فنکار


اتوار کی شب تمام گھر والوں کو فیصل آباد روانہ کرنے کے بعد فوڈ سٹریٹ سے رکشہ پکڑا اور اپنے فلیٹ کی جانب روانہ ہوا، رستے میں حسب معمول رکشہ والے (عمر تقریبا پینتالیس سال) سے گپ شپ کا آغاز ہوا، لاہور کی نئی سڑکوں سے گفتگو شروع ہوئی اور پھر سیاست، نواز شریف، عمران خان سے ھوتی ہوئی پتا نہیں کہاں نکل رہی تھی ... کہ رکشہ والے نے کہا، جناب آپ مجھے لاہور کے نہیں لگتے __ میں نے کہا ، درست اندازہ ھے آپکا، میں فیصل آباد سے ھوں، یہاں جاب کرتا ھوں._____ اس کی اگلی بات قدرے مختلف تھی، مجھ سے پوچھنے لگا کہ آپ پرانے گانے سنتے ھو ناں ؟؟ ___ میں نے اثبات میں جواب دیا تو پوچھنے لگا کہ آپ کو کون سا گلوکار بہت پسند ھے؟ (یہ تو میرا انٹرویو ہی سٹارٹ ھو گیا) ___ میں نے جواب دیا : محمد رفیع" ____ یہ سن کر وہ جیسے کِھل اٹھا ____ کہنے لگا کہ مجھے آپ کی باتوں سے ہی اندازہ ھو گیا تھا کہ آپ بھی محمد رفیع کے پرستار ھیں ___ (اب میں سوچوں کہ آخر میں نے ایسی کیا بات کی تھی جس کا ناطقہ محمد رفیع کی پسندیدگی سے جا ملتا ھو) __ خیر میں نے کہا، آپ "بھی" سے کیا مطلب؟ ... یعنی کیا آپ بھی رفیع صاحب کے فین ھیں؟ .... وہ کہنے لگا "جی بالکل، رفیع صاحب جیسا سنگر تو آج تک پیدا ہی نہیں ہوا" ___ اب محمد رفیع پر گفتگو شروع ھو گئی. وہ واقعی بہت دیوانہ فین تھا اور اس کے پاس کافی زیادہ انفارمیشن تھی محمد رفیع کے فن کے متعلق
.
پھر اس نے انکشاف کیا کہ وہ خود بھی گلوکار ھے، مجھ سے اجازت طلب کرنے کے بعد اس نے رکشہ چلاتے چلاتے ہی محمد رفیع کا مشکل ترین گانا "او دنیا کے رکھوالے" کا انترہ گانا شروع کر دیا. حیرت انگیز طور پر وہ بہت ہی اچھا گا رھا تھا
.
اس کی آواز واقعی سریلی اور خوبصورت تھی اور اس کا یہ فن بلاشبہ قابل تعریف تھا. انتہائی خوشی کیساتھ لہک لہک کر گاتے ہوئے وہ دنیا سے بےنیاز اونچے نچلے سُروں کی خوبصورت ادائیگی کرنے میں مصروف تھا. میں نے رکشے کے سامنے کے شیشے سے اسکا چہرہ دیکھا، وہ جیسے گانا گانے میں مست تھا. اس پل اس غریب شخص کے چہرے کے جینوئن تاثرات گویا ہمیشہ کے لئے میری میموری میں فِٹ سے ھو گئے. میں بھی انجوائے کر رھا تھا اسکی شخصیت اور فن کو. رکشے کے بھر ٹریفک اور گاڑیوں کا ہنگام برپا تھا مگر رکشے کے اندر سر سنگیت کی محفل جمی تھی :)
.
مزید گفتگو کرنے پر معلوم ہوا کہ رکشہ والے کے پاس خطاطی کا فن بھی موجود ھے، اور وہ نستعلیق اردو رسم الخط سمیت دیگر انداز کی خطاطی میں مہارت رکھتا ھے، وہ مصوری اور خطاطی کے بارے میں بھی بہت کچھ جانتا تھا. مگر اس کے تمام فن اور ھنر اسکا پیٹ بھرنے کے لئے ناکافی تھے، اور وہ رکشہ چلانے پر مجبور تھا، مگر اس پروفیشن پر بھی اسے بالکل کوئی افسوس نہیں تھا، اس نے بتایا کہ وہ خوش ھے. مست ھے اپنے حال میں
.
میں اس شش و پنچ میں تھا کہ اس سے اسکا موبائل نمبر لوں یا نہیں، فلیٹ کے سامنے پہنچ کر میں رکشے سے نکلا پیسے ادا کئے، اس نے کہا ایک مصرع اور سن لیں، اور رفیع صاحب کی ایک غزل "مدت ہوئی ھے یار کو مہماں کئے ہوئے" گا کر سنانے لگا. گلی سے گزرتے لوگ حیرت سے دیکھ رھے تھے کہ یہ کیا ھو رھا ھے ... اس نے غزل کا ابتدائی شعر گنگنا کر مسکراتے ہوئے مجھے داد طلب نظروں سے دیکھا اور پھر سلام کرتے ہوئے اپنا رکشہ آگے بڑھا دیا .
-------
خرّم امتیاز - 23 مارچ 2016

