حرفِ راز
اردو گروپ کی بلاشبہ سب سے منفرد، دلبربا اور لائٹ ویٹ پرسنالٹی ....
"جس میں وہ خاص بات ھے، جو کسی اور میں کہاں" .... جی نہیں میں کینڈی بسکٹ
کی بات نہیں کر رھا، بلکہ اپنے حرف راز صاحب کا تذکرہ ھو رھا ھے، جو ھر گز
کسی بسکٹ سے کم میٹھے نہیں.
موصوف بِنا کسی شک و شبہ کے، ان گنت خوبیوں کا مرکب ھیں. اول اور نمایاں ترین خصوصیت تو یہ ھے کہ ماشااللہ سے انتہائی خوبرو اور سمارٹ آدمی ھیں. غلطی سے اکاؤنٹس کے شعبے میں آ گئے. ورنہ یہ پیدا تو شوبز کی دنیا کے لئے ہوئے تھے ........ ان کا شمار ان مرد حضرات میں ھوتا ھے جو برملا اپنے حسن کا اقرار کرتے ھیں. اس ضمن میں اکثر کمنٹس میں خود اپنی بیوی کو خوش قسمت قرار دیتے بھی پائے گئے ھیں........ ستم یہ کہ موصوف کو اپنی خود کی فوٹو گرافی کا جنون کی حد تک شوق ھے. اپنی تصویر بنوانے کا کوئی لمحہ ضائع نہیں کرتے، جبھی فیس بک پر ان کی دفتری اوقات کے دوران لی گئی پروفیشنل تصاویر سے لے کر بارش میں بھیگے ہوئے بدن والی تصویریں تک موجود ھیں. چلو مانا بھئی کہ بندہ کسی لطیف جذبے کے زیر اثر اپنی خود کی تصویر فیس بک پر لگانے کا حق رکھتا ھے. لیکن یہ محترم نجانے اپنے حسن کو لے کر کس شبے کا شکار ھیں جو اپنی تصویروں میں اپنے ھمراہ ایسے ایسے حبشی نژاد افریقن حضرات کو لا کھڑا کرتے ھیں، جن کے ساتھ کھڑے ھو کر کوئی بھی خوامخواہ ہی زائد از ضرورت خوبصورت لگنے لگے....... اس پر دبئی کی تپتی دھوپ میں انکا رنگ ایسا سنہری گورا کہ خواتین تک ان کی فوٹو دیکھ دیکھ کر حسد میں مبتلا ھوتی رھتی ھیں. اکثر تو جل کر پوچھ بھی لیتی ھیں کہ "پائن !! تُسی ایڈے گورے کِنج ھو گئے؟" مجال ھے جو اس سوال پر ایک فیصد بھی کونفیوز ھوں، فورا بڑی ڈھٹائی سے جواب دیتے ھیں: ___"او میرے نانکے بٹ ہوندے نیں ناں .... ایس لئی"____ انکے اس جواب پر بیچارے بٹوں کی جو حالت زار ھوتی ھے، اسکو تو یہ دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے کہ موصوف اپنے کسی بھی جواب کے فورا بعد کالا چشمہ پہن کر ارد گرد کے جہان سے غافل ھو جاتے ھیں.
خدا نے ذھانت سے بھی خوب نوازا ھے. ادبی محافل میں اقبال ، فراز اور ن م راشد کی شاعری میں چھپے فلسفے ببانگ دُہل یوں بیان کرتے ھیں کہ ان تینوں شعراء کی روحیں بھی عالم ارواح میں انگشت بدنداں ھوتی ھیں کہ یہ باتیں تو انہوں نے بھی وہ اشعار لکھتے ہوئے نہ سوچی تھیں...... حافظہ کمال کا پایا ھے (کاش اپنا پایا ھوتا) .... جناب کو اتنی نظمیں اور اشعار زبانی یاد ھیں کہ شرطیہ یہی وہ فردِ واحد ھے، جو بیت بازی میں فضا رحمان صاحب کو مقابلے کی ٹکر دے سکتا ھے.
کھانے کے اتنے ہی دشمن ھیں، جتنا کہ توصیف احمد ...... فرق صرف یہ ھے کہ توصیف صاحب غذائی دھشت گردی سے دشمن کا قلعہ قمع کرتے ھیں اور حرف راز وقتِ طعام اپنی فوٹوز فیس بک پر شیئر کر کے...... جو بھی ڈش زندگی میں ایک بار کھا لی، وہ ان کی فیورٹ قرار پائی، جبھی پسندیدہ کھانوں کی تعداد 6 درجن کے لگ بھگ ھے.
آرٹ کے رسیا ھیں، خصوصا موسیقی میں کے ایل سہگل سے لے کر جسٹن بیئبر تک کوئی بھی ان کی سماعت کو چھوۓ بغیر نہیں گزر سکا. بہت سے گلوکاروں اور شعراء سے بالمشافہ ملاقات کا شرف بھی حاصل کر چکے. میوزک کی اتنی زیادہ سمجھ بوجھ رکھتے ھیں کہ محمد رفیع تک کے گانے میں غلطیاں ڈھونڈ لیتے ھیں. اردو گروپ میں میری پوسٹ کی ہوئی آڈیو غزلوں پر سب سے پہلا لائک اور کمنٹ انہی کا ھوتا تھا. کسی بھی گانے کے اسرار و رموز کی جانکاری رکھتے ہوئے یوں تنقید کرتے ھیں کہ گمان گزرتا ھے کہ کسی میوزکل ریالٹی شو میں جج کے فرائض نبھا رھے ھیں. اپنے چند احباب میں اکثر "اَنو ملک" کے نام سے بھی جانے جاتے ھیں.
لیکن حرف راز کی جو خوبیاں انکی سبھی خوبیوں سے ممتاز ھیں وہ یہ کہ ایک تو حد درجہ جینوئن اور مخلص شخص ھیں، اور دوسرے انتہائی مثبت اور زندہ دل انسان ھیں. ایک سال سے زائد عرصے سے ان کو نوٹس کر رھا ہوں، کبھی انکو کوئی اختلافی کمنٹ یا کسی کی دل آزاری کرتے نہیں پایا، کبھی بھی انکو کسی سے نفرت میں مبتلا محسوس نہیں کیا ..... (شعراء سے معزرت کے ساتھ) حرف راز کے لئے میں نے خود ایک شعر لکھا ھے:
علم رکھتے ہوئے بھی کبھی علم بگھارا نہیں
اس نے بُھول سے بھی کسی کا کچھ بگاڑا نہیں
ھم سب تو فیس بک پر اپنی ذات کے لئے آتے ھیں لیکن حرف راز ہمارے لئے آتے ھیں. کبھی کبھی تو صرف ہمیں ہنسانے اور چمکارنے کو آن لائن آ جاتے ھیں. اردو فیملی میں حرف راز کی کیا افادیت ھے اور ان کا کیا درجہ ھے اسکا ابھی ہمیں ادراک نہیں اور ھم اندازہ کر بھی نہیں سکتے کیونکہ جس بشر کی ہر ہر حرکت کا مقصد فقط دوسروں کی چند لمحوں کی مسکان ھو اسکا مرتبہ دوسرے بشر مقرر نہیں کرسکتے.
موصوف بِنا کسی شک و شبہ کے، ان گنت خوبیوں کا مرکب ھیں. اول اور نمایاں ترین خصوصیت تو یہ ھے کہ ماشااللہ سے انتہائی خوبرو اور سمارٹ آدمی ھیں. غلطی سے اکاؤنٹس کے شعبے میں آ گئے. ورنہ یہ پیدا تو شوبز کی دنیا کے لئے ہوئے تھے ........ ان کا شمار ان مرد حضرات میں ھوتا ھے جو برملا اپنے حسن کا اقرار کرتے ھیں. اس ضمن میں اکثر کمنٹس میں خود اپنی بیوی کو خوش قسمت قرار دیتے بھی پائے گئے ھیں........ ستم یہ کہ موصوف کو اپنی خود کی فوٹو گرافی کا جنون کی حد تک شوق ھے. اپنی تصویر بنوانے کا کوئی لمحہ ضائع نہیں کرتے، جبھی فیس بک پر ان کی دفتری اوقات کے دوران لی گئی پروفیشنل تصاویر سے لے کر بارش میں بھیگے ہوئے بدن والی تصویریں تک موجود ھیں. چلو مانا بھئی کہ بندہ کسی لطیف جذبے کے زیر اثر اپنی خود کی تصویر فیس بک پر لگانے کا حق رکھتا ھے. لیکن یہ محترم نجانے اپنے حسن کو لے کر کس شبے کا شکار ھیں جو اپنی تصویروں میں اپنے ھمراہ ایسے ایسے حبشی نژاد افریقن حضرات کو لا کھڑا کرتے ھیں، جن کے ساتھ کھڑے ھو کر کوئی بھی خوامخواہ ہی زائد از ضرورت خوبصورت لگنے لگے....... اس پر دبئی کی تپتی دھوپ میں انکا رنگ ایسا سنہری گورا کہ خواتین تک ان کی فوٹو دیکھ دیکھ کر حسد میں مبتلا ھوتی رھتی ھیں. اکثر تو جل کر پوچھ بھی لیتی ھیں کہ "پائن !! تُسی ایڈے گورے کِنج ھو گئے؟" مجال ھے جو اس سوال پر ایک فیصد بھی کونفیوز ھوں، فورا بڑی ڈھٹائی سے جواب دیتے ھیں: ___"او میرے نانکے بٹ ہوندے نیں ناں .... ایس لئی"____ انکے اس جواب پر بیچارے بٹوں کی جو حالت زار ھوتی ھے، اسکو تو یہ دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے کہ موصوف اپنے کسی بھی جواب کے فورا بعد کالا چشمہ پہن کر ارد گرد کے جہان سے غافل ھو جاتے ھیں.
