لبرل اور کنزرویٹیو سوچ

 میرا اپنا ذاتی خیال ھے کہ لبرل یا کونزرویٹیو طرزِفکر کو ہمیشہ مذھب سے جوڑ دینے کی کوئی ضرورت نہیں. یہ ایک انسانی اندازِفکر ھے، جو کسی بھی انسان کی زندگی کے کسی بھی شعبے مثلا انٹرٹینمنٹ، سپورٹس، فکشن، فلسفہ، سفر، کاروبار، صحت، فوڈ، لباس حتی کہ مذھب میں بھی اور تقریبا روز مرہ کی زندگی میں درپیش ھر ھر معاملے میں کسی بھی انسان کے فیصلوں اور ایکشنز سے واضح ھوتا ھے.

ظاہر ھے ہر انسانی سوچ کے پس پردہ اسکا ایک بیک گراؤنڈ ھوتا ھے، جس کی حقیقت سے انکار ممکن نہیں. یہ مکمل طور پر کسی بھی انسان کی ذاتی ترجیح ھے. کہ وہ کس معاملے میں کیسا طرزِفکر رکھتا ھے.

میرا یہ بھی ماننا ھے کہ کوئی بھی مکمل کنزرویٹو یا مکمل لبرل کبھی نہیں ھوتا، ہر انسان مختلف شعبوں میں ان دونوں طرح کے اندازِفکر کا مجموعہ ھوتا ھے. کبھی لبرل چوائس فائندہ مند رہتی ھے اور کبھی کونزرویٹیو.

میں اپنی بات کروں، تو میرے دوست مجھے کونزرویٹیو خیال کرتے ھیں، اور میری فیملی مجھے لبرل سمجھتی ھے. جبکہ میرا اپنا خیال ھے کہ میں 70 فیصد کنزرویٹیو اور 30 فیصد لبرل ھوں.

  •  پرسنل پریفرینس (ذاتی ترجیج) کیا ھوتی ھے؟
یہ بالکل ویسے ہی ھے جیسے آپ کبھی پیاسے ھوں، اور آپ کے سامنے پانی کے بھرے تین گلاس پڑے ھوں، ایک شیشے کا دوسرا مٹی کا اور تیسرا سٹیل کا _____ اور یہ مکمل طور پر آپ کی ذاتی ترجیح ھو گی کہ آپ ہاتھ بڑھا کر کونسے گلاس سے پانی پیتے ھیں. لیکن اس لمحے شعوری یا پھر لاشعوری طور پر کوئی نہ کوئی سوچ آپ کے ذہن میں کارفرما ضرور ھو گی

ھو سکتا ھے کہ آپ مٹی کا گلاس اٹھائیں اور دل میں یہ سوچ ھو کہ چونکہ میرے آباؤ اجداد یا ہمارے پیارے نبی (ﷺ) نے مٹی کے برتن میں پانی پیا ھو گا________ ھو سکتا ھے شیشے کا گلاس اٹھاتے ہوئے آپکی یہ سوچ ھو، کہ شفاف پانی نظر آ رھا ھے یقینا جراثیم اور گندگی نہیں ھو گی اس گلاس میں.._______ یا ھو سکتا ھے کہ آپ سٹیل کا گلاس اٹھائیں کیونکہ آپ کو ذاتی طور پر دھاتی برتن میں پانی پی کر فرحت کا احساس ھوتا ھے.

یہ کسی بھی معاملے میں ہر انسان کی پرسنل پریفرینس ھے. چونکہ ہمارے مذھب نے ہمیں کسی ایک خاص طرح کے میٹیریل کے بنے برتن سے پانی پینے کے لئے باؤنڈ نہیں کیا، اس لئے اس معاملے میں مذھب کو لانا کم عقلی ھو گی.

کسی پر کس حد تک کُھلنا چاہئے؟

کتاب اتنی ہی کھولنی چاہئے، جنتی کوئی پڑھنے کی طلب اور سکت رکھتا ھے

سکت:
ھر بندھن میں بندھے اشخاص کی اپنے شخصیت کے زیر_اثر ایک حد مقرر ھوتی ھے اور وہ حد آپ کو تب ہی پتا چلتی ھے، جب آپ اسکے ساتھ کسی نہ کسی رشتے میں منسلک ہوتے ھیں. آپکے ساتھ چلتے چلتے جو شخص کسی سٹیج پر آپ کے قیمتی راز یا آپکی کمزوریاں مزید اپنے تک سنبھال کے نہ رکھ پائے، تو سمجھو کہ اس کی سکت اتنی ہی تھی. اگلے مرحلوں کے لئے آپ ھوشیار ھو جائیں گے. کبھی بھی کسی سے آغاز میں ہی سب کچھ شیئر نہ کریں. اس کو کھلنے کا موقع دیں.

طلب:
طلب کا اندازہ دوسرے شخص کی جانب سے ملنے والے سگنلز، اشتہا ، تجسس اور اھمیت دیئے جانے کے مواقعوں سے ھو جاتا ھے. طلب اور رسد (ڈیمانڈ اینڈ سپلائی) میں بیلنس نہ ھو تو آپ دوسرے شخص کے لئے بے وقعت ھو جاتے ھیں. اگر آپ سے یہ اندازہ کرنے میں غلطی ھو جائے تو سراسر آپ ہی قصور وار ھیں، دوسرا شخص نہیں .... کیونکہ جذباتی تعلقات میں دھوکہ دینے والا نہیں، بلکہ دھوکہ کھانے والا ہی مجرم ھے. اور سزا بھی اسی کو ملتی ھے.


ایسا ھے کہ کچھ بے صبرے لوگ ناول خریدتے ہیں اور ابتدائی صفحات کے بعد فورا اچھی یا بری رائے قائم کرنے کو ناول کا اختتام پڑھنے کے لئے آخری صفحوں کا رخ کرتے ھیں.. دراصل ایسے لوگوں میں وہ کتاب پڑھنے کی سکت ھوتی ھے اور نہ ہی طلب ....... مطلب وہ کتاب درحقیقت ان لوگوں کے لئے ھوتی ہی نہیںمزے کی بات کہ ایسے لوگ کے لئے کتاب پڑھنے کا مقصد:"just for the sake of reading that book"ھوتا ھے. وہ لوگ محفلوں میں اس کتاب کو اپنی فیورٹ کتاب بھی ڈکلئیر کرتے پائے جاتے ھیں، اس پر رائے دیتے ہیں. تبصرے بھی کرتے ھیں. لیکن وہ کہانی کے تمام اتار چڑھاؤ اور حالات و واقعات سے وہ نابلد ہی ھوتے ھیں..بچپن میں ہمارے سکول کی کتابوں پر لکھا ھوتا تھا: "کتاب بہترین ساتھی ھے، اسے پیار کیجئے، اسے ضائع ہونے سے بچایئے"میرے نزدیک کتاب لائبریری میں بیکار پڑے رھنے سے ضائع نہیں ھوتی، بلکہ کتاب غلط بندے کے ہاتھ میں جانے سے ضائع ھوتی ھے. جب بہت سے لوگوں کے پڑھ لینے کے بعد بھی کتاب کا مقصد فوت ہی رھے، تو سمجھو کتاب ضائع ھو گئی. اس لئے میری کتاب کے باہر لکھا ھو گا: "اس کتاب کو غلط ھاتھوں میں جانے سے بچایئے"

---
26 اپریل 2014

سارہ رخسار

خاکہ نگاری کا مقابلہ شروع ہوا تو دل میں سوچا "خرّم میاں !! آسان کام تو سبھی کر لیتے ھیں، مقابلہ اگر جیتنا ھے تو کوئی مشکل اور انہونا کام کرڈالو. تمام ممبران اپنے دوستوں کا خاکہ لکھ رھے، ایسے میں کچھ مختلف اور مشکل  کرنے کی چاہ میں اپنے دشمن کا خاکہ لکھ ڈالو."  دشمن کا نام آتے ہی فیس بک پر اپنی واحد اور اکلوتی دشمن کا نام ہی میرے ذہن میں ابھرا .... سارہ رخسار ..... دل تو بالکل نہیں چاہ رھا تھا کہ کسی بھی طرح اپنے دشمن کی مقبولیت کا باعث بنوں لیکن مرتا کیا نہ کرتا، آخر مقابلہ جیتنے کی چاہ جو تھی، تو انتہائی مجبوری کے عالم میں محترمہ سارہ رخسار کے خاکے کا آغاز کیا.

 لیکن محترمہ نے اسقدر  خشک ، ڈیپریسنگ اور کسی بھی قسم کے لطیف جذبات سے مکمل طور پر عاری طبیعت پائی ھے کہ تین دن سے ان پر اک مذاقیہ خاکہ لکھنے کی کوشش کر رھا ہوں..... مجال ھے کہ کوئی ایک بھی شگفتہ لائن سارہ کو سوچ کر دماغ میں آئی ھو. الٹا دماغ کے کونوں کھدروں میں دوسرے دوستوں کے خاکوں کے لئے جو کچھ اچھا اچھا سوچ رکھا تھا، اسکو بھی سمجھو زنگ لگ گیا ھو. اب تو خدا سے یہی دعا ھے کہ یا تو یہ ادھورا خاکہ مکمل کر دے ... یا پھر ادھوری سارہ کو پورا کر دے.

  سارہ ہر لحاظ سے ایک گھمنڈی. جھگڑالو اور اکھڑ لڑکی ھے. مردوں کی عزت کرنا تو اس نے شائد سیکھا ہی نہیں. اور لڑکیوں سے اس کی بنتی نہیں. صحیح معنوں میں بِھڑوں کا چھتہ ھے، کسی بھی لمحے کسی سے بھی جھگڑا مول لے سکتی ھے. لانگ ٹرم دشمنی قائم رکھ سکتی ھے....... سکاٹ لینڈ میں رہنے کے باوجود رَج کے پینڈو واقع ہوئی ھے. اپنے اس احساس کو اپنے چہرے پر بھاری بھرکم میک اپ کی تہیں لگا کر دور کرنے کی کوشش کرتی ھے،   وہاں کی کرنسی پاؤنڈز میں کوئی بھی خرچہ کرنے سے پہلے حساب لگاتی ھے کہ یہ کتنے پاکستانی روپے بنتے ھیں. اچھی طرح تسلی کر لینے کے بعد پھر خرچہ پاؤنڈز میں ہی کرتی ھے.  ٹھنڈے ملک میں رہ کر دماغ پر برف کی تہہ جم چکی، اس کے تمام جمالیاتی احساسات منجمد اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سُن ھو کر رہ گئی ھے. عجیب مخمصوں اور مصلحتوں کا شکار ھو کر خود کو کومپلیکیٹ بنانے کی کوششوں میں چار سال تک اپنی   شادی کو فیس بک کے دوستوں سے چھپائے رکھا، حالانکہ ارینجڈ میرج تھی.

  سارہ رخسار مجھے ایک آنکھ نہ بھانے کے باوجود بھی ہر لحاظ سے اک جینوئن شخصیت لگتی ھے، اس کی نفرت بھی  سراسر خالص ھے اور میرے نزدیک یہ بھی ایک پلس پوائنٹ ھے. انتہائی محب وطن ھے، پاکستان کی خاطر کسی سے بھی لڑ پڑے گی. تمام خامیوں کے باوجود دل کی تھوڑی سی اچھی بھی ھے،  اس لئے اس کو دل سے دور کرنا مشکل ھے... کیا کریں مجبوری ھے ایسے ایسے لوگوں کے ساتھ بھی گزارا کرنا پڑے گا صد شکر کے وہ اس خاکے کا جوابی حملہ خاکے کی شکل میں نہیں دے سکتی کیونکہ اگر خدا نے سارہ کو لکھنے کے فن سے آشنا کر رکھا ھوتا تو سوشل میڈیا پر کئی طوفان برپا ھو سکتے تھے

---
اپریل 2014

کیا لٹریچر کسی کی سوچ اچھی بنا سکتا ھے؟

میں نے آج تک لٹریچر کی بدولت کسی کی سوچ بدلتے نہیں دیکھی. انسان مجموعی حثییت میں ویسا ہی رہتا ھے. یہی وجہ ھے کہ آپ کو ادباء میں بھی ہر رنگ کے نمونے مل جایئں گے. جن لوگوں کا لکھا لٹیرجر ہم پڑھ کر اپنی شخصیت سنوارنے کی بات کر رھے ہیں ، پہلے ان لکھنے والوں کی اپنی شخصیات کی صف بندی تو ذرا کیجئے.ہر طرح کی ورائٹی دستیاب ہے لٹریچر لکھنے والوں میں ہی. 

حسد کرنے والے بھی، پیار کرنے والے بھی، ٹانگ کھینچنے والے بھی، جلتی پر تیل ڈالنے والے بھی، لالچی بھی، سخی بھی، جھوٹے لوگ، سچے لوگ ، نفسیاتی الجھنوں کا شکار بھی، لبرل بھی، کنزرویٹیو بھی، دھڑے بندیاں کرنے والے بھی اور سب کو جوڑ کر مل ملا کر چلنے والے بھی، مزاروں اور صوفی بزرگوں کے پیچھے جانے والے بھی، اور صوفی ازم سے انکاری بھی، دوست بھی، دشمن بھی، مغرور بھی، مسجود بھی، نشے میں چور شرابی بھی اور زانی بھی، حاجی بھی اور دھریئے بھی....

جناب نہ ادب کی کوئی حد ھے اور نہ ہی ان ادیبوں کی رنگ برنگی ورائٹیوں کی کوئی کمی ھے.

تو جب ان پڑھ لوگوں میں بھی انہی تمام خصلتوں کے لوگ پائے جاتے ہیں، درمیانے درجے کے پڑھے لکھے لوگوں میں بھی اوپر بیان کی گئی تمام ورائٹیاں پائی جاتی ہیں اور بلند پایہ اعلی ادب پڑھنے اور لکھنے والے بھی انہی شخصیات میں بٹے نظر آتے ہیں. تو میرا نہیں خیال کہ یہ دنیاوی علم اور فکشن کسی کی بنیادی شخصیت میں رتی بھر بھی تبدیلی کا باعث بنتا ھے..... ہاں مختلف معاملات میں نالج ضرور بڑھتا ھے، انسان کو مختلف موضوعات پر چپڑ چپڑ باتیں ضرور کرنا آ جاتی ہیں. لیکن جب میں خود بلند پایہ ادبی لوگوں کو گری پڑی حرکتیں کرتا دیکھتا ہوں، تو میرا یقین اور پختہ ہو جاتا ھے، کہ یہ دنیاوی تعلیم درحقیقت انسانی خصلت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی. یہ انسان کی اپنی زندگی کے پے درپے حالات و واقعات ہی ہیں، وہ ذاتی زندگی میں درپیش تجربہ و مشاہدہ، ٹھوکریں اور تھپکیاں، دوستیاں اور دشمنیاں، بوسے اور گالیاں ہی ہیں، جو آپ کی شخصیت بناتی ہیں.

"میں" وہ نہیں ہوں، جو میرے ہاتھ میں پکڑی کتابوں میں لکھا ھے، بلکہ میرے چہرے کے اک اک زخم اور جھریوں سے مل کر "میں" بنا ہوں


 کیا علم و ادب کی باتیں کر لینا، مختلف مضوعات پر چرب زبانی کر لینا، لمبی لمبی اور گہری گہری باتیں کر لینا، فلسفے بگھار لینا ہی شخصیت میں بہتری کی علامات سمجھی جاتی ہیں؟ اگر ایک صاحب_مطالعہ شخص بھی اپنی ذاتی زندگی میں کوئی بہتر کردار ادا کرتا نظر نہیں آتا، اور ایک ان پڑھ شخص انہی معاملات کو زیادہ بہتر انداز میں نبھاتا نظر آئے، تو شخصیت پر مطالعے کے اثرات کہاں ہیں؟ 

کیا لٹریچر صرف "دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ھے" والا کام نہیں کرتا؟؟؟ کیا یہ اثرات صرف ذاتی تسکین کی حد تک نہیں ہیں؟ کیا مطالعہ کے بعد ایک شخص اپنی ازدواجی زندگی میں ایک ان پڑھ کی نسبت زیادہ بہتر شوھر ثابت ہو جاتا ھے؟ کیا صاحب_مطالعہ لوگ اپنے والدین کی زیادہ بہتر خدمت کرتے ہیں؟ کیا صاحب_مطالعہ لوگوں میں جذبہ حب الوطنی ان پڑھ لوگوں سے بڑھ جاتا ھے؟ کیا کتابیں پڑھ لینے سے انسان تمام ذاتی برائیوں سے دور ہو جاتے ہیں؟ شخصیت کا نکھار کہاں ھے؟


 جناب، میں تو اس اثر کو "انتہائی مختصر" یا پھر بےاثر کہوں گا. بلکہ منفی اثرات کہنا چاہئے. کیونکہ ادب کا لبادہ اوڑھ کر انسان اپنی اصل شخصیت کو چھپائے لوگوں کو بہتر ڈاج کرنا شروع کر دیتا ھے. یہ علم و ادب اور فلسفے کا wrapper انسان کو کم سٹریٹ فارورڈ، زیادہ ڈپلومیٹک اور انتہائی مخفی بنا ڈالتا ھے. مگر بحثیت_مجموعی، مختلف معاملات میں اس کی مثبت و منفی کردار پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا.

اشفاق احمد صاحب اپنی تحریروں میں جن بابوں کا ذکر کرتے ہیں، انہوں نے کتنی کتابیں پڑھ رکھی ہوتی ہیں؟ اور بانو قدسیہ کا راجہ گدھ پڑھ کر کتنے قاری ہیں جنہوں نے ذاتی زندگی میں حلال و حرام کو صحیح معنوں میں امپلیمنٹ کر ڈالا ھو؟ یہ لٹریچر کا شوق دراصل صرف اور صرف مطالعہ کی حد تک اپنے نفس کی تسکین اور ادبی محافل میں بڑھ چڑھ کر نالج جھاڑنے کی دوڑ ھے، اور کچھ بھی نہیں. اور انسان کی اچھے، برے، مثبت و منفی، نفیس، درد مند، سخی، جارح یا مستقل مزاج رویوں سے ادب کا کچھ بھی لینا دینا نہیں. 

عمران خان نے خود اقرار کیا کہ وہ اپنی مصروف ترین زندگی کے باعث کتب سے دور رہا، تو کیا شوکت خانم جیسے مقصد کے حصول کے لئے اس کو کتابوں کی ضرورت کیوں نہ پڑی؟ عبدالستار ایدھی صاحب بھی فلاحی کاموں میں ایسے جتے کہ کتابوں کی دوڑ سے ہی آگے نکل گئے. راشد منہاس نے اٹھارہ سالہ زندگی میں وہ دانشوروں کا کونسا لٹریچر پڑھ لیا تھا جس نے اسے اپنا طیارہ زمین پر ٹکرا دینے کا حوصلہ دیا؟

میرا تو یہی مشاہدہ ھے کے جتنا پڑھو گے، اتنے ہی آپ کے جذبے خالص پن سے عاری ہوتے جاتے ہیں. لٹریچر پڑھنا ہمیں ہمارے جینوئن پن سے دور کرتا جاتا ھے، ھم دوسروں کی سوچ سوچنا شروع کر دیتے ہیں، دوسروں کی سوچ کو اپناتے اپناتے ہماری اپنی سوچ بھی ہماری نہیں رھتی.


کتابیں پڑھ پڑھ کر سوچ اڈاپٹ کرنا اور پھر اس کا ہر معاملے میں پرچار کرنا ایک الگ چیز ھے اور اپنی اصل شخصیت اور عقآید کو اس اڈاپٹڈ سوچ کے پیچھے چھپائے چھپائے رکھنا ایک الگ چیز. آپ کی اصل سوچ وہ ھے جو آپ کے پریکٹیکل معاملات میں سامنے آتی ھے. دوسری وہ اڈاپٹ کی ہوئی (اکثر اچھی) سوچ جس کے لبادے میں ، ہم اپنے آپ کو لپیٹ کر پیش کرتے ھیں. (اور یہ وہی کتابوں کے زیر_اثر سوچ ہوتی ھے)

مثال کے طور پر میں (کتابوں سے adopt کی ہوئی سوچ کو لے کر) سوشلی اپنے مضامین میں حقوق_نسواں کے متعلق لبرل عقائد کی باتیں کرتا پھروں. لیکن جب میرے اپنے گھر کی خواتین کو وہی آزادی درکار ھو تو میں قدامت پسند رویہ ہی ظاہر کرتے ہوئے کچھ مختلف اقدام کروں. اس سے میری ڈپلومیٹک پروان چڑھی ہوئی شخصیت سامنے آئے گی (یعنی ظاہرا میں جس مرضی سوچ کا اظہار کروں، لیکن اندر سے میں رھوں گا ایک قدامت پسند انسان ہی) .... اگر آپ نظر دوڑائیں ہمارے معاشرے میں یہی چیز وافر مقدار میں ہو رہی ھے، کیونکہ لوگوں کی اپنی شخصیت، عقل اور عقائد کے مابین ہی مڈبھیڑ جاری ھے. جیسے جیسے انسان علم حاصل کرتا جاتا ھے، شخصیت کا یہ دوغلا پن بڑھتا ہی جاتا ھے.

پڑھ پڑھ علم تے فاضل ھوییں تے کدے اپنے آپ نوں پڑھیا نھیں
بھج بھج وڑناں اے مندر مسیتی تے کدے من اپنے وچ وڑیا نھیں
لڑنا روز شیطان دے نال تے کدے نفس اپنے نال لڑیا نھیں
بلھے شاہ آسمانی اڈدیاں پھڑو نھیں، جیہڑا گھر بیٹھا اوہنوں پھڑیا نھیں

عمران قاضی

عمران قاضی کا تعلق ہانگ کانگ سے ھے. وہیں پیدا ہوئے، نوجوانی میں تعلیم کی غرض سے پاکستان آئے، اور پھر بیاہ کر واپس ہانگ کانگ چلے گئے. اب وہیں زندگی کا سفر جاری رکھے ہوئے ھیں. شعبہ تدریس سے منسلک ھیں.  ہماری ابھی تک ملاقات نہیں ہوئی، لیکن بس میرا اور عمران قاضی کا ایک غائبانہ کونیکشن ھے، عمران قاضی کو شائد محسوس نہ ھوتا ھو. لیکن اتنی عادت ھو گئی ھے اس شخص کی ..... جیسے ان کی فیس بک کی نپی تلی لائف اب اپنی لائف میں بھی فِٹ ھو چکی ھو .... سب پتا ھے عمران قاضی کی روٹین، ..... اس وقت سو رھے ھیں، اس وقت جاگ رھے ھیں.... کس وقت اپنے سکول میں ہوتے ہیں، ... کس وقت موبائل فون پر آن لائن ہوتے ھیں. کس وقت گھر کے کمپیوٹر پر بیٹھے ہوئے ھیں .........دن کے کس حصے میں وہ رومن میں کمنٹ لکھتے ھیں .... کس وقت اردو رسم الخط میں لکھیں گے. کس وقت سرسری جواب دیتے ھیں. کس وقت مفصل بات کرنے کا موڈ ھوتا ھے. ان کے کھانا کھانے کا وقت بھی .... اور ان کی باتیں.... جیسے سب کچھ پہلے ہی سے مجھے پتا ھے، لیکن پھر بھی انکے ھر ھر کومنٹ میں میرے لئے نئے پن کا احساس. کسی بھی موضوع پر پہلے ہی سے اندازہ ھوتا ھے عمران قاضی کتنا بولیں گے، کیا بولیں گے ........... ان کو کیا بات پسند آئے گی .. کیا پسند نہیں آئے گی..... کس ایشو پر جذباتی ھو سکتے ھیں. کس معاملے کو اگنور کرنے کی صلاحیت رکھتے ھیں ............. ایسے لگتا ھے عمران قاضی کا سارا انفارمیشن پروگرام مجھ میں فیڈ ھو چکا ھے

-
١٩ مارچ 2014

میچوریٹی


جب آپ کو خود پر اتنا کنٹرول ہو جائے کہ کسی موقع کی مناسبت اور ماحول دیکھتے ہوئے سے بات اور ردعمل ظاہر کریں یا ردعمل ظاہر کرنے سے رک سکیں. جب آپ کسی کی غلط بات کو اس کا معیارِ گفتگو سمجھ کر نظر انداز کرنے لگ جائیں، تو سمجھیں آپ میچور ھو گئے ھیں.

 میچوریٹی ایک صلاحیت ہے، جو کتابوں اور سکولوں سے حاصل نہیں ہو سکتی. میچوریٹی کوئی ایک محدود باؤنڈری والا دائرہ یا سکوپ ہرگز نہیں ھے، جس میں اک انسان اپنی صلاحیتوں کے باعث موجود ہو ، بلکہ ایک ہی انسان کے اندر مختلف معاملات میں میچوریٹی کے مختلف لیولز پائے جاتے ھیں. اس لئے عین ممکن ھے کہ ایک گھاگ اور میچور بزنس مین جذباتی رشتوں کے معاملوں میں یکسر اِمییچور طرزِعمل ظاہر کر دے، اور ایک میچور انجینئیر ھو سکتا ھے اپنے شعبے میں تو بہت میچور فیصلے کرتا ھو، مگر کورٹ کچہری کے معاملات میں امییچورٹی کا ثبوت دیتا نظر آئے. جس انسان کا کسی خاص فیلڈ میں جتنا تجربہ بڑھتا جاتا ھے، اور کسی متعلقہ شعبے میں اس نے جتنے اچھے برے حالات کا سامنا کیا ھو، اتنا ہی وہ اس فیلڈ میں میچور ہوتا چلا جاتا ھے.

 میچوریٹی ایک رویے کا نام ہے. اس رویے کا اس شخص کے فیصلوں کے نتائج سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ھوتا. ضروری نہیں کہ میچور شخص کی ہر بات اور فیصلہ درست ثابت ہو

اطمینان کا لیول

میرا ایک دوست انتہائی سادہ ھے، اس کو فاسٹ فوڈ وغیرہ بالکل پسند نہیں، اور نہ ہی وہ کبھی ان پر پیسا برباد کرتا ھے ......اس کے پاس پیسے کی کمی نہیں،لیکن بس اسکا لائف سٹائل انتہائی سادہ ھے ،اور اس بات سے میں اکثر اختلاف رکھا کرتا تھا ____ کہ یار کچھ تو اپنی ذات پر خرچ کیا کرو.  میں نے اتنے سالوں میں بہت کوشش کی کہ اس کو سمجھا سکوں کہ اے دیوانے دوست... کاش تم سمجھ سکو  کہ پیزا کتنے مزے کی ڈش ھے. مگر میں اسے قائل کرنے میں ناکام ہی رھا ______ وہ اپنی سادگی میں پیزا کھائے اور پسند کئے بغیر ہی اتنا مطمئن ھے _____ کہ کبھی کبھی مجھے اس کی سادگی اور اطمینان سے جلن ھونے لگتی ھے. .... جب اسکی روح ایک لگژری کئے بغیر ہی اتنی مطمئن ھے، اور میں وہ لگژری کر کے بھی اس قدر سکون میں نہیں، تو شاید میں ہی غلط ہوں.... ھم کسی پر اپنی سوچ اور اپنا آئیڈیل لائف سٹائل تھوپ نہیں سکتے. جو جیسے خوش اور پرسکون ھے اسکو ویسے ہی رہنے دینا چاہئے.

 ضروری تو نہیں کہ جس انداز کو آپ حاصل_زندگی سمجھ رھے ھوں، وہی اصل حقیقت ھو. ہر انسان کا پیمانہ فرق ھے، دیکھنے والی آنکھ اور محسوس کرنے والا دل فرق ھے. اور سب سے بڑھ کر ہر انسان کے ٹارگٹس فرق ھیں. جب ہر انسان کا  مطمئن ہونے کا لیول ہی فرق ھے تو ھم فیصلہ نہیں کر سکتے کہ کس کی روح اسکی موجودہ زندگی سے کس قدر سکھی اور شاد ھے.

بنیاد پرست

کافی سال پہلے میں بالاکوٹ گیا، اور ایڈونچر کرتے کرتے ھم دوست پہاڑیوں پر چڑھتے گئے اور ادھر مشکل ترین پہاڑی رستوں پر آباد اکا دکا گھروں پر مشتمل گاؤں دیکھے تو بہت حیرت ہوئی کہ یہ لوگ اکیلے آبادی سے دور اتنی مشکل جگہ پر کیوں رہائش پزیر ھیں.  اپنی ہر چھوٹی موٹی ضرورت کے لئے انہیں پہاڑ سے نیچے شہر کو آنا پڑتا تھا ..... وہ لوگ نیچے وادی میں بسے شہر میں بھی تو گھر بنا سکتے تھے، __________ اپنی اسی سوچ کا اظہار میں نے ادھر گاؤں کے ایک بزرگ سے کیا تو انہوں نے مجھے اپنے گھر سے ملحقہ کچھ قبریں دکھائیں، اور بتایا کہ یہ میرے پردادا کی قبر ھے، یہ میرے دادا کی، یہ میرے باپ کی قبر ھے ......... اور ساتھ ہی پڑی خالی جگہ کی طرف اشارہ کر کے فخریہ انداز میں بتایا کہ____ "یہاں میری قبر ھو گی" ____________ اس دن مجھے سمجھ لگی کہ لفظ "بنیاد پرست" کا مطلب کیا ھوتا ھے. اس بزرگ نے شائد مجھ سے زیادہ ہی پرسکون اور اطمینان بخش زندگی گزاری ھو گی. تو میں کون ھوتا ہوں اپنی سوچ اور جدت اس پر تھوپنے والا.

خود ساختہ دُکھ

آج خود ساختہ دکھوں والی بات کی تشریح کرنا چاہتا ھوں. دکھ تو ہر کسی کی زندگی میں ہوتے ہی ہیں. اس سے انکار نہیں. لیکن خود ساختہ دکھ بھی بہت بڑی حقیقت ہیں. ایسے لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں.یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی اصل زندگی دوسروں کے مقابلے میں نسبتا بہتر ہی ہوتی ھے، بظاہر کوئی مسئلہ ہوتا نہیں. لیکن وہ اپنے آپ کو نارمل زون میں رکھنے کے لئے اپنے آپ کو ان مسائل کا شکار کر لیتے ہیں. یہ اصل میں دو مسائل ہیں. یا دو مراحل کہہ لیں.

1 - پہلے مرحلے پر انسان شعوری یا لاشعوری طور پر ایسے دکھوں اور ٹینشنوں کو سوچنا شروع کر دیتا ہے، جن کی سر درد لئے بغیر بھی اسکے عمومی معاملات خاصے بہتر ہی چل رھے ہوتے ہیں ... مگر وہ خوامخواہ کے غم اپنی شخصیت سے منسوب کر کے اپنے آپ کو دوسروں کی نسبت زیادہ دکھی اور مظلوم محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے.لاشعوری طور پر ایسا کرنے کا ایک محرک یہ بھی ہوتا ہے کے اسے لگنے لگتا ہے کہ اس کا تجربہ دوسروں کے مقابلے میں بہت زیادہ وسیع اور جذباتی معاملات میں اسکا ویژن بھی بہت زیادہ براڈ ہو گیا ہے. ایسے ہی میں کچھ لوگ اپنے آپ پر رحم کر کے خوش ہونا شروع ہو جاتے ھیں. اسی میں سکون محسوس کرنے لگتے ھیں. انھیں خود ترسی کا نشہ ہو جاتا ہے. پھر ایک وقت آتا ہے کہ خودساختہ کچھ نہیں رہتا، یہ فیکٹس ان کی زندگی اور شخصیت میں سیمنٹ کی طرح پکے ہو جاتے ھیں. 

2 - دوسرے مرحلے پر یہ لوگ اپنی ان دکھی کیفیات کو دوسرے لوگوں سے شیئر کر کے مزہ لیتے ہیں. ان کے غم سوشل ہو جاتے ہیں. اکثر و بیشتر باتوں میں دکھ کی شدت کم زیادہ کرنے کے لئے کچھ مصالحہ شامل کرنا پڑے تو وہ بھی کر لیتے ہیں. کمیونیٹیز اور حلقہ احباب میں لوگ ان کے غم اور مسائل کو ڈسکس کرتے نظر آتے ہیں. جو لوگ زیادہ ہمدردی، تسلی اور دردمندی کریں، انکے لئے آنسو بہائیں. انکو بیسٹ فرینڈز ہونے کا درجہ عنایت ہو جاتا ہے. سوشلی اپنے درد و غم کا اظہار ان کے کتھارسس کا حصہ بن جاتا ہے. انہی میں سے کچھ حد تک optimistic لوگ فنکار ، ادیب اور خصوصا شاعر بھی بن جاتے ہیں. اور نام و شہرت بھی کما لیتے ہیں.... اور باقی کے لوگ اپنے ہاتھ اپنا گلا گھونٹنے کی پوزیشن میں رکھتے ہوئے، رو دھو کر حبس زدہ ناشکری کی زندگی گزارتے رہتے ہیں. لیکن نہ یہ اپنا گلا گھونٹتے ہیں. نہ رونا بند کرتے ہیں. 
اور نہ ہی واویلا.

-
21 فروری 2014

بیوفائی

میری رشتوں کی ڈکشنری میں بیوفائی، دھوکہ، جفا جیسے الفاظ موجود ہی نہیں ہیں. جذباتی رشتوں کو لے کر زیادہ تر لوگ مثبت ہی ہوتے ہیں، مثبت سوچنا چاہتے ہیں، مثبت طریقے سے ہی جینا چاہتے ہیں. میرا ماننا ھے کہ جذباتی تعلقات میں کوئی کسی کو دھوکہ نہیں دیتا، اگر دیتا ھے تو وہ انسان خود اپنے آپ کو کسی وقت میں دھوکہ دے رھا ھوتا ھے. ضرورت سے زیادہ سوچ کر، ضروت سے زیادہ جذباتی اور خوش گمانی میں مبتلا ہو کر _____ رشتے میں دوسرے فریق کی بساط سے بڑھ کر امید کرنا اصل میں خود سے دھوکہ ہے. خود سے بیوفائی ھے. جذباتی رشتے میں دوسرے فریق کو مورد_الزام ٹھہرانا میرے نزدیک کم ظرفی ھے.


ہر کوئی اپنی حدود (Limitations) کی باؤنڈری ...یعنی ایک دائرہ سا اپنے ساتھ لئے پھرتا ھے. مسئلہ تب اٹھتا ھے جب ھم اپنی باؤنڈری کو تو مقدس اور قابل_احترام مانتے ہیں، مگر دوسروں کی باؤنڈریز کو پینسل سے کھینچی لکیر سمجھ کر مٹانے کی کوشش کرتے ہیں.