عصبیت

علاقائی عصبیت ایک مثبت رجحان اور عین قدرتی حقیقت ہے. بدقسمتی سے پاکستان میں نام نہاد اتحاد و یگانگت کے نام پر صوبائی و علاقائی عصبیت کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی جاتی ہے. اسے منفیت کا لفافہ چڑھا کر تعصب کے نام سے پیش کیا جاتا ہے.
اپنے اپنے صوبائی و علاقائی کلچر ، مادری زبان اور اپنے علاقے کے ہیروز اور رہنماؤں کو قابل فخر سمجھتے ہوئے بھلا زیادہ اہمیت کیوں نہ دی جائے؟
جو شخص اپنے آبائی علاقےاور لوگوں سے پیار نہیں کر سکتا وہ پورے ملک سے کیا خاک پیار کرے گا؟
اگر ہر شخص کم از کم سب سے پہلے اپنی گلی پھر اپنے محلے، گاؤں، حلقے اور پھر شہر کے ساتھ ہی مخلص ہو جائے تو ملک خودبخود سنور جائے گا


دین


دین کا انسان کی زندگی میں مقصد صرف اُسے جنت / دوزخ کا رستہ دکھانا نہیں ہے. بلکہ جنت/دوزخ کے تصور سے بہت پہلے دین کا مقصد انسان کو اس دنیا کے لئے ایک اچھا اور دوسروں کیلئے مفید انسان بنانا ہے.
ہمارے آباؤ اجداد اور بزرگوں نے بیشتر علامتی چیزوں کو براہ راست دین (اور بالواسطہ اخلاق) کا معیار بنا رکھا ہے. ہماری دینی زندگی کا بیشتر وقت انہی چیزوں کو سمجھنے، قبول کرنے اور اپنانے میں صرف ہوتا ہے جن کا دین اور معاشرتی اخلاقیات کیساتھ براہ راست کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا. زندگی ختم ہونے کو آ جاتی ہےمگر یہ مذہبی لوازمات ہی پورے نہیں ہو پاتے.
اسلام واحد مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو "جماعت" کا نظریہ دیتا ہے. یہ بات پڑھ اور سن کر ہم واہ واہ کرتے ہیں. مگر کبھی غور کیا کہ ہمارے ہاں جماعتی بنیادوں پر مذہبی و اخلاقی تربیت کب اور کیسے ظہور پذیر ہو گی؟ کیا صرف پرانے قصے کہانیوں اور معرکوں کا ہزارہا بار تذکرہ کر کے؟
کڑوا سچ یہ ہے کہ ہم نے دین کا لبادہ تو اوڑھ رکھا ہے لیکن اسے اپنایا ہی نہیں. حقیقی اخلاقی تربیت سے روگردانی کا عالم دیکھتے ہوئے کوئی حیرت نہیں کہ ہمارا مسلم معاشرہ اخلاقی پستیوں کا شکار کیوں ہے.


بے جا عقیدت و تقدیس

آج ایک دوست کی وساطت سے اس حقیقت کے ادراک پر شدید دھچکا لگا کہ سیرت طیبہﷺ سے منسوب اسلامی ہسٹری کے دو زبانِ زدِ عام واقعات سراسر من گھڑت ہیں. ان میں سے ایک واقعہ تو اس بوڑھی عورت والا تھا جو حضورﷺ پر کوڑا پھینکتی تھی اور اسکے بیمار ہونے پر نبی پاک ﷺ نے اس کی تیمارداری کی اس کے گھر کی صفائی کی اور اپنے حسن سلوک سے بڑھیا کو متاثر کیا.
نصاب میں پڑھائے جانے والے ایسے واقعات کا کوئی مستند حوالہ ہی موجود نہیں. لیکن یہ واقعات اور ان سے جڑے اخلاقی سبق اب ہمارے دماغوں میں  اسقدر راسخ ہو چکے ہیں کہ  یہی واقعات آج ہم اپنے بچوں کو بھی سناتے ہیں. میں سوچ رہا تھا اگر بچپن سے ہمیں پڑھائے جانے والے بنیادی واقعات ہی اگر من گھڑت ہیں تو پھر بقیہ کس واقعے پر کوئی 
یقین کرے؟
اس میں قصور کسکا ہے؟ دہائیوں پہلے جس کسی نے ان واقعات کو بنایا اور پھر تشہیر کر ڈالی. اس پر جید علماء کیوں خاموش رہے؟ علماء کی اس مجرمانہ خاموشی کی وجہ کوئی بتائے گا نہ کوئی اس پر بات کرے گا.

نبی پاک ﷺ کی ذاتِ اقدس چند واقعات کی محتاج نہیں. جب قران نے خود سیرت طیبہﷺ پر مہر ثبت کر دی تو پھر انﷺ کی تمام خوبیاں خودبخود ہمارے ایمان کا حصہ ہیں. لیکن جھوٹ یا جھوٹے واقعات کا سہارا کیوں لیا جائے؟ 
  ہمارے مذہبی حلقوں کی جانب سے نسل در نسل چلتی حقیقتا بے عمل مگر زائد از ضرورت "عقیدت" اور اندھی تقلید کو بے جا پروموٹ کیا جاتا ہے. ایسے خود ساختہ واقعات کے اضافے کی حقیقت، اسباب، اثرات اور نتائج کو اگنور کرتے ہوئے صرف وقتی "سبحان اللہ سبحان اللہ" کا ماحول بنانے کی کوشش کی جاتی ہے. اندھی تقلید پر ضرب کرنے یا سوال اٹھانے والے پر فورا ہی "مذہب بیزار"، لبرل یا کافر کا لیبل لگا دیا جاتا ہے. یہی بے جا تقدیس شخصیت پرستی کی شکل میں ہمارے باقی معاملات پر بھی حاوی ہوتی جا رہی ہے

 اسلام سادہ، عام فہم اور واضح مذھب ہے، ہم اسے پیچیدہ، مشکل اور ناقابل عمل بنانے پر تلے ہوئے ہیں. ہم نے دین کے جماعتی فرائض میں گنجائشیں نکال نکال کر آج مذھب کو محض اِک انفرادی معاملا بنا ڈالا ہے

میں اچھا مسلمان ہونے کا دعویدار نہیں، لیکن اسلام کا زوال دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے


کیا جنید جمشید کے پرانے دور کو فراموش کر دیا جائے؟

 
چند دوستوں کے مطابق جنید جمشید کی زندگی کا آخری دور ہی اسکی حقیقی زندگی تھی. اسلئے اسکی وفات کے بعد صرف اسکی بطور مذہبی و تبلیغی سکالر زندگی کو ہی یاد کیا جانا چاہیے
-
میری نظرمیں جنید جمشید اپنی زندگی کے دونوں ادوار میں یادگار، کامیاب اور ہردلعزیز انسان تھا. مجھے یہ منطق بہت عجیب لگ رہی ہے کہ مرنے والے کے فلاں دور کو یاد نہ کرو اور صرف فلاں فلاں دور کو یاد کرو. یہ خواہش ہی کتنی اَن نیچرل ہے. آج اگر بل گیٹس اسلام قبول کر لے اور کل مر جائے تو کیا اس کے آخری ایک دن کو یاد کیا جائے گا اور کمپیوٹر سافٹ ویئر کی دنیا میں اس کی خدمات کو یکسر فراموش کر دیا جائے؟ یا کرکٹر محمد یوسف کی اسلام قبول کرنے سے قبل کی بطور بیٹسمین خدمات کو ڈیلیٹ کر دیا جائے؟

ہمارا کڑوا معاشرتی سچ یہ ہے کہ اگر جنید کا پہلا دور وجود نہ رکھتا اور وہ اپنے کرئیر کی ابتدا ہی بطور اک تبلیغی سکالر کے کرتا، تو آج ہم میں سے گنتی کے لوگ ہی اسکا نام بھی جانتے اور پورا ملک اسکے لئے آنسو نہ بہا رہا ہوتا.

اس دنیا سے جانے والا سب سے پہلے اک انسان تھا. بہت سی وجوہات کی بنا پر ناچاہتے ہوئے بھی میں جنید کے پہلے والے دور کا کونیکشن اپنے لڑکپن اور جوانی کی بہت سی فیلنگز کے ساتھ زیادہ پاتا ہوں. وہ روپیہ روپیہ جوڑ کر خریدے وائٹل سائنز کے کیسٹ اور ڈائری لکھ لکھ کر یاد کیے جنید کے گیتوں کو میں کیسے بھلا دوں جنکی یاد مجھے نوجوانی کے حسین اور بے فکری کے دور میں لے جاتی ہے، جنہیں یاد کر کے اب اک nostalgia کا احساس ہوتا ہے. آج مجھے محسوس ہوا ہے کہ نوجوان جنید میری نوجوانی کی حقیقتوں میں سے ایک دلفریب حقیقت تھا

اس کی مذہبی زندگی اور تبلیغ کا فیصلہ اسکا انفرادی تھا، مجھے اس فیصلے سے نہ تو کوئی اختلاف ہے نہ میں اختلاف کا حق رکھتا ہوں. میں دیو بندی نہیں ہوں، لیکن میں جنید سے محبت کرتا تھا اسلئے میں اسکے فیصلے اور تبلیغی دور کو بھی پسند ہی کرتا ہوں، وہ آخری وقت تک میرا پسندیدہ رہا، لیکن بدقسمتی سے میرا اسکی زندگی کے دوسرے پارٹ کیساتھ وہ پہلے سا کونیکشن نہ بن پایا (یہ میری خامی تو ہو سکتی ہے جنید کی نہیں) لیکن اسکی وفات پر میں بھی اتنا ہی رنجیدہ ہوں جتنا کوئی تبلیغی اور دیوبندی بھائی ہو گا. میری تمام مذہبی دوستوں سے درخواست ہے کہ برائے کرم مجھ جیسوں کے احساسات اور آنسوؤں پر اپنی مرضی کے بند مت باندھیں.
 

کمزور لمحے


کمزور لمحہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہم "ہم" نہیں ہوتے. یعنی جب ہم کسی مرحلے پر کسی بھی وجہ سے اپنی پرسنالٹی سے بالکل ہٹ کر کچھ کرنے کے مرتکب ہونے پر دوسروں کو حیرانی اور بعد ازاں خود کو شرمندگی و خفت میں مبتلا کر دیتے ہیں.

اگر ہم کسی کی زندگی کے کمزور لمحوں کا تعین نہیں کر سکتے تو اسکا مطلب یہ ہے ہم اسے سرے سے جانتے ہی نہیں نہ ہی ہمارا اسکے ساتھ کوئی تعلق ہے..... البتہ جن کیساتھ ہمارا تعلق ہوتا ہے، ان کی بنیادی شخصیت، سوچ ، کردار اور بہت سے حالات و واقعات سے یقینا ہمیں آگاہی ہوتی ہے. ایسے لوگوں کی زندگی کے کمزور لمحوں کو ہم بلاشبہ جج کر سکتے ہیں. بس ہم اپنے تعلق والوں کے کمزور لمحوں کو ہی اگنور کرنا سیکھ لیں تو بہت ہے.


زندگی اور موت

 ہم سب اک گرینڈ گرینڈ ہائی فائی سافٹ ویئر کے تخلیق کردہ کردار ہیں
جی ہاں ! جس طرح ایک ہی موبائل ایپلیکیشن ہر کسی کے موبائل پر اسی شخص کا ڈیٹا دکھاتی اور اسی موبائل یوزر کے مطابق چلتی ہے. اسی طرح اس گرینڈ سافٹ ویئر کی آؤٹ پٹ ان گنت زبردست تھری ڈی ویڈیوز کی صورت چل رہی ہیں جو ہر شخص (کردار) کے لئے مختلف ہیں. ہر شخص کی اپنی ویڈیوز کو "زندگی" نامی ڈرامے کا نام دیا جا سکتا ہے. ویڈیوز انتہائی اعلی قسم کی ویژؤل اور ساؤنڈ ایفیکٹس پر مبنی ہیں اور یہی انگنت ویڈیوز جو مختلف زاویوں سے ہر کسی کو نظر آ رہی ہیں وہی اس ڈرامے میں حالات و واقعات کی اصل کنجی ہیں. ان تمام ویڈیوز کے کمبینیشن سے بننے والا ڈرامہ اسقدر دلفریب اور جاندار ہے کہ ہر کسی کو لگتا ہے کہ اس ڈرامے کا مرکزی کردار وہ خود ہے :)  ہمیں لگ رہا کہ ہم وقت کیساتھ آگے بڑھ رہے ہے جبکہ ہم وہیں کے وہیں موجود ہیں اور کوئی نادیدہ طاقت اپنے اسی سافٹ ویئر کی مدد سے ہمارے اردگرد سبھی مناظر اور کرداروں کو الٹ پلٹ کر تبدیل کر رہی.

بہت سی انسٹرکشنز پہلے سے ہمارے اندر فیڈ کی گئی ہیں، یہی انسٹرکشنز ہماری سوچ ہیں، ہم ان محدود انسٹرکشنز سے ہٹ کر کچھ سوچ نہیں پاتے، کچھ کر نہیں پاتے. پھر علم کا جھانسہ موجود ہے ، کتابوں اور تجربوں کے بونس پوائنٹس ہیں جو ایکسٹرا انسٹرکشنز کے طور پر ہمیں حاصل ہوتے ہیں. اور ہم خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے نجانے کیا سیکھ لیا، نجانے کیا پا لیا.

ہمیں روبوٹوں کی طرح کچھ محدود جسمانی صلاحیتیں دی گئی ہیں (جو ہماری انسٹرکشنز کی تعلیمات کے مطابق بہت زیادہ ہیں)، پھر ورزش، ڈائیٹ، پیچیدہ جسمانی نظام کے جھانسے سے جسمانی صلاحیتوں میں تھوڑا سا اضافہ بونس کی طرح ملتا ہے.  اور ہم اسے فٹنس کا نام دے کر خوش ہو جاتے ہیں. اسی طرح بیماریوں دواؤں کا کیمیائی سسٹم بھی موجود ہے.

سافٹ ویئرز میں موجود ان انسانی کرداروں کے اندر مزید فیلنگز، مُوڈ وغیرہ کا زبردست سسٹم انسٹال کیا گیا ہے. جن کے اتار چڑھاؤ ہماری جسمانی کیفیات ، اور اردگرد کے حالات و واقعات کیساتھ زبردست انداز سے منسلک ہے. بظاہر لگتا یہی ہے کہ یہ سب کسی خودکار نظام کی طرح کام کرتا ہے. لیکن شائد سبھی کچھ اتنا خودکار (آٹو میٹک) بھی نہیں. جسطرح ٹیپ ریکارڈر کا والیم والا نوب گھما کر آواز اونچی/ نیچی کی جاتی ہے ویسے ہی اس سسٹم کے باہر کہیں بہت سی نوبز اور بٹن موجود ہیں، جن کے استعمال سے ہماری فیلنگز کنٹرول ہو رہی ہیں . ہمیں کب خوش ہونا ہے کب غمگین؟ کب پیار کرنا ہے اور کب نفرت؟ کہاں خلوص اور کہاں سنگدلی؟ کب مجبوری اور کہاں جارحیت برتنی ہے؟ کب ہنسنا اور کب رونا ہے؟ بظاہر یہ سب کسی خود کار نظام کی طرح محسوس ہوتا ہے لیکن اس میں دھاندلی کے شبے کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا. 😂

ہمارے اردگرد سبھی کچھ انتہائی بے ضرر ہے. لیکن سافٹ ویئر، زبردست تھری ڈی ویژؤل اینڈ ساؤنڈ ایفیکٹس ، انسٹرکشنز اور فیلنگز کے اتار چڑھاؤ کی بدولت یہ انتہائی اہم محسوس ہوتا ہے

اور موت ؟؟؟؟ وہ تو مسئلہ ہی کوئی نہیں. جب اتنا مافوق الفطرت نظام بنایا جا سکتا ہے وہاں ڈرامائی انداز میں کسی کردار کو کبھی بھی آن / آف کرنا کون سا مشکل کام ہے :)
"
صفحہ صفحہ گزر رہے ہیں دن
ہم ہیں کردار کسی فسانے کے
"

ناول نگار

بڑے ناول نگار کا کمال یہ ہے کہ ناول کا ہر اقتباس رائیٹر کی اپنی سوچ پیش نہیں کرتا. وہ کردار بُنتا ہے، اور اپنے بنائے کرداروں کی سوچ کی عکاسی کرنے کو انکی سوچ بھی تخلیق کرتا ہے. ہر اچھے ناول نگار کے اندر اک چھوٹا سا رب ہے 

ملاوٹ

جہاں انسان کی طمانیت و تسکین کا ایک بہت بڑا سبب اسکی سوسایٹی ہے وہیں اسکے لمحوں کی خوشیوں کی قاتل بھی سوسایٹی ہی ہے. جب بھی دو لمحوں کے دوران ہم سوچتے ہیں کہ "لوگ کیا کہیں گے" تو سمجھو ہم نے خالص دودھ میں پانی کی ملاوٹ کی.

محبت

لفظ "محبت" کو شعراء اور دانشوروں نے آفاقی رنگ و روپ دے کر کنفیوز بنا رکھا ہے، حالانکہ نہ تو یہ کوئی آفاقی جذبہ ہے اور نہ ہی مستقل، جب بنیادی ڈیفینیشن کے مطابق "جذبات" متغیر انسانی کیفیات ہیں. تو پھر کوئی ایک جذبہ کیونکر کانسٹنٹ (مستقل) ہو سکتا ہے؟ ہر جذبہ کسی طلب سے منسلک ہے. کوئی رکاوٹ نہ ہو اور دو طرفہ ڈیمانڈ اور سپلائی بھلے متواتر جاری رہے تب بھی انسان کی زندگی میں یکسانیت و بے مقصدیت کے  جذبات فعال ہوکر باقی جذبوں کو بریک لگوا سکتے ہیں


اس موضوع کے حوالے سے میں لوگوں سے بہت تنگ ہوں، شاید انھیں ابھی تک محبت، شفقت، تشکر وغیرہ میں فرق ہی نہیں معلوم. احساسات کو مکس کر کے سوچنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان میں سے کسی ایک بھی جذبے کو مکمل طور پر محسوس کرنے سے قاصر ہیں
جب بھی محبت کی بات ہوتی ہے تو کچھ شریف النفس لوگ ممتا و شفقت کی مثالیں اٹھا کر لے آتے ہیں اور مذہبی رجحان رکھنے والے عشق حقیقی کا راگ الاپنے لگتے ہیں.
جبکہ ماں باپ کا تصور کر کے نہ تو ہمارا دل میٹھی میٹھی تیز دھڑکنیں لیتا ہے اور نہ ہی نارمل انسانوں میں عشق حقیقی کی کوئی مثال ڈھونڈے سے ملتی ہے.



سانحہ

جہاں ہر فریق آدھا سچا اور آدھا جھوٹا ہو اُس معاشرے میں غلط اور صحیح کے درمیان دور دور تک سوالیہ نشانوں کی قطاریں کھڑی ہوتی ہے. ظالم اور مظلوم کے درمیان کوئی بارڈر لائن باقی نہیں رہتی. تب وہاں کسی ایک کا ساتھ دینے کی کوشش کی جائے تو ہر لاجک ادھوری نظر آتی ہے.