خدا نے ذھانت سے بھی خوب نوازا ھے. ادبی محافل میں اقبال ، فراز اور ن م راشد کی شاعری میں چھپے فلسفے ببانگ دُہل یوں بیان کرتے ھیں کہ ان تینوں شعراء کی روحیں بھی عالم ارواح میں انگشت بدنداں ھوتی ھیں کہ یہ باتیں تو انہوں نے بھی وہ اشعار لکھتے ہوئے نہ سوچی تھیں...... حافظہ کمال کا پایا ھے (کاش اپنا پایا ھوتا) .... جناب کو اتنی نظمیں اور اشعار زبانی یاد ھیں کہ شرطیہ یہی وہ فردِ واحد ھے، جو بیت بازی میں فضا رحمان صاحب کو مقابلے کی ٹکر دے سکتا ھے.
کھانے کے اتنے ہی دشمن ھیں، جتنا کہ توصیف احمد ...... فرق صرف یہ ھے کہ توصیف صاحب غذائی دھشت گردی سے دشمن کا قلعہ قمع کرتے ھیں اور حرف راز وقتِ طعام اپنی فوٹوز فیس بک پر شیئر کر کے...... جو بھی ڈش زندگی میں ایک بار کھا لی، وہ ان کی فیورٹ قرار پائی، جبھی پسندیدہ کھانوں کی تعداد 6 درجن کے لگ بھگ ھے.
آرٹ کے رسیا ھیں، خصوصا موسیقی میں کے ایل سہگل سے لے کر جسٹن بیئبر تک کوئی بھی ان کی سماعت کو چھوۓ بغیر نہیں گزر سکا. بہت سے گلوکاروں اور شعراء سے بالمشافہ ملاقات کا شرف بھی حاصل کر چکے. میوزک کی اتنی زیادہ سمجھ بوجھ رکھتے ھیں کہ محمد رفیع تک کے گانے میں غلطیاں ڈھونڈ لیتے ھیں. اردو گروپ میں میری پوسٹ کی ہوئی آڈیو غزلوں پر سب سے پہلا لائک اور کمنٹ انہی کا ھوتا تھا. کسی بھی گانے کے اسرار و رموز کی جانکاری رکھتے ہوئے یوں تنقید کرتے ھیں کہ گمان گزرتا ھے کہ کسی میوزکل ریالٹی شو میں جج کے فرائض نبھا رھے ھیں. اپنے چند احباب میں اکثر "اَنو ملک" کے نام سے بھی جانے جاتے ھیں.
لیکن حرف راز کی جو خوبیاں انکی سبھی خوبیوں سے ممتاز ھیں وہ یہ کہ ایک تو حد درجہ جینوئن اور مخلص شخص ھیں، اور دوسرے انتہائی مثبت اور زندہ دل انسان ھیں. ایک سال سے زائد عرصے سے ان کو نوٹس کر رھا ہوں، کبھی انکو کوئی اختلافی کمنٹ یا کسی کی دل آزاری کرتے نہیں پایا، کبھی بھی انکو کسی سے نفرت میں مبتلا محسوس نہیں کیا ..... (شعراء سے معزرت کے ساتھ) حرف راز کے لئے میں نے خود ایک شعر لکھا ھے:
علم رکھتے ہوئے بھی کبھی علم بگھارا نہیں
اس نے بُھول سے بھی کسی کا کچھ بگاڑا نہیں
ھم سب تو فیس بک پر اپنی ذات کے لئے آتے ھیں لیکن حرف راز ہمارے لئے آتے ھیں. کبھی کبھی تو صرف ہمیں ہنسانے اور چمکارنے کو آن لائن آ جاتے ھیں. اردو فیملی میں حرف راز کی کیا افادیت ھے اور ان کا کیا درجہ ھے اسکا ابھی ہمیں ادراک نہیں اور ھم اندازہ کر بھی نہیں سکتے کیونکہ جس بشر کی ہر ہر حرکت کا مقصد فقط دوسروں کی چند لمحوں کی مسکان ھو اسکا مرتبہ دوسرے بشر مقرر نہیں کرسکتے.
0 comments: