فضا رحمان صاحب

2:39 AM 0 Comments

زبانِ اردو اور نوابوں کے شہر لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے ہمارے یہ گروپ ممبر اپنی وضح قطع اور گفتگو سے ہر صورت اک نواب ہی دِکھائی دیتے ھیں. اردو ادب بالخصوص شاعری ان کی رگ رگ میں خون بن کر دوڑ رھی ھے. اعلی ادبی پیمانوں سے نیچے کا کوئی بھی شعر اور شاعر ان کی برداشت سے باہر ھے، اکثر نئے شعراء ان کی کھری کھری تنقید کے نشتر سہنے کے بعد گروپ سے غیر حاضر رھنے لگتے ھیں. اور جس شاعر کے کلام سے یہ خوش ھو جائیں، اس کی اسقدر خوبصورت انداز میں حوصلہ افزائی فرماتے ھیں کہ وہ شاعر خود کو اردو ادب کی اھم ضرورت خیال کرنے لگے. جمالیاتی وعشقیہ شاعری ان کی پسندیدہ ترین ھے. فارسی سے بھی اردو ہی کی طرح محبت فرماتے ھیں.

انھیں ولی دکنی سے لے کر احمد فراز تک سبھی کلاسیک شعراء کے حالات زندگی یوں ازبر ھیں جیسے کسی کو اپنے قرض خواہوں کے نام. لگ بھگ سبھی پرانے شعراء کے دیوان انھیں زبانی یاد ھیں. فیس بک پر اپنے ہر ہر کمنٹ کے آخر میں ایک عدد شعر اور اپنے موجودہ شہر کا پتا بتانا لازمی خیال کرتے ہیں. شعر اصلاح و محبت میں جبکہ ایڈریس اس لئے کہ اگر کوئی بدلہ لینا چاھے تو اسے کوئی مشکل پیش نہ آئے. موصوف نے اپنے گھر پر ایک لائبریری کی صورت بیش بہا نایاب کتب کا ذخیرہ کر رکھا ھے. کتابیں صرف جمع نہیں کرتے، پڑھتے بھی ھیں. صرف دیوان غالب کے کوئی سترہ مختلف نسخے ان کے پاس موجود ھیں. اکثر کوئی غالب کے شعر کی تصحیح مانگ لے توفورا سبھی نسخوں سے جانچ کر بتا دیتے ھیں کہ سبھی نسخوں میں ایک سا لکھا ھے ان کی پسندیدہ فلمیں 'مغل اعظم' ، 'پاکیزہ' اور 'اُمراؤ جان' ان کی شخصیت کی صد فیصد درست عکاسی کرتی ہیں، اور ان فلموں کے تمام ڈائیلاگ انہیں ازبر ہیں. فلم "امراؤ جان" کے ڈائریکٹر سے تو بالمشافہ مل بھی چکے. اپنے گھر پر مشاعرے اور شعراء کی بیٹھک منعقد کرانا ان کا پسندیدہ مشغلہ ھے. سینس آف ھیومر انتہائی نفیس، مذاق بھی شاعری ہی میں کرنا پسند کرتے ھیں. غرض کہ ان کی شخصیت کا ہر ہر انگ شاعرانہ ھے.

اندازِ تکلم اور اندازِ طعام مخصوص نوابوں والا، نوابوں ہی کی طرح کا لباس زیب تن کرتے ھیں، انہی کی طرح نوادرات کی پرکھ اور سمجھ بھی. قرونِ اولیٰ کے دور کے برتن اکٹھے کرنے کا شوق ھے. انہی برتنوں میں گھر آئے مہمانوں کا سواگت عربی مٹھائیوں اور میٹھی گفتگو سے کرتے ھیں. نرم دِل اتنے ھیں کہ جن دنوں ارادتاً بھی فیس بک سے غائب ھوں، تب بھی کسی کی بیماری کی خبر سن کر دعائیہ کمنٹ ضرور کرتے ھیں. انکی زندہ دلی کا اس سے بڑھ کر ثبوت بھلا کیا ھو گا کہ یہ ہم جیسے غیر سنجیدہ حضرات کے درمیان اردو گفتگو پر ناصرف موجود ھیں بلکہ گفتگو بھی فرماتے ھیں. نڈر ایسے کہ رانا جیزی اور نعمان لاشاری کو ایک ساتھ مل کر بھی حواس باختہ نہ ہوئے
 
یہ ھستی دوسروں کی غلطیوں پر انہیں دل سے معاف کرنے کے عظیم جذبے سے سرشار ھے. اک خاص عہد کی نمائندگی کرتا یہ وہ لیجنڈ ھے جو اپنی شخصیت میں اپنا تمام گزرا دَور اور کلچر ساتھ ساتھ اُٹھائے پھرتا ھے. ایسی شخصیت اگلی پیڑیوں میں ناپید ھے. پچھلے سالوں میں یہ کینسر جیسے موزی مرض سے نبرد آزما بھی رھے. اللہ ان کو مکمل صحت دے اور ان کا مشفق سایہ اور بزرگانہ دستِ شفقت ہمیشہ ہمارے سروں پر قائم رکھے.... آمین

0 comments: