"گداگر" - افسانہ

1:33 AM 0 Comments

قرطبہ روڈ پر پچھلے دو دن کی طرح، آج بھی وہ اپنی اس جگہ پر دکھائی نہیں دے رھی تھی، اور اس کے بغیر فٹ پاتھ کا وہ حصہ جیسے خالی خالی محسوس ہو رہا تھا____ وہ پچھلے دو دن سے غائب تھی ___ کہاں چلی گئی وہ؟ روز کی طرح اپنے ہاتھ پھیلائے اور ادھ کھلے منہ کے ساتھ آسمان کی طرف چہرہ کئے وہ بڑھیا آج بھی اپنی جگہ سے غائب کیوں تھی؟___  تیزی سے سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے باسط نے آج تیسرے روز بھی اس بھکارن کی کمی کو سرسری سا محسوس کیا، لیکن اسکے پاس وقت زیادہ نہیں تھا، اسے جلدی سے گھر پہنچنا تھا، اس کی بیوی رابعہ کا اصرار تھا کہ آج باسط اپنی تمام ضد چھوڑ کے ہر حال میں اسکے ساتھ ڈاکٹر کے کلینک پر ضرور چلے گا. آج اک بار پھر، وہ لنچ میں کچھ بھی نہ کھانے کے باوجود، پیٹ میں ہلکا سا درد اور طبعیت میں نکاھت سی محسوس کر رھا تھا . سگریٹ کے آخری کش بھرتے ہوئے اس نے سگریٹ کا باقی ماندہ ٹکڑا ڈیش بورڈ پر رکھی ایش ٹرے کی جانب اچھال دیا. دونوں ہاتھ سٹیرنگ پر جمائے  اور پاؤں ایکسلریٹر پر رکھے وہ ٹریفک سے الجھتا ہوا گھر کی جانب رواں دواں تھا. انجانے میں، آفس کی تمامتر حشر سامانیوں اور اپنے گھر پر حالیہ دنوں میں چلنے والی بے تکی بحث و تکرار پہ مبنی ٹینشن زدہ فلم کے بیچوں بیچ لمحے بھر کو اک بار پھر پچھلی سڑک کی نکڑ پر روزانہ دفتر سے واپسی پر پائی جانے والی اس بڑھیا کے خیال نے اسے آ لیا___ وہ آج ادھر کیوں نہیں تھی؟____کہیں مر تو نہیں گئی بیچاری؟__ پاگل بڑھیا !! مرنا ہی تھا، آخر شدید سردی میں بھی باریک کپڑوں میں ادھر ہی بیٹھی رہتی تھی ____ کیا بھیک مانگنے کے لئے ضروری ھے کہ اپنی جان پر ضرور ہی ظلم کیا جائے؟____ لیکن میں کیوں اس کو سوچ رھا ھوں؟؟___ میں نے تو آج تک اس کو دیکھ کر نہ اپنی گاڑی کبھی روکی اور نہ ہی ایک روپیہ تک اس کو کبھی بھیک میں دیا، تو پھر اسکا اتنا احساس کیوں؟___  میں جب خود ہی پریکٹیکل نہیں ھوں تو پھر مجھے کیوں ہمہ وقت محض نظریاتی طور پر اچھا بننے اور  اچھا سوچنے کا شوق رھتا ھے؟__ میں اتنا فیک کیوں ھوں؟___ کیا واقعی میری سوچ اور فعل میں تضاد ھے؟__ آج تو میرے دفتر کے ایک کولیگ نے بھی سیاست پر ہونے والی بحث کے دوران مجھے یہی بات کہہ دی ____ کیا واقعی میرے ساتھ کوئی مسئلہ ھے؟___ شائد رابعہ ٹھیک ہی کہتی ھے میرے بارے میں___وہ بھی پتا نہیں کیا کیا سوچتی ہو گی ___ شادی کو ایک سال ہونے کو آیا، اور ابھی بھی ہم خوشی کی اس خبر سے محروم ھیں، جس کی خواہش ہر نوبیاہتا جوڑے کو ہوتی ہے __ بڑھیا کے بارے میں سوچتے سوچتے اک بار پھر اس کا ذہن اپنی ہی ذات، اپنے گھر اور اپنے آفس کے خیالات کی نذر ہو گیا.

ڈاکٹر منصور رشتے میں باسط کے دور کے اک عزیز اور بزرگ ڈاکٹر تھے، اور آج ان کے کلینک پر ضرورت سے کچھ زیادہ ہی رش تھا، مگر رابعہ  نے چونکہ اپوائنٹمنٹ لے رکھی تھی لہٰذا زیادہ انتظار کی زحمت نہ اٹھانا پڑی.____ باسط میاں ! جتنا ایزی تم لے رہے ہو ،تمہارا معاملا اتنا آسان ہرگز نہیں ہے. ڈاکٹر منصور نے باسط کی میڈیکل رپورٹس کا بغور جائزہ لیتے ہوئے، چشمہ ناک کی نوک پر ٹکائے اور چشمے کے عقب سے آنکھیں باسط پرجماتے ہوئے کہا ____ جیسا کہ تم نے بتایا کہ شادی سے ایک سال پہلے بھی تمھیں معدہ کی تکلیف کا مسئلہ درپیش رھا ___ تب بھی تم نے کاہلی اور لاابالی پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی مناسب علاج معالجہ نہیں کرایا، تب تو وہ تکلیف کسی نہ کسی طرح خود بخود رفع ہو گئی تھی، لیکن اب کی بار جب تکلیف حد سے بڑھ گئی ہے، تب تم اتنے دن بعد میرے پاس آ رہے ھو. نہ تم اپنی خوراک کا کوئی مناسب خیال رکھتے ھو، اور جیسا کہ رابعہ بھی بتا رہی ہے کہ باہر کے کھانے کثرت سے کھا کھا کر تم نے اپنا یہ حال کر لیا ہے____ تمھیں یہ لائف اسٹائل بدلنا ہو گا میرے بھائی ___ تم خود اپنے آپ سے دشمنی کر رہے ہو . منصور صاھب کی سرزنش کے جواب میں باسط صرف 'ہوں ہاں' اور 'جی جی' کے علاوہ کچھ نہ بول سکا.

ڈاکٹر منصور نے دوائیاں اور ڈھیر سا پرہیز کاغذ پر لکھ دیا، اور واپسی کے سفر میں رابعہ اس کاغذ کو لے کر بہت پر عزم دکھائی دے رہی تھی، جیسے اسے کرنے کو کوئی پراجیکٹ مل گیا ہو. باسط کے دماغ میں البتہ کچھ اور ہی چل رہا تھا ____ آخر ڈاکٹر منصور نے مجھے "لاابالی" کا خطاب کیوں دے ڈالا؟___ وہ آخر جانتے ہی کیا ہیں میرے بارے میں؟___کم از کم رابعہ کے سامنے ان کو یوں بات نہیں کرنی چاہئے تھی____ شادی کو ابھی کچھ ہی تو عرصہ ہوا ھے، اور پہلے ہی میرے بارے میں رابعہ کی رائے شاید کچھ اتنی اچھی نہیں بن رہی._____ اس کو پہلے ہی میری اکثر باتوں سے اعتراض رہتا ہے، وہ مجھے  غیر ذمے دار سمجھتی ہے، اب تو ڈاکٹر صاحب کی سند بھی حاصل ہو گئی اسے. ___ لیکن ___ کیا سچ یہی نہیں کہ میں واقعی اک لاابالی سوچ کا مالک انسان ھوں؟___ میں ھوں تو اک غیر ذمے دار شخص ہی ___ وہ انہی سوچوں میں گم تھا اور بے اختیار اس کا ہاتھ ڈیش بورڈ پر رکھے سگریٹ کے پیکٹ کی جانب بڑھا ہی تھا کہ رابعہ نے فورا ہاتھ بڑھا کر وہ پیکٹ پہلے ہی اٹھا لیا ____ آپ آج سے سگریٹ بالکل نہیں پئیں گے._____ پل بھر کو سڑک سے نظریں ہٹا کر اس  نے خفت بھری نظروں سے رابعہ کو دیکھا ___لیکن آخر کیوں ؟؟____ یہ اچانک سگریٹ پر غصہ کیوں؟؟ ٹریفک زیادہ تھی اسے فورا اپنی توجہ واپس سڑک کی جانب مبذول کرنا پڑی. بس آپ نہیں پئیں گے سگریٹ___یہ بھی آپ کی بیماری کی ایک جڑ ھے___ جب دیکھو سگریٹ پھونکتے رھتے ھیں ___ آپ کو کیوں سمجھ نہیں آتی کہ اب آپ اکیلے نہیں ہیں، آپ پر اب اپنے علاوہ بھی کسی کی ذمے داری ھے___کل کو ہمارے بچے ھوں گے ___کیا اثر لیں گے وہ آپ سے؟ رابعہ نے پیکٹ کو دوسرے ہاتھ میں پکڑتے ہوئے دروازہ کی جانب کر کے سگریٹ کا پیکٹ باسط کی پہنچ سے دور کر دیا. باسط  نے بچوں کی طرح بلبلاتے ہوئے کہا، اچھا آج آخری بار تو پینے دو ____ کل سے نہیں پیوں گا.... مگر رابعہ بضد تھی ___ نہیں آج بھی نہیں، اور کبھی بھی نہیں___ یہ کہتے ہوئے اس نے سگریٹ کا پیکٹ دروازے کے شیشے سے باہر سڑک پر پھینک دیا. اس پر باسط چلا اٹھا___ اف یہ بیویاں!! شادی کو ایک سال ہوا نہیں، اور ان کی من مانیاں شروع ___ نکاح کر کے گویا مالک ہی بن بیٹھتی ہیں ___ایک تو پہلے ہی میری طبعیت ٹھیک نہیں ، اس پر تمہارے لیکچر بھی سنوں ___ اس کے بلند ہوتے لہجے کی درشتگی کو جیسے گاڑی کے دروازوں اور شیشوں تک نے محسوس کیا، باہر رواں ٹریفک کے باوجود، دم بھر کو گاڑی میں اک سناٹا سا طاری ہو گیا____کچھ دیر کو دونوں کے بیچ کوئی بات نہ ہوئی. دونوں ہی اپنی اپنی حرکت پر کچھ نادم تھے، کوئی بات کرنا چاہتے تھے، لیکن کر نہیں پا رھے تھے. باسط کو غلطی کا احساس تو فورا ہی ہو چکا تھا، مگر کچھ دیر کو اسے بھی اپنی مردانہ برتری قائم رکھنے کی لئے خاموش ہی رھنا پڑا. ____ کیا یار!!! __اب___ میں کیا بات کروں اس سے ____شادی کے بعد کیا کیا ارمان لئے دلہن پیا کے گھر آتی ہے____ میں نے آج تک کیا ہی کیا ہے اس کے لئے؟___ بچے بھی تو نہیں ہیں، جن سے دل بہلا سکے___سارا دن گھر پر میرا انتظار، کیا صرف اس لئے کہ میں شام  کو آؤں اور جھگڑا کر کے اس کا موڈ خراب کر دوں؟__وہ اب رابعہ سے بات کرنا چاہ رھا تھا، لیکن کوئی ڈھنگ کی بات ذھن میں نہیں آ رہی تھی___اتفاق سے گاڑی قرطبہ روڈ سے گزارتے ہوئے، باسط کو جانے کیا خیال آیا اور اس نے سڑک کے خالی فٹ پاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رابعہ سے کہا، ____تمھیں پتا ھے کہ وہاں فٹ پاتھ پر اس جگہ ایک بڑھیا روز آفس سے واپسی پر مجھے بیٹھی نظر آتی تھی___ رابعہ نے بھی ارادتا اس موضوع میں اپنی دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے فٹ پاتھ کی طرف دیکھا. ___اچھا پھر؟؟___آپ یقینا اس کو خیرات وغیرہ دیتے ھوں گے؟___ باسط شاید اس سوال  کے لئے تیار نہیں تھا____ نہیں خیرات تو میں نہیں دیتا لیکن !!! وہ روز ادھر بیٹھتی ھے اور میں نے اس بات کو کبھی اھمیت نہیں دی تھی، لیکن پچھلے کچھ دنوں سے وہ ادھر نظر نہیں آ رھی ____ عجیب عورت تھی وہ، کبھی بولتے نہیں دیکھا اس کو، بس منہ کھولے سر آسمان کی طرف کئے بیٹھی رہتی تھی ___ تمام سردیوں میں، حتی کہ شدید دھند بھری شاموں میں بھی ادھر بیٹھی ہوتی تھی، اور سردی سے بچاؤ کا کوئی مناسب انتظام کئے بغیر____اور ___ اور کچھ دن ہوئے وہ غائب ھے___  شاید اس نے بھیک کے لئے اپنی جگہ بدل لی ھو، شاید کسی اور سڑک پر بیٹھنے لگی ھے جہاں زیادہ پیسے مل جاتے ھوں ____ لیکن !!! شاید وہ مر گئی ھے___ پتا نہیں اس کا کوئی خاندان بھی ھے یا نہیں؟___ بچے بھی شاید ھوں گے اسکے !!! باسط انجانے میں پتا نہیں کیا کیا بول رھا تھا، اور باسط کے ان خیالات کو جان کر رابعہ دم بخود اپنے شوہر کو یوں دیکھ رہی تھی جیسے کوئی ماہر_نفسیات مزید اک اور نئی بیماری کے ادراک پر اپنے پاگل مریض کو دیکھتا ھے. وہ کافی کچھ کہنا چاہتی تھی مگر صرف اتنا ہی بول پائی __آپ کو اگر اب وہ بڑھیا ملے تو ضرور اس کی جھولی میں کچھ روپے ڈال دینا،___کیا پتا اسی کی دعا ھمارے لئے کام کر جائے.


باسط صاحب ! آپ اپنا زیادہ سے زیادہ صدقہ کیا کریں، صدقہ بلاؤں کو ٹال دیتا ہے _____ اگلے دن اسکے کولیگ اعجاز نے اچانک اسکی توجہ اپنی طرف مبذول کرالی. اعجاز جو کچھ دنوں سے باسط کی صحت کو لے کر پیدا ہونے والی پریشانیوں کو پڑھ رہا تھا، جب اعجاز کے استفسار پر باسط نے اسکو اپنی حالیہ پریشانیوں کی کچھ تفصیل بتائی تو اعجاز نے اپنے تئیں باسط سے یہ صدقہ والی بات شروع کر ڈالی ____ پہلے تو باسط سے کوئی جواب نہ بن پڑا، پھر گویا ہوا ____ نہیں اعجاز بھائی، آپ غلط سمجھ رھے ہیں، میں تو اکثر چیریٹی وغیرہ کرتا رہتا ھوں، زکوات بھی ہر سال باقائدگی سے ادا کرتا ہوں.____ اس پر اعجاز نے اپنی بات کی مزید وضاحت کر ڈالی ____ لیکن باسط صاحب! صدقہ کے لئے صدقہ کی نیت بہت ضروری ہے. میں آپ کو ایک بات بتاؤں، میں نے بزرگوں سے سنا ہے کہ اللہ کے نزدیک یہ روز کچھ نہ کچھ صدقہ کرنے کا ایک انداز انتہائی پسندیدہ ہے. آپ چاہے روز پانچ ، دس روپے ہی صدقہ کی نیت سے کسی ضرورت مند کو دے دیں، الله اس سے بہت خوش ہوتا ھے اور یہ روز مرہ میں آنے والی مصیبتیں ٹل جاتی ہیں.____ ؛لیکن اعجاز صاحب! اگر پیسے دینے ہی ہیں تو بندہ کسی مستحق شخص کو دے، یہ دس پندرہ روپے پیشہ وارانہ بھکاریوں پر وار دینے سے تو کوئی فائدہ نہیں. اعجاز بھی جیسے اس دن باسط کو قائل کرنے کے مکمل موڈ میں تھا، کہنے لگا ____ یہ مت دیکھئے کہ کوئی مستحق ھے یا نہیں__ظاہر ھے جو مانگ رہا ھے وہ ضرورت مند تو ضرور ہی ھے ___ باقی نیتوں کے حال تو اللہ ہی جانتا ھے، ھم آخر کون ھوتے ہیں دوسروں کی نیتیں ٹٹولنے والے___ آپ بس اپنی طرف سے صدقہ کی نیت کر کے کسی بھی فقیر مسکین کو کچھ روپے دے دیا کریں. آپ کو آپ کی نیت کا اجر مل جائے گا. جواب میں باسط صرف یہی کہہ سکا ___  بیشک اعجاز بھائی!! بالکل درست فرمایا آپ نے.


یہ آخر آجکل ہو کیا رہا ھے؟___ ہر کوئی مجھے لیکچر ہی دینے بیٹھ جاتا ھے ___ میں کیا کوئی چھوٹا بچہ ھوں، جسے یہ صدقہ و خیرات کی باتیں پتا نہ ھوں؟____ لیکن اعجاز نے بات تو ٹھیک ہی کی ____ اس نے کچھ غلط تو نہیں کہا_____ اور میں نے بھی تو اس سے جھوٹ ہی بولا کہ میں چیریٹی کرتا رھتا ھوں____ مجھے نہیں یاد کب آخری بار میں نے کسی مستحق کی پیسوں سے امداد کی ہو____ میں نے تو پچھلے سالوں میں صرف اپنا بینک بیلنس بڑھایا ھے___ لیکن کیا میرا بینک بیلنس بڑھنے سے مجھے ہی کوئی فائدہ ہوا؟؟ بے دھیانی میں گاڑی چلاتے چلاتے اس کی نظر فٹ پاتھ پر بیٹھی بڑھیا پر پڑی جو آج واپس اپنی پہلی والی جگہ پر موجود تھی، اسی انداز سے بند آنکھوں کے  ساتھ آسمان کی طرف منہ کئے ہوئے   ____ پتا نہیں کیوں باسط کو پہلی بار اسے دیکھ کر اک خوشی کا احساس ھوا. لیکن یہ کیا __ بڑھیا کے سر پر ایک سفید پٹی بندھی ہوئی تھی، جس پر کچھ لال پیلی دوائی کا نشان واضح نظر آ رہا تھا.___مزید غور کرنے پر اسکے ہاتھ __ اور پاؤں پر بھی ایسی ہی کچھ پٹیاں بندھی ہوئی نظر آئیں، باسط کو یہ سمجھنے میں ایک لمحہ بھی درکار نہیں تھا کہ بڑھیا کچھ دن ادھر فٹ پاتھ پر موجود کیوں نہیں تھی؟ یقینا کسی گاڑی نے اس کو روندھ ڈالا تھا. اور وہ پتا نہیں کس حال میں رھی، کہاں رہی اتنے دن. باسط کو احساس بھی نہیں ھوا کہ کب اس نے بریک لگا کر گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی کر لی تھی. کیا مجھے اس بڑھیا کے پاس جانا چاھئے؟ ____ کیوں؟ ___ میں نے تو آج تک اس طبقہ کےلوگوں سے کبھی سلام تک نہیں لیا. میں کیسے اور کیا بات کروں گا________اف!! کیا میں اک  طبقاتی امتیازات کا شکار انسان ہوں؟ اور مجھ میں یہ چیز کب سے موجود ھے؟ ___میں تو دوستوں کی محافل میں بڑھ چڑھ کر تبدیلی اور انقلاب کی باتیں کیا کرتا ھوں____ باسط  نے پھر ایک نظر بڑھیا کو دیکھا، وہ وہیں اپنی جگہ کسی کی بھی موجودگی سے بے نیاز، خاموش اور ساکت بیٹھی تھی، بڑھیا کے سر پر بندھی پٹی اور خاموشی باسط کا سکون غارت کر رہی تھی، باسط نے دونوں بانہیں اور سر، کار کے سٹیرنگ پر دھر دیے____ ایک سلو موشن ویڈیو فلم اس کے سر میں چل رہی تھی ____ ڈاکٹر منصور اپنا موٹے شیشوں والا چشمہ پہنے ہوئے، رابعہ ہاتھ میں سگریٹ کا پیکٹ پکڑے  ہوئے، اور اعجاز کی آواز ان دونوں کے عقب سےگونجتی ہوئی____ھم آخر ھوتے کون ہیں دوسروں کی نیتیں ٹٹولنے والے؟؟_____تمھیں بدلنا ھو گا اپنا لائف سٹائل____ تم پہلے ہی بہت دیر کر چکے____ ___ھمارے ہونے والے بچے کیا اثر لیں گے آپ سے؟___ ___آپ کو اگر اب وہ بڑھیا ملے تو ضرور اس کی جھولی میں کچھ روپے ڈال دینا،___کیا پتا اسی کی دعا ھمارے لئے کام کر جائے ____اور___ صدقہ بلاؤں کو ٹال دیتا ہے

