے جتنے اچھے برے حالات کا سامنا کیا ھو، اتنا ہی وہ اس فیلڈ میں میچور ہوتا چلا جاتا ھے.

 میچوریٹی ایک رویے کا نام ہے. اس رویے کا اس شخص کے فیصلوں کے نتائج سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ھوتا. ضروری نہیں کہ میچور شخص کی ہر بات اور فیصلہ درست ثابت ہو

اطمینان کا لیول

میرا ایک دوست انتہائی سادہ ھے، اس کو فاسٹ فوڈ وغیرہ بالکل پسند نہیں، اور نہ ہی وہ کبھی ان پر پیسا برباد کرتا ھے ......اس کے پاس پیسے کی کمی نہیں،لیکن بس اسکا لائف سٹائل انتہائی سادہ ھے ،اور اس بات سے میں اکثر اختلاف رکھا کرتا تھا ____ کہ یار کچھ تو اپنی ذات پر خرچ کیا کرو.  میں نے اتنے سالوں میں بہت کوشش کی کہ اس کو سمجھا سکوں کہ اے دیوانے دوست... کاش تم سمجھ سکو  کہ پیزا کتنے مزے کی ڈش ھے. مگر میں اسے قائل کرنے میں ناکام ہی رھا ______ وہ اپنی سادگی میں پیزا کھائے اور پسند کئے بغیر ہی اتنا مطمئن ھے _____ کہ کبھی کبھی مجھے اس کی سادگی اور اطمینان سے جلن ھونے لگتی ھے. .... جب اسکی روح ایک لگژری کئے بغیر ہی اتنی مطمئن ھے، اور میں وہ لگژری کر کے بھی اس قدر سکون میں نہیں، تو شاید میں ہی غلط ہوں.... ھم کسی پر اپنی سوچ اور اپنا آئیڈیل لائف سٹائل تھوپ نہیں سکتے. جو جیسے خوش اور پرسکون ھے اسکو ویسے ہی رہنے دینا چاہئے.

 ضروری تو نہیں کہ جس انداز کو آپ حاصل_زندگی سمجھ رھے ھوں، وہی اصل حقیقت ھو. ہر انسان کا پیمانہ فرق ھے، دیکھنے والی آنکھ اور محسوس کرنے والا دل فرق ھے. اور سب سے بڑھ کر ہر انسان کے ٹارگٹس فرق ھیں. جب ہر انسان کا  مطمئن ہونے کا لیول ہی فرق ھے تو ھم فیصلہ نہیں کر سکتے کہ کس کی روح اسکی موجودہ زندگی سے کس قدر سکھی اور شاد ھے.

بنیاد پرست

کافی سال پہلے میں بالاکوٹ گیا، اور ایڈونچر کرتے کرتے ھم دوست پہاڑیوں پر چڑھتے گئے اور ادھر مشکل ترین پہاڑی رستوں پر آباد اکا دکا گھروں پر مشتمل گاؤں دیکھے تو بہت حیرت ہوئی کہ یہ لوگ اکیلے آبادی سے دور اتنی مشکل جگہ پر کیوں رہائش پزیر ھیں.  اپنی ہر چھوٹی موٹی ضرورت کے لئے انہیں پہاڑ سے نیچے شہر کو آنا پڑتا تھا ..... وہ لوگ نیچے وادی میں بسے شہر میں بھی تو گھر بنا سکتے تھے، __________ اپنی اسی سوچ کا اظہار میں نے ادھر گاؤں کے ایک بزرگ سے کیا تو انہوں نے مجھے اپنے گھر سے ملحقہ کچھ قبریں دکھائیں، اور بتایا کہ یہ میرے پردادا کی قبر ھے، یہ میرے دادا کی، یہ میرے باپ کی قبر ھے ......... اور ساتھ ہی پڑی خالی جگہ کی طرف اشارہ کر کے فخریہ انداز میں بتایا کہ____ "یہاں میری قبر ھو گی" ____________ اس دن مجھے سمجھ لگی کہ لفظ "بنیاد پرست" کا مطلب کیا ھوتا ھے. اس بزرگ نے شائد مجھ سے زیادہ ہی پرسکون اور اطمینان بخش زندگی گزاری ھو گی. تو میں کون ھوتا ہوں اپنی سوچ اور جدت اس پر تھوپنے والا.

خود ساختہ دُکھ

آج خود ساختہ دکھوں والی بات کی تشریح کرنا چاہتا ھوں. دکھ تو ہر کسی کی زندگی میں ہوتے ہی ہیں. اس سے انکار نہیں. لیکن خود ساختہ دکھ بھی بہت بڑی حقیقت ہیں. ایسے لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں.یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی اصل زندگی دوسروں کے مقابلے میں نسبتا بہتر ہی ہوتی ھے، بظاہر کوئی مسئلہ ہوتا نہیں. لیکن وہ اپنے آپ کو نارمل زون میں رکھنے کے لئے اپنے آپ کو ان مسائل کا شکار کر لیتے ہیں. یہ اصل میں دو مسائل ہیں. یا دو مراحل کہہ لیں.

1 - پہلے مرحلے پر انسان شعوری یا لاشعوری طور پر ایسے دکھوں اور ٹینشنوں کو سوچنا شروع کر دیتا ہے، جن کی سر درد لئے بغیر بھی اسکے عمومی معاملات خاصے بہتر ہی چل رھے ہوتے ہیں ... مگر وہ خوامخواہ کے غم اپنی شخصیت سے منسوب کر کے اپنے آپ کو دوسروں کی نسبت زیادہ دکھی اور مظلوم محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے.لاشعوری طور پر ایسا کرنے کا ایک محرک یہ بھی ہوتا ہے کے اسے لگنے لگتا ہے کہ اس کا تجربہ دوسروں کے مقابلے میں بہت زیادہ وسیع اور جذباتی معاملات میں اسکا ویژن بھی بہت زیادہ براڈ ہو گیا ہے. ایسے ہی میں کچھ لوگ اپنے آپ پر رحم کر کے خوش ہونا شروع ہو جاتے ھیں. اسی میں سکون محسوس کرنے لگتے ھیں. انھیں خود ترسی کا نشہ ہو جاتا ہے. پھر ایک وقت آتا ہے کہ خودساختہ کچھ نہیں رہتا، یہ فیکٹس ان کی زندگی اور شخصیت میں سیمنٹ کی طرح پکے ہو جاتے ھیں. 

2 - دوسرے مرحلے پر یہ لوگ اپنی ان دکھی کیفیات کو دوسرے لوگوں سے شیئر کر کے مزہ لیتے ہیں. ان کے غم سوشل ہو جاتے ہیں. اکثر و بیشتر باتوں میں دکھ کی شدت کم زیادہ کرنے کے لئے کچھ مصالحہ شامل کرنا پڑے تو وہ بھی کر لیتے ہیں. کمیونیٹیز اور حلقہ احباب میں لوگ ان کے غم اور مسائل کو ڈسکس کرتے نظر آتے ہیں. جو لوگ زیادہ ہمدردی، تسلی اور دردمندی کریں، انکے لئے آنسو بہائیں. انکو بیسٹ فرینڈز ہونے کا درجہ عنایت ہو جاتا ہے. سوشلی اپنے درد و غم کا اظہار ان کے کتھارسس کا حصہ بن جاتا ہے. انہی میں سے کچھ حد تک optimistic لوگ فنکار ، ادیب اور خصوصا شاعر بھی بن جاتے ہیں. اور نام و شہرت بھی کما لیتے ہیں.... اور باقی کے لوگ اپنے ہاتھ اپنا گلا گھونٹنے کی پوزیشن میں رکھتے ہوئے، رو دھو کر حبس زدہ ناشکری کی زندگی گزارتے رہتے ہیں. لیکن نہ یہ اپنا گلا گھونٹتے ہیں. نہ رونا بند کرتے ہیں. 
اور نہ ہی واویلا.

-
21 فروری 2014

بیوفائی

میری رشتوں کی ڈکشنری میں بیوفائی، دھوکہ، جفا جیسے الفاظ موجود ہی نہیں ہیں. جذباتی رشتوں کو لے کر زیادہ تر لوگ مثبت ہی ہوتے ہیں، مثبت سوچنا چاہتے ہیں، مثبت طریقے سے ہی جینا چاہتے ہیں. میرا ماننا ھے کہ جذباتی تعلقات میں کوئی کسی کو دھوکہ نہیں دیتا، اگر دیتا ھے تو وہ انسان خود اپنے آپ کو کسی وقت میں دھوکہ دے رھا ھوتا ھے. ضرورت سے زیادہ سوچ کر، ضروت سے زیادہ جذباتی اور خوش گمانی میں مبتلا ہو کر _____ رشتے میں دوسرے فریق کی بساط سے بڑھ کر امید کرنا اصل میں خود سے دھوکہ ہے. خود سے بیوفائی ھے. جذباتی رشتے میں دوسرے فریق کو مورد_الزام ٹھہرانا میرے نزدیک کم ظرفی ھے.


ہر کوئی اپنی حدود (Limitations) کی باؤنڈری ...یعنی ایک دائرہ سا اپنے ساتھ لئے پھرتا ھے. مسئلہ تب اٹھتا ھے جب ھم اپنی باؤنڈری کو تو مقدس اور قابل_احترام مانتے ہیں، مگر دوسروں کی باؤنڈریز کو پینسل سے کھینچی لکیر سمجھ کر مٹانے کی کوشش کرتے ہیں.

ھم اور ہمارے مذھبی تہوار


مجھے یاد ھے کہ بچپن میں ہم عید میلادالنبی ﷺ بہت سادگی سے مناتے تھے، نبی پاک ﷺ پر سلام و درود بھیجا جاتا تھا. گھروں میں قران کے سپارے پڑھے جاتے تھے، عقیدت و سوز بھری نعتوں کی محفلیں منعقد ہوتی تھیں، رات کو چراغاں ھوتا تھا. دیئے جلائے جاتے. اور اپنے گھر میں کچھ میٹھا پکا کر خود ہی کھا کر خوش ہو جاتے تھے. مگر اب اس کو اتنے بڑے تہوار کی شکل دے دی گئی ھے. تہوار اور خوشی کی آڑ میں ناچ گانا، ڈھول دمّکے، بلند آواز ساؤنڈ سسٹم پر میوزیکل دھنوں سے ترتیب دی ہوئی ڈانس پر اکساتی بلند آواز نعتیں. مقابلے پر دیگیں پک رھی، بے انتہا کھانا اور رنگا رنگ چیزوں کی تقسیم میں پیسے کی بے دریغ نمود و نمائش. پھر شام میں ون وھیلنگ کرتے بغیر سلنسر کے موٹر سائیکل اور ہلڑ بازی اور بے ھنگم پن.    


ھم لوگوں کا طرز_عمل یہ بن چکا ھے کہ اب ھمارے اقدام کسی ایک کی محبت میں کم اور کسی دوسرے کی مخالفت و نفرت میں زیادہ ہوتے ہیں. سادگی، تقوی، میانہ روی اور برداشت چھوڑ کر، دوسرے مسالک سے لاگت بازی اور ان کے تہواروں سے زیادہ بڑھ چڑھ کر ڈنکے کی چوٹ پر اپنے تہوار منعقد کرنا ہمارا کلچر بن گیا ھے.  شائد آپ لوگوں کو اس کا کوئی نقصان نظر نہ آتا ہو. لیکن یہ سب کچھ ہمارے معاشرے میں بڑھتی انتہا پسندی اور شدت پسندی کی بنیادی وجہ بنتا جا رھا ھے، آئے روز مختلف مسالک کے علماء اور رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ، مساجد و درباروں پر حملے، بزرگ و برتر ھستیوں کی شان میں گستاخیاں اور نفرتوں کے دیگر اظہارات بھی اسی طرز_فکر کا شاخسانہ ھیں. جبکہ صرف سادگی اور میانہ روی اپنا کر بآسانی ماحول کو ماڈریٹ رکھا جا سکتا ھے.     


میں فیصل آباد مین سٹی میں رہتا ھوں، بچپن سے اب تک سالہا سال ہر مسلک اور ہر تہوار کی بتدریج بڑھتی ہوئی شدت کو اپنی گنہگار آنکھوں سے دیکھ رھا ھوں. میری ذاتی اور اندرونی فیلنگ یہی ھے کہ ھم لوگ اپنے نبی ﷺ کی تعلیمات سے ہٹ کر کسی اور ہی ڈائریکشن میں محنت کر رھے ہیں.     


ھم بھول چکے ھیں کہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں سادگی، تقویٰ، میانہ روی، پرہیزگاری، حقوق العباد، بردباری، رواداری، برداشت اور استقلال کا درس دیا تھا. ھم تو سراسر ان کی تعلیمات کے الٹ چل رھے ہیں. اگر واقعی ان کی تعلیمات پر چل رھے ہوتے تو آج پوری دنیا میں خوار نہ ہو رھے ہوتے. 

اقبال کا فلسفہءِ خودی

اقبال کے نزدیک خودی ناصرف انسان بلکہ ہر مخلوق کے اندر موجود ایک تعمیری صلاحیت کا نام ھے، اس صلاحیت میں توسیع بھی ممکن ھے اور اسکی افزائش و تربیت بھی ممکن ہے. یہ تربیت (1) اطاعت_الہی، (2) ضبط_نفس اور (3) نیابت_الہی جیسے مراحل سے ممکن ہے.

اقبال نے اپنی شاعری میں خودی کو مختلف نظریات سے جوڑ کر بیان کیا ھے. کہیں خودی کا تعلق عشق سے، کہیں فقر سے، کہیں غیرت سے، کہیں خوداری سے، کہیں فطرت سے جوڑا. بیشتر جگہوں پر اقبال خودی کو براہ_راست خدا اور عشق_حقیقی سے عبارت کرتے بھی نظر آتے ھیں.

اس سلسلے میں کچھ اھم چیزیں جو کل یوم_اقبال کے حوالے سے سیکھنے کا موقع ملا وہ یہ کہ
(1) -
 اقبال نے انفرادی خودی کی بات بھی کی اور اجتماعی خودی کا تصور بھی پیش کیا. اجتماعی خودی کو بیخودی سے بھی عبارت کیا گیا ھے

(2) -
اقبال وطن اور ملک کی بجائے ھمیشہ امت اور ملت کی بات کرتے نظر آتے ہیں. اس کے ساتھ ہی وہ تکمیل_ خودی کے لئے ملت اسلامیہ کی ضرورت پر زور دیتے ہیں.

(3) -
خودی کا بھٹک جانا، یا بے ترتیب ہو جانا سراسر شیطانیت ھے

غرض یہ کہ خودی کا نظریہ، اقبال کے فلسفۂ زندگی کا بہت بنیادی نکتہ ھے. خودی کا لفظ اقبال غرور کے معنی میں هرگز استعمال نہیں کرتے، بلکہ اس کا مفہوم احساسِ نفس یا اپنی ذات کا تعین ہے

رشتے محض گمان سے قائم نہیں رہ سکتے

رشتے محض گمان سے قائم نہیں رہ سکتے، ان کو اپنی ذات اور انا کا ایندھن جلا کر زندہ رکھنا پڑتا ھے. اس میں بھی ہر انسان کی اپنی Capacity ھے کہ کہاں تک اور کب تک ایندھن مہیا کر پاتا ھے. ہر انسان کی صلاحیتیں فرق ھوتی ھیں. خواہ وہ صلاحیت خود جلنے کی ھو، یا اپنے لئے کسی دوسرے کو جلتا دیکھتے رہنے کی ھو.