لاشعور

"لاشعور" ایک مکمل سبجیکٹ ہے. میں آپ لوگوں سے لاکھ کہتا رہوں کہ مجھے جھوٹ پسند نہیں. ہو سکتا ہے میں سچ ہی بول رہا ہوں، کیونکہ میرے شعور میں یہی فیڈ ہو گا، یا میں نے یہی فیڈ کر رکھا ہو گا.
لیکن یہ میرا لاشعور جانتا ہے کہ کیا جھوٹ مجھے واقعی ناپسند ہے یا نہیں. اور جب ریئل لائف میں کوئی بھی پریکٹیکل موقع آتا ہے . تو ہم دو طرح کے فیصلے کرتے ہیں، شعوری یا پھر لاشعوری ___ شعوری فیصلوں میں مکمل عقل اور ایکٹنگ انوولو ہوتی ہے.___ لاشعوری فیصلوں میں عقل انوولو نہیں ہوتی.___ لاشعوری حرکات ہم تبھی کرتے ہیں جب ہم اکیلے ہوں یا پھر ہمیں ارد گرد کے ماحول کی خاص پرواہ نہ ہو، اور نہ ہی ہم تکلف سے کام لے رہے ہوں.___ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ تنہائی میں انسان کی اصل شخصیت کا پتا چلتا ہے، یا کسی کی اصل شخصیت تب معلوم ہوتی ہے جب وہ ہمارے ساتھ بہت بے تکلف ہو جائے. یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کسی کو جاننا ہو تو اسکے ساتھ سفر کر لو (کیونکہ دوران سفر فرینکنیس ڈویلوپ ہو جاتی ہے اور اکثر لوگ مسلسل ایکٹنگ نہیں کر پاتے) ___ اور ہمارے دین میں بھی تنہائ کو پاکیزہ رکھنے کا حکم اسی لئے ہے،

