والد اور بیٹے کی دوستی

12:38 AM 0 Comments

 میں آپکو سچ بتاؤں .... جنریشن گیپ اچھی چیز ھے ... اور میں اس کا حامی ھوں. اس کو جتنا مرضیکنٹرول یا کم کرنے کی کوشش کر لیں یہ ختم نہیں ھو سکتا. اور ہونا چاہئے بھی نہیں.

اگر والد اپنے بیٹے کے ساتھ فرینڈلی نہیں یا اس کی بات نہیں سمجھتا تو یہ بیٹے کی ناکامی کی ذمے داری گردانی نہیں جا سکتی. دوسری طرف اگر والد بیٹے کے ساتھ فرینڈلی ھے ، تو بھی یہ بیٹے کی کامیاب زندگی کیلئے ہرگز کوئی ضمانت نہیں.


آگر دونوں میں دوستی نہیں تو اس میں نہ تو والد کا قصور ھوتا ھے اور نہ ہی بیٹے کا. بلکہ کبھی حالات اور کبھی کبھی جنریشن گیپ کا قصور ھوتا ھے جس کے باعث دونوں زیادہ قریب نہیں آ پاتے.  

 
گیپ کی وجہ ... جذبات کا فرق، تجربات کا فرق، کمیونیکشن کی کمی، الفاظ کا غلط چناؤ، حتی کے آواز کا اتار چڑھاو، تعلیم کا فرق، شعور اور آگہی کا فرق (ضروری نہیں نئی نسل میں زیادہ شعور ھو، اکثر معاملا الٹ ھوتا ھے)
اور کبھی کبھی معاشی عدم استحکام بہت سی شکایات پیدا کر دیتا ھے جس کے باعث اولاد کو بہت سی شکایات پیدا ھو جاتی ھیں.
 سبھی والد لطیف شخصیت کے حامل نہیں ہوتے. سب مختلف پرسنالٹی رکھتے ھیں. اور کچھ چیزیں بہت کوشش کے باوجود بھی کسی کسی مرد کی طبیعت کا حصہ نہیں بن پاتیں.

(1) پیار (2) تربیت (3) احترام ، (4) رعب و دبدبہ اور (5) ڈر .... ان پانچوں چیزوں میں بارڈر لائن بہت باریک ھوتی ھے. بہت سنبھالو تب بھی رویوں کے معمولی اتار چڑھاؤ سے ان تینوں میں سے کوئی ایک چیز باپ بیٹے کے رشتے میں غالب آ جاتی ھے . یہ سب اتنی آسانی سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا.


 کچھ کیسز میں بیٹے کو باپ سے دور کرنے میں ماں کا بھی کردار ہوتا ھے. عموما باپ کو ماں کی طرح پروپیگنڈہ نہیں کرنا آتا .... باپ ماں کی طرح چونچلے اور ناز نہیں اٹھاتا. ..... جس کو ماں پیار پیار میں منفی پورٹرے کرنے میں کامیاب ھو جاتی ھے
بچہ غلطی کرے تو ماں سارا دن اسے باپ سے ڈراتی ھے .. کہ "آ لینے دو تمہارے ابو کو ... آج تمہاری خیر نہیں" ..... بچہ سارا دن باپ کے خوف سے کانپتا ھے ..... شام کو باپ آتا ھے ... ماں یوں شکایت لگاتی ھے جیسے بچے کی وکیل ھو ...... باپ کو غصہ آ جائے تو ماں آگے بڑھ کر بچے کو بچاتی بھی ھے، "چلئے جانے بھی دیں ... ابھی بچہ ہی تو ھے" ........................ یہ صرف ایک مثال ھے ... ایسی ہی بہت سے دوسری مادرانہ شفقت سے بھرپور حرکات سے ماں لاشعوری طور پر بچے کو باپ سے دور کرنے کا باعث بنتی ھے

  
جن والدین کی اولاد ان کے ساتھ بے تکلف اور اطاعت گزار ھے. ان دونوں کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے. یہ اچھے اعمال اور دعاؤں کا نتیجہ زیادہ ھے . میں اس سلسلے میں باپ یا بیٹے کو کریڈٹ نہیں دے سکتا. کیونکہ میں نے ایسے آئیڈیل باپ بھی دیکھے ھیں جن کی اولاد نے انکو جوتے کی نوک پر رکھ کر نافرمانیاں کیں. اور ایسے نامعقول باپ بھی دیکھے جن کی ھزارہا غلطیوں اور خراب ماحول فراہم کرنے کے کے باوجود بھی انکی اولاد فرمانبردار تھی

0 comments: