کیا جنید جمشید کے پرانے دور کو فراموش کر دیا جائے؟

 
چند دوستوں کے مطابق جنید جمشید کی زندگی کا آخری دور ہی اسکی حقیقی زندگی تھی. اسلئے اسکی وفات کے بعد صرف اسکی بطور مذہبی و تبلیغی سکالر زندگی کو ہی یاد کیا جانا چاہیے
-
میری نظرمیں جنید جمشید اپنی زندگی کے دونوں ادوار میں یادگار، کامیاب اور ہردلعزیز انسان تھا. مجھے یہ منطق بہت عجیب لگ رہی ہے کہ مرنے والے کے فلاں دور کو یاد نہ کرو اور صرف فلاں فلاں دور کو یاد کرو. یہ خواہش ہی کتنی اَن نیچرل ہے. آج اگر بل گیٹس اسلام قبول کر لے اور کل مر جائے تو کیا اس کے آخری ایک دن کو یاد کیا جائے گا اور کمپیوٹر سافٹ ویئر کی دنیا میں اس کی خدمات کو یکسر فراموش کر دیا جائے؟ یا کرکٹر محمد یوسف کی اسلام قبول کرنے سے قبل کی بطور بیٹسمین خدمات کو ڈیلیٹ کر دیا جائے؟

ہمارا کڑوا معاشرتی سچ یہ ہے کہ اگر جنید کا پہلا دور وجود نہ رکھتا اور وہ اپنے کرئیر کی ابتدا ہی بطور اک تبلیغی سکالر کے کرتا، تو آج ہم میں سے گنتی کے لوگ ہی اسکا نام بھی جانتے اور پورا ملک اسکے لئے آنسو نہ بہا رہا ہوتا.

اس دنیا سے جانے والا سب سے پہلے اک انسان تھا. بہت سی وجوہات کی بنا پر ناچاہتے ہوئے بھی میں جنید کے پہلے والے دور کا کونیکشن اپنے لڑکپن اور جوانی کی بہت سی فیلنگز کے ساتھ زیادہ پاتا ہوں. وہ روپیہ روپیہ جوڑ کر خریدے وائٹل سائنز کے کیسٹ اور ڈائری لکھ لکھ کر یاد کیے جنید کے گیتوں کو میں کیسے بھلا دوں جنکی یاد مجھے نوجوانی کے حسین اور بے فکری کے دور میں لے جاتی ہے، جنہیں یاد کر کے اب اک nostalgia کا احساس ہوتا ہے. آج مجھے محسوس ہوا ہے کہ نوجوان جنید میری نوجوانی کی حقیقتوں میں سے ایک دلفریب حقیقت تھا

اس کی مذہبی زندگی اور تبلیغ کا فیصلہ اسکا انفرادی تھا، مجھے اس فیصلے سے نہ تو کوئی اختلاف ہے نہ میں اختلاف کا حق رکھتا ہوں. میں دیو بندی نہیں ہوں، لیکن میں جنید سے محبت کرتا تھا اسلئے میں اسکے فیصلے اور تبلیغی دور کو بھی پسند ہی کرتا ہوں، وہ آخری وقت تک میرا پسندیدہ رہا، لیکن بدقسمتی سے میرا اسکی زندگی کے دوسرے پارٹ کیساتھ وہ پہلے سا کونیکشن نہ بن پایا (یہ میری خامی تو ہو سکتی ہے جنید کی نہیں) لیکن اسکی وفات پر میں بھی اتنا ہی رنجیدہ ہوں جتنا کوئی تبلیغی اور دیوبندی بھائی ہو گا. میری تمام مذہبی دوستوں سے درخواست ہے کہ برائے کرم مجھ جیسوں کے احساسات اور آنسوؤں پر اپنی مرضی کے بند مت باندھیں.
 

کمزور لمحے


کمزور لمحہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہم "ہم" نہیں ہوتے. یعنی جب ہم کسی مرحلے پر کسی بھی وجہ سے اپنی پرسنالٹی سے بالکل ہٹ کر کچھ کرنے کے مرتکب ہونے پر دوسروں کو حیرانی اور بعد ازاں خود کو شرمندگی و خفت میں مبتلا کر دیتے ہیں.

اگر ہم کسی کی زندگی کے کمزور لمحوں کا تعین نہیں کر سکتے تو اسکا مطلب یہ ہے ہم اسے سرے سے جانتے ہی نہیں نہ ہی ہمارا اسکے ساتھ کوئی تعلق ہے..... البتہ جن کیساتھ ہمارا تعلق ہوتا ہے، ان کی بنیادی شخصیت، سوچ ، کردار اور بہت سے حالات و واقعات سے یقینا ہمیں آگاہی ہوتی ہے. ایسے لوگوں کی زندگی کے کمزور لمحوں کو ہم بلاشبہ جج کر سکتے ہیں. بس ہم اپنے تعلق والوں کے کمزور لمحوں کو ہی اگنور کرنا سیکھ لیں تو بہت ہے.


زندگی اور موت

 ہم سب اک گرینڈ گرینڈ ہائی فائی سافٹ ویئر کے تخلیق کردہ کردار ہیں
جی ہاں ! جس طرح ایک ہی موبائل ایپلیکیشن ہر کسی کے موبائل پر اسی شخص کا ڈیٹا دکھاتی اور اسی موبائل یوزر کے مطابق چلتی ہے. اسی طرح اس گرینڈ سافٹ ویئر کی آؤٹ پٹ ان گنت زبردست تھری ڈی ویڈیوز کی صورت چل رہی ہیں جو ہر شخص (کردار) کے لئے مختلف ہیں. ہر شخص کی اپنی ویڈیوز کو "زندگی" نامی ڈرامے کا نام دیا جا سکتا ہے. ویڈیوز انتہائی اعلی قسم کی ویژؤل اور ساؤنڈ ایفیکٹس پر مبنی ہیں اور یہی انگنت ویڈیوز جو مختلف زاویوں سے ہر کسی کو نظر آ رہی ہیں وہی اس ڈرامے میں حالات و واقعات کی اصل کنجی ہیں. ان تمام ویڈیوز کے کمبینیشن سے بننے والا ڈرامہ اسقدر دلفریب اور جاندار ہے کہ ہر کسی کو لگتا ہے کہ اس ڈرامے کا مرکزی کردار وہ خود ہے :)  ہمیں لگ رہا کہ ہم وقت کیساتھ آگے بڑھ رہے ہے جبکہ ہم وہیں کے وہیں موجود ہیں اور کوئی نادیدہ طاقت اپنے اسی سافٹ ویئر کی مدد سے ہمارے اردگرد سبھی مناظر اور کرداروں کو الٹ پلٹ کر تبدیل کر رہی.

بہت سی انسٹرکشنز پہلے سے ہمارے اندر فیڈ کی گئی ہیں، یہی انسٹرکشنز ہماری سوچ ہیں، ہم ان محدود انسٹرکشنز سے ہٹ کر کچھ سوچ نہیں پاتے، کچھ کر نہیں پاتے. پھر علم کا جھانسہ موجود ہے ، کتابوں اور تجربوں کے بونس پوائنٹس ہیں جو ایکسٹرا انسٹرکشنز کے طور پر ہمیں حاصل ہوتے ہیں. اور ہم خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے نجانے کیا سیکھ لیا، نجانے کیا پا لیا.

ہمیں روبوٹوں کی طرح کچھ محدود جسمانی صلاحیتیں دی گئی ہیں (جو ہماری انسٹرکشنز کی تعلیمات کے مطابق بہت زیادہ ہیں)، پھر ورزش، ڈائیٹ، پیچیدہ جسمانی نظام کے جھانسے سے جسمانی صلاحیتوں میں تھوڑا سا اضافہ بونس کی طرح ملتا ہے.  اور ہم اسے فٹنس کا نام دے کر خوش ہو جاتے ہیں. اسی طرح بیماریوں دواؤں کا کیمیائی سسٹم بھی موجود ہے.

سافٹ ویئرز میں موجود ان انسانی کرداروں کے اندر مزید فیلنگز، مُوڈ وغیرہ کا زبردست سسٹم انسٹال کیا گیا ہے. جن کے اتار چڑھاؤ ہماری جسمانی کیفیات ، اور اردگرد کے حالات و واقعات کیساتھ زبردست انداز سے منسلک ہے. بظاہر لگتا یہی ہے کہ یہ سب کسی خودکار نظام کی طرح کام کرتا ہے. لیکن شائد سبھی کچھ اتنا خودکار (آٹو میٹک) بھی نہیں. جسطرح ٹیپ ریکارڈر کا والیم والا نوب گھما کر آواز اونچی/ نیچی کی جاتی ہے ویسے ہی اس سسٹم کے باہر کہیں بہت سی نوبز اور بٹن موجود ہیں، جن کے استعمال سے ہماری فیلنگز کنٹرول ہو رہی ہیں . ہمیں کب خوش ہونا ہے کب غمگین؟ کب پیار کرنا ہے اور کب نفرت؟ کہاں خلوص اور کہاں سنگدلی؟ کب مجبوری اور کہاں جارحیت برتنی ہے؟ کب ہنسنا اور کب رونا ہے؟ بظاہر یہ سب کسی خود کار نظام کی طرح محسوس ہوتا ہے لیکن اس میں دھاندلی کے شبے کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا. 😂

ہمارے اردگرد سبھی کچھ انتہائی بے ضرر ہے. لیکن سافٹ ویئر، زبردست تھری ڈی ویژؤل اینڈ ساؤنڈ ایفیکٹس ، انسٹرکشنز اور فیلنگز کے اتار چڑھاؤ کی بدولت یہ انتہائی اہم محسوس ہوتا ہے

اور موت ؟؟؟؟ وہ تو مسئلہ ہی کوئی نہیں. جب اتنا مافوق الفطرت نظام بنایا جا سکتا ہے وہاں ڈرامائی انداز میں کسی کردار کو کبھی بھی آن / آف کرنا کون سا مشکل کام ہے :)
"
صفحہ صفحہ گزر رہے ہیں دن
ہم ہیں کردار کسی فسانے کے
"

ناول نگار

بڑے ناول نگار کا کمال یہ ہے کہ ناول کا ہر اقتباس رائیٹر کی اپنی سوچ پیش نہیں کرتا. وہ کردار بُنتا ہے، اور اپنے بنائے کرداروں کی سوچ کی عکاسی کرنے کو انکی سوچ بھی تخلیق کرتا ہے. ہر اچھے ناول نگار کے اندر اک چھوٹا سا رب ہے 

ملاوٹ

جہاں انسان کی طمانیت و تسکین کا ایک بہت بڑا سبب اسکی سوسایٹی ہے وہیں اسکے لمحوں کی خوشیوں کی قاتل بھی سوسایٹی ہی ہے. جب بھی دو لمحوں کے دوران ہم سوچتے ہیں کہ "لوگ کیا کہیں گے" تو سمجھو ہم نے خالص دودھ میں پانی کی ملاوٹ کی.

محبت

لفظ "محبت" کو شعراء اور دانشوروں نے آفاقی رنگ و روپ دے کر کنفیوز بنا رکھا ہے، حالانکہ نہ تو یہ کوئی آفاقی جذبہ ہے اور نہ ہی مستقل، جب بنیادی ڈیفینیشن کے مطابق "جذبات" متغیر انسانی کیفیات ہیں. تو پھر کوئی ایک جذبہ کیونکر کانسٹنٹ (مستقل) ہو سکتا ہے؟ ہر جذبہ کسی طلب سے منسلک ہے. کوئی رکاوٹ نہ ہو اور دو طرفہ ڈیمانڈ اور سپلائی بھلے متواتر جاری رہے تب بھی انسان کی زندگی میں یکسانیت و بے مقصدیت کے  جذبات فعال ہوکر باقی جذبوں کو بریک لگوا سکتے ہیں


اس موضوع کے حوالے سے میں لوگوں سے بہت تنگ ہوں، شاید انھیں ابھی تک محبت، شفقت، تشکر وغیرہ میں فرق ہی نہیں معلوم. احساسات کو مکس کر کے سوچنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان میں سے کسی ایک بھی جذبے کو مکمل طور پر محسوس کرنے سے قاصر ہیں
جب بھی محبت کی بات ہوتی ہے تو کچھ شریف النفس لوگ ممتا و شفقت کی مثالیں اٹھا کر لے آتے ہیں اور مذہبی رجحان رکھنے والے عشق حقیقی کا راگ الاپنے لگتے ہیں.
جبکہ ماں باپ کا تصور کر کے نہ تو ہمارا دل میٹھی میٹھی تیز دھڑکنیں لیتا ہے اور نہ ہی نارمل انسانوں میں عشق حقیقی کی کوئی مثال ڈھونڈے سے ملتی ہے.



سانحہ

جہاں ہر فریق آدھا سچا اور آدھا جھوٹا ہو اُس معاشرے میں غلط اور صحیح کے درمیان دور دور تک سوالیہ نشانوں کی قطاریں کھڑی ہوتی ہے. ظالم اور مظلوم کے درمیان کوئی بارڈر لائن باقی نہیں رہتی. تب وہاں کسی ایک کا ساتھ دینے کی کوشش کی جائے تو ہر لاجک ادھوری نظر آتی ہے.



نیگیٹیو آزادی


گزشتہ سالوں میں پاکستان میں ہر تہوار پر منچلے نوجوانوں کی موٹر سائیکل پر ون وھیلنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے حادثات اور اموات میں اضافہ ہوا ہے. یہ غیر ذمے دار نوجوان ایسے تہواروں پر پولیس اور ہسپتال والوں کے لئے درد سر بنتے جا رہے ہیں. ان پر جتنی بھی کڑی پابندی لگائی جائے، یہ باز نہیں آتے، اور موقع ملتے ہی سڑک پر یہی خرافات کرکے اپنی اور دوسروں کی زندگی خطرے میں ڈالتے نظر آتے ہیں.
.
آج ایسے ہی ایک نوجوان سے جشن آزادی کی صبح ملاقات ہوئی، مکالمہ نہیں لکھوں گا، اشارتا بات کروں گا کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے ایک بات بہت تواتر کیساتھ سننے کو مل رہی ہے کہ
"
اگر میں غلط ہوں تو حکومت مجھے پکڑتی کیوں نہیں؟ کہاں ہے حکومت؟ کہاں ہے قانون؟ اس ملک میں کوئی سسٹم ہی نہیں ہے، اگر ہے تو سب کچھ دو نمبر
"
اور یہ بات اکثر تب سننے کو ملتی ہے جب آپ قانون توڑنے پر کسی کی سرزنش کی کوشش کرتے ہیں. اتفاق سے ون وھیلنگ کرنے والے نوجوان کی گفتگو کا نچوڑ بھی کچھ ایسا ہی تھا.
.
خیر چند ہی گھنٹوں بعد میرا تھانے کے قریب سے گزر ہوا تو خاصا رش نظر آیا، میڈیا والے بھی کوریج کرتے نظر آئے. معلوم ہوا کہ بہت سے لڑکوں نے احتجاجا سڑک بلاک کر کے راہگیروں کو پریشان کر رکھا ہے. صبح جس جان پہچان کے لڑکے سے مکالمہ ہوا تھا، اتفاق سے وہ بھی راستہ بلاک کرنے والے لڑکوں میں شامل نظر آیا. میں نے پوچھا کیا ماجرا ہے؟ کہنے لگا یہ پولیس والے بہت زیادتی کر رہے ہیں، ہماری موٹرسائیکلیں ضبط کر لیں. اوراب ہماری کوئی بات نہیں سن رہے. اسلئے اب ہم نے مل کر سڑک بلاک کی ہے تاکہ عوام اور میڈیا کا پریشر پڑے تو یہ پولیس والے ہماری بات سنیں گے.
.
اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ ذھین قوم کتنی آسانی کیساتھ ہرسہولت اور آزادی کا منفی استعمال کر لیتی ہے. ہم نے جرم اور قانون شکنی سے از خود رکنا ہی نہیں، جب تک کہ کوئی پکڑ نہ ہو جائے. اور جب پکڑ ہو جائے تو پھر اسی سسٹم کے "لُوپ ہولز" کا استعمال کرنا.


دھوبی گھاٹ کا مسلک

میرا بچپن اور لڑکپن فیصل آباد کے بیچوں بیچ پرانے محلوں میں گزرا ہے. یہاں بہت مکسڈ قسم کا سیاسی و مذہبی کلچر پایا جاتا ہے. اسے سمجھنا اتنا آسان نہیں، خاندانوں کے نسل در نسل روابط و مراسم ہیں. ہر گلی کے موڑ پر مختلف رنگ و نسل اور انواع و اقسام کی شخصیات سے سامنا ہوتا ہے. ہمارا محلہ 'اسلام پورہ' فیصل آباد شہر کے تقریبا مرکز میں آٹھ بازاروں سے ملحقہ علاقے میں واقع ہے. محلے کے ایک جانب تاریخی گورنمنٹ کالج و یونیورسٹی ہے تو دوسری جانب دھوبی گھاٹ کی تاریخی گراؤنڈ جہاں قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک ہر سیاسی و مذہبی قائد نے شعلہ بیانی سے محلے کی سماعتوں میں اپنا حصہ ڈالا. اسی گراؤنڈ کی نسبت سے محلے کا نام بھی 'دھوبی گھاٹ' ہی پڑ گیا. محلے کے ایک جانب شہر کی سب سے بڑی امام بارگاہ ہے تو محلے کے وسط میں دیوبند کی تاریخی مسجد، محلے کے جنوب میں اک سینما گھر بھی ہے. جہاں اب تھیٹر پروگرام چلتا ہے. اور ایک طرف عیسائیوں کی پرانی بستی ہے. محلے میں ہر مسلک و مذھب کے لوگ پائے ہیں. یہاں ہر فیملی کی باقاعدہ ایک ہسٹری ہے. دیوبندی، وہابی، شیعہ، بریلوی، مرزائی، عیسائی گویا ہر فیملی یہاں موجود ہے. ہماری ہوش سے قبل سکھ فیملیاں بھی یہاں رہائش پزیر رہیں. بچپن سے دیکھا کہ ہر کوئی اپنے اپنے عقآئد پر کاربند ہے. مگر کوئی کسی کو چھیڑتا نہیں. سوسایٹی میں سب کے ساتھ مل کر چلنا پڑتا تھا. اختلافات اور جھگڑے تو ہر جگہ کا معمول ہیں مگر میں نے محلے میں کسی کو کم از کم مسلک و مذھب کی بنیاد پر لڑتے نہیں پایا.
.
میری فیملی کا ایک پلس پوائنٹ یہ رہا کہ ہمآرا محلے میں سب کے ساتھ ہمیشہ اچھا اور دوستانہ سمبندھ رہا، میرے والد مرحوم کوئی بہت پریکٹیکل مذہبی شخصیت نہیں تھے لیکن وہ ناصرف محلے بلکہ شہر کی ہر دلعزیز شخصیت تھے. معاشی طور پر آسودہ نہیں تھے لیکن پھر بھی نجانے کیوں ہر کوئی انکو بزرگ مانتا اور عزت دیتا تھا، میں نے انہیں ہر طرح کے لوگوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے دیکھا حیران کن طور پر وہ ہر کسی کے ساتھ مخلص تھے. مجھے بچپن ہی سے ان سے شکوہ تھا کہ وہ گھر والوں سے زیادہ محلے والوں کو ترجیح دیتے ہیں. محلے میں کوئی بھی مسئلہ و جھگڑا ہوتا تو امتیاز بٹ صاحب پنچایت کا فیصلہ کرتے، ابو کا فیصلہ حتمی سمجھا جاتا تھا، حیران کن طور پر ہر کوئی انکا فیصلہ مان بھی لیتا تھا. اب انکے جانے کے بعد انکی جگہ لینے والا محلے میں ایسا کوئی نہیں جس کی بات سب مان لیں :( میں جب ادھر فیصل آباد آؤں، جو بھی پرانا شخص مجھے ملتا ہے یہی کہتا ہے، "تیرے پیو ورگا بندہ نہیں ویکھیا" اور میں حیران ہوتا ہوں، کیونکہ میں نے ساری زندگی ابو کو بہت عام مڈل کلاس انسان سمجھا. مگر مجھے ان کی شخصیت کی سمجھ ہی انکی وفات کے بعد آنا شروع ہوئی جب ان کی زندگی کے حالات و واقعات ان کے دوستوں کی زبانی سنے. میں حیران ہوتا ہوں کہ ایک شخص اتنے بہت سے لوگوں کے حلقہ احباب میں کیسے یکسوئی رکھ پاتا تھا. اور مختلف طبقات و حلقہ فکر کے لوگوں میں اچھی شہرت کا حامل بھی تھا.
.
اگرچہ ابو خود تو بیحد مذہبی نہیں تھے، مگر ابو سے ایک غلطی ہو گئی،انہوں نے ہمیں کبھی بتایا ہی نہیں کہ ہمارا مسلک کیا ہے؟ اور سچ تو یہ ہے کہ زندگی میں کئی مواقعوں پر باوجود کوشش کے میں آج تک فیصلہ ہی نہیں کر پایا کہ ہماری فیملی کا مسلک کیا ہے؟
چچا پانچ وقت کے نمازی تھے، مگر انہوں نے بھی ہمیں کنفیوزڈ ہی رکھا وہ ایک نماز دیوبندی مسجد میں پڑھتے تو دوسری نماز بریلوی مسجد میں، عید کی نماز کے لئے اکثر وہابیوں کی عید گاہ میں لے جاتے.نہ کبھی ہمیں شیعہ دوستوں سے دوستی سے روکا گیا.
.
ہم کزنز نے بچپن ہی سے ہر مذہبی تہوار کو دل سے منایا ہے، ہم نے عید میلادالنبی کے جلوس کے لئے ٹرک سجائے ہیں، جلوس میں ٹرکوں پر سوار لہک لہک کر نعتیں پڑھیں، ٹافیاں، جوس اور سیب بانٹے ہیں تو محرم میں تازیہ کی آرائش بھی کی، دھوبی گھاٹ کی گراؤنڈ میں طاہر القادری، قاضی حسین احمد اور حافظ سعید کی جذبات بھڑکاتی تقاریرسنی اور بینظیر، نواز و عمران کے سیاسی جلسے بھی بھگتائے، محرم میں سبیلیں لگا کر پیآسوں کی پیاس بجھا کر بھی ثواب کمانے کی فیلنگ آئی تو مسجد میں ٹھہری پردیسی تبلیغی جماعت والوں کے لئے گھروں سے کھانا لے جا کر بھی نیکیاں کمائیں. میلاد پر محلے میں بنٹتے نان حلوے اور متنجن کی دیگوں پر اپنا پورا حق سمجھا تو محرم میں ہر گلی میں پکنے والی اسپیشل حلیم میں ذائقے کے اعتبار سے اول، دوئم اور سوئم نمبر پر آنے والی دیگوں کا فیصلہ بھی کیا. مولانا طارق جمیل کے بیانات پر آنسو گرائے تو امام بارگاہ میں مجلسوں اور شام غریباں میں بھی خود کو آبدیدہ پایا. وہابی دوست کے ساتھ نماز پڑھنے گئے تو اس کی خوشنودی کے لئے رفع الیدین بھی کر لیا. کسی کو بتائیے گا نہیں، میں نے تو کم عمری میں ذولجناح کو بھی عقیدت سے چوم لیا تھا . میں سمجھتا تھا کہ یہ واقعی امام حسینؓ کا گھوڑا ہے، میرے لئے یہ معجزہءِ حیرت تھا کہ یہ گھوڑا ابھی تک زندہ ہے . خیر اس تمام سفر میں بہت سے لوگ میرے ساتھ رہے جو کم و بیش میرے جیسی سوچ اور ماحول رکھتے تھے، میں ان سب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے نفرت نہیں سکھائی.
.
خدا، مسلک اور عبادات کی بجائے میرا تعلق ہمیشہ لوگوں کے ساتھ زیادہ رہا ہے اور مجھے اس پر کبھی کوئی رنج بھی نہیں رہا.
مجھے لگتا ہے کہ جسطرح پوسٹ کیساتھ اٹیچڈ تصویر میں آپ دھوبی گھاٹ کو اونچائی سے دیکھ کر جغرافیہ سمجھ سکتے ہیں، اسی طرح اونچائی سے سبھی مذاہب و مسالک کو دیکھنے کی ضرورت ہے. ہو سکتا ہے کہ تب آپ گنگنائیں :
"
بازیچہ ءِاطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے
"
--------------
(جاری ہے)

کیا نواز حکومت فیل ہو گئی ہے؟


آئیڈیلسٹک مائنڈ سیٹ کیساتھ اگر پوائنٹ ٹُو پوائنٹ تنقیدی جائزہ کرنے بیٹھیں گے تو معلوم ہو گا کہ آج تک کوئی ایک بھی اچھی گورنمنٹ پاکستان میں نہیں آئی. مگر کسی حکومت کی پرفارمنس کا تجزیہ کرتے ہوئے ہمیں اس نکتہ کو ضرور مدنظر رکھنا چاہئے کہ انہیں کیا کیا چیلنجز درپیش تھے؟ اور وہ اپنے چیلنجز کو لے کر کس طرح آگے بڑھے. میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ نواز حکومت نے کم از کم قوم کو درپیش چیلنجز کو قبول تو کیا ہے، اوراپنے تئیں کچھ نہ کچھ اچھا کام کر رہی ہے، انہوں نے ڈویلپمنٹ کو لے کر اپنی سمت کا تعین کیا ہے، اقتصادی راہداری منصوبہ ملک میں گیم چینجر ثابت ہو گا (انشااللہ). انکی پالیسیوں سے اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن کم از کم پالیسیاں موجود تو ہے. البتہ اس حکومت سے قبل کیا ہو رہا تھا، وہ ہم سب کو معلوم ہے.
یہ مانا کہ ہمارے ہاں مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ ایک ایشو کو فکس کرنے نکلو تو دس دوسرے ایشو سر اٹھائے نظر آتے ہیں، مگر یہ ممکن ہی نہیں کہ چند سالوں میں سب کچھ فکس ہو جائے. دوسری بات یہ کہ منفی سوچنے والے شخص کو تو کسی طور مطمئن نہیں کیا جا سکتا. البتہ اپنے اردگرد موجود آپٹمیسٹک لوگوں کو موجودہ حکومت سے قدرے مطمئن پاتا ہوں.
اسلئے میں یہی چاہوں گا کہ یہ 2018 تک اپنا دور مکمل کریں، اس کے بعد عوام اپنی قسمت کا فیصلہ جمہوری انداز میں کرے ، اگر اس حکومت نے واقعی تسلی بخش کام نہیں کیا اور اگر عوام کی اکثریت کی نظر میں یہ حکومت فیل ہے تو اس کا  نتیجہ خودبخود ہمیں اگلے انتخابات میں نظر آ جائے گا