فلم "کالا پانی" کا کمال گیت






ھم دونوں میاں بیوی کا پسندیدہ گیت ... بلکہ ہمارے رشتے کا تھیم سونگ کہہ لیں تو غلط نہ ھو گا. اس گانے سے ہماری بہت سی یادیں وابستہ ھیں. اور ہمارے درمیان اکثر و بیشتر ناراضگی رفع کرنے کے کام بھی آتا ھے. لیکن ہماری یادوں کے علاوہ بھی اس گانے میں بہت سی خاص باتیں موجود ھیں، جن کا ذکر کرنا چاہوں گا.
.
"اچھا جی میں ہاری چلو مان جاؤ ناں"
بلیک اینڈ وائٹ فلم "کالا پانی" (1958) کا انتہائی کم بجٹ میں تیار کیا گیا یہ گانا بیشتر پیمانوں سے ایک شاہکار  گیت ھے
.
- گانے میں چھ لیجنڈز ھیں
1 - محمد رفیع ،
2 - آشا بھوسلے ،
3 - دیو آنند ،
4 - مدھو بالا ،
5 - میوزک ڈائریکٹر : ایس ڈی برمن،
6 - فلم ڈائریکٹر : راج کھوسلہ
.
- یہ فیصلہ کرنا مشکل ھے کہ کس لیجنڈ نے اس پروجیکٹ میں سب سے زیادہ کلیدی رول پلے کیا ھے. مثلا رفیع نے اچھا گآیا، یا دیو آنند نے زیادہ اچھی ایکٹنگ کی، مدھوبالا کے ایکسپریشن زیادہ خوبصورت تھے یا آشا بھوسلے کی آواز سے چھلکتے تاثرات زیادہ پراثر تھے، ایس ڈی برمن نے گانا کمال کا بنایا یا ھدایت کار نے اس کو فلمایا زیادہ اچھا؟
.
- مجموعی طور پر یہ ایک زبردست ٹیم ائیفورٹ ھے. اور یہ گانا کسی بلان کئے ہوئے پروجیکٹ سے کم نہیں
.
- گانے کی سچویشن بہت سادہ ھے. دیو آنند کسی چھوٹی سی بات پر ناراض ھے، مدھوبالا کو غلطی کا احساس ھے اور وہ ہلکے پھلکے رومانٹک انداز میں دیو آنند کو منانے کی کوشش کر رہی ھے.
.
- اس گانے میں موڈ بار بار چینج ھوتا ھے اور بار بار ردھم بریک ھوتا ھے، لیکن گانا بے سُرا نہیں ھوتا.
.
- گانے کے ہر ہر فقرے پر یونیک ایکسپریشنز ھیں. آغاز میں مدھوبالا مکمل منانے کے موڈ میں ھے، اور آشا بھوسلے کی آواز میں ھنسی کی آمیزش 1:13 منٹ پر سنی جا سکتی ھے. آواز میں ہنسی ھے، اور مدھوبالا کے لبوں پر بھی.
.
"1:16"
منٹ پر آشا بھوسلے کی آواز میں منت سماجت کے ایکسپریشن ہیں .... گانے کی دھن میں اس موقع پر خاص تبدیلی کر کے گایا گیا .. اور مدھوبالا کی ایکٹنگ بھی منت سماجت کرتی ہوئی
.
"1:21"
منٹ پر محمد رفیع ردھم بریک کرتے ہوئے سنگنگ میں عجیب انداز میں "دل جلاؤ ناں" کہتے ھیں. اور دیو آنند بھی اس انداز کو فالو کرتے ہوئے منہ بنانے کی کمال ایکٹنگ کرتے ہیں.
.
"2:18"
منٹ پر دیو آنند اور مدھوبالا غلطی سے آپس میں ٹکرا جاتے ھیں اور جیسے دونوں گانے والے گلوکار بھی آپس میں ٹکرا گئے ھوں ... گانے کا ردھم بریک ھوتا ھے. آشا اور رفیع کی لائنیں اوپر نیچے ھو جاتی ھیں. لیکن گانا پھر بھی بے سُرا نہیں ھوتا..... اور یہ سب کچھ پلانٹڈ تھا. یعنی گانا ریکارڈ کرنے سے پہلے ہی یہ چیزیں سوچی گئی تھیں.
.
"2:34"
منٹ پر دیو آنند کو احساس ھو جاتا ھے کہ اب ضرورت سے زیادہ ناراضگی ھو گئی اور الٹا مدھوبالا کا موڈ خراب ہونے کو ھے لیکن پھر ہھی بھرپور بے اعتنائی شو کی جا رہی ھے. یہ سب ایکسپریشن صاف دیکھے جا سکتے ھیں
.
"2:38"
منٹ پر مدھوبالا واقعی ناراض ھو گئی ھے، اور دیو آنند کو بھی معلوم ھو چکا ھے کہ کام خرابی کی جانب بڑھ رھا ھے. اب مانے بنا گزارہ نہیں. مدھوبالا کے ناراضگی کے ایکسپریشن کمال ھیں. اف اف اف
.
کچھ پل کو مدھوبالا واقعی سنجیدہ ھو گئی ... لیکن دیو آنند کی طرف سے مثبت سگنلز ملتے ہی پھر موڈ واپس اچھا ھو جاتا ھے
.
"3:25"
منٹ پر آشا بھوسلے ایک بار پھر ردھم بریک کرتے ہوئے بچوں کے سے انداز میں گاتی ھے اور مدھوبالا کی ایکٹنگ آواز کے ساتھ سو فیصد جڑی ہوئی محسوس ھوتی ھے

فوبیا فرینڈشپ



"فوبیا فرینڈشِپ"
اپنی زندگی میں ہم سبھی کسی ناں کسی فوبیا کا شکار ہوتے ہیں۔ اکثر ہم انھیں تمام عمر شناخت ہی نہیں کر پاتے۔ اور اکثر ہم جانتے بوجھتے انھیں ڈسکس نہیں کرتے۔ جہاں انکا تذکرہ ہونے کا احتمال ہو ہم موضوع بدل دیتے ہیں، مصنوعی ڈائیلاگز کیساتھ وقت گزار لیتے ہیں یا پھر موقع سے رفوچکر ہو لیتے ہیں۔ مگر بیشتر کیسز میں فوبیاز تمام زندگی ساتھ چلتے اور کبھی ختم نہیں ہوتے۔
اپنے فوبیاز کو ختم کرنے کی بجائے اِنکے ساتھ دوستی کرنے کی کوشش کریں پھر وہ آپ کو ڈرائیں گے نہیں. فوبیاز سے دوستی کرنے کے لئے ان کو اکثروبیشتر ڈسکس کریں. انہیں دہرائیں.. کبھی اُن کے تذکرہ کرتے ہوئے خود اپنا مذاق بنائیں۔ اپنے فوبیاز کے ساتھ کھیلیں، اُنہیں کبھی کبھار ٹچ کرنے کی کوشش کریں. اُن کے قریب قریب سے جان بوجھ کر گزریں  (بس اتنا قریب کہ جس میں کسی نقصان کا احتمال نہ ہو)
کچھ ایسا ہی کہنا ہے میرے ایک دوست کا جو اپنے فوبیاز کے ساتھ لاڈیاں کرتا ہے. مثلاً اُسے انجان فون نمبر سے کال آنے پر تشویش اور دھڑکا لگ جاتا ہے، مگر وہ فون سرہانے رکھ کر سوتا ہے۔ اسے اونچائی سے ڈر لگتا ہے مگر خود کو یہ سمجھا کر جہاز کی کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ کیا ہو جائے گا؟ خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو گیا تو کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ کس سیٹ پر بیٹھے ہو.
حقیقی نفسیاتی مسئلہ تب درپیش ہوتا ہے. جب آپ اپنے کسی فوبیا سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور تب اس فوبیا کا ذکر ہی آپ کے دل میں ڈر پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے.
- خرم امتیاز

ایک خط - بنام مسٹر اینڈ مسز جاوید مرزا

پیارے تایا اور تائی جی
.
السلام علیکم!
.
کے بعد عرض ھے کہ مدتوں بعد بالآخر آپ دونوں کو زندگی نے گزشتہ برس بڑی مشکل سے دریافت کیا تھا اور دل ہی دل میں اس بات کی انجانی سی خوشی تھی کہ آپ سے بارہا مل کر لاہور میں ہمارا بھی دل لگا رھے گا ____ یقین مانئے کہ پہلی ملاقات کے بعد سے آپ کے درشن کرنے کا کوئی