وہ بے اختیار اٹھا اور گاڑی کا دروازہ کھول کر فٹ پاتھ پر پچھلی جانب بیٹھی بڑھیا کی طرف بڑھا. فٹ پاتھ کی مخالف سمت  سے پینٹ شرٹ میں ملبوس ایک بیس بائیس سال کا لڑکا بھی ایک ہاتھ میں کتابیں پکڑے اور دوسرے ہاتھ میں بیساکھی تھامے لنگڑاتا ہوا اسی طرف کو آ رھا تھا. باسط کو اپنا ایک ایک قدم ایک ایک من کا لگ رہا تھا. سڑک پر موجود ٹریفک کا شور پتا نہیں کہاں دب چکا تھا، اور ذھن میں دھماکوں کے ساتھ اعجاز کی یہ آواز بار بار گونج رہی تھی ____ جو مانگ رہا ھے وہ ضرورت مند ہی تو ھے____اور نیتوں کے حال تو الله ہی جانتا ھے ___ اس کا ہاتھ بے اختیار اپنی جیب کی طرف بڑھ رھا تھا، کچھ ہی لمحوں میں، ایک بیس روپے کا نوٹ اس کے ہاتھ میں تھا ____ میں کیا بات کروں بوڑھی عورت سے____ ایسی عورتوں کو کیا کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے ؟؟ اگر میں نے اسے کچھ بولا، تو وہ کیا سمجھے گی؟ کیا مطلب لے گی. اسی اثنا میں وہ بڑھیا کے بالکل سامنے جا پہنچا ____ وہ کوئی بات کرنا چاھتا تھا، کچھ پوچھنا چاھتا تھا، لیکن دوسری جانب سے بیساکھی کے سہارے چلتا ھوا لڑکا بھی عین اسی وقت وہیں پہنچ چکا تھا، بلکہ قریب پہنچ کر وہ رک بھی گیا.  باسط شاید اس لڑکے کی آمد کی وجہ سے کچھ بول نہ پایا، اچانک باسط کا موبائل فون بجنے لگا. بیساکھی والے لڑکے کی آمد اور پھر موبائل فون پر آنے والی کال کی وجہ سے اس نے جلدی میں چپ چاپ بیس روپے کا نوٹ بڑھیا کے سامنے دھری تھالی میں رکھ دیا. بڑھیا کچھ بھی بولے بغیر اسی طرح آسمان کی طرف منہ کئے بیٹھی رہی.  اسی اثنا میں اس بیساکھی والے لڑکے نے بھی اپنی مٹھی میں پکڑا ہوا اک بیس روپے کا نوٹ بڑھیا کی تھالی کی طرف بڑھایا اور بولا.___ 'یہ لے اماں'___ اس لڑکے کے منہ سے 'اماں' کا لفظ سن کر باسط کو یوں لگا جیسے کسی  نے اسکو اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا ہو. کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری باسط، واپس اپنی گاڑی کی طرف آنے کی بجائے اسی فٹ پاتھ پر مخالف سمت چلںا شروع ہو گیا..... موبائل فون مسلسل بج رہا تھا، بے دھیانی میں اس نے کال اٹینڈ کر لی، فون کان سے لگا کر خوابناک سی آواز اسکے منہ سے نکلی___ 'ہیلو'_____ دوسری جانب سے خلاف معمول رابعہ کی مسکراتی ہوئی آواز سنائی دی ____ باسط !! میری طبیعت ٹھیک نہیں ھے جلدی گھر آئیے

- خرّم امتیاز -

0 comments: