سات گھنٹے
ایک پردیسی دوست کے ساتھ میرے شہر میں گزرے اِن سات گھنٹوں میں ہر اِک پَل یہی خیال غالب رھا کہ یہ "آج" آئندہ شاید
کسی "کل" میں دوبارہ ممکن نہیں ___ اِسے یادگار کر لوں ___ اسی خیال سے
میں اپنی آنکھ کے کیمرہ سے ھر گزرے پل کو محفوظ کرنے کی کوشش میں تھا ___
آج بولا جانے والا ھر ھر لفظ گویا اپنی سماعت میں ریکارڈ کر رھا تھا ____
جب یہ اچھا وقت بیت جائے گا_ __ تو میں سب دوبارہ دیکھوں گا ___ تب یہ سب
دوبارہ سُنوں گا ___ تب پھر میں سوچوں گا آج کے دن کو.
0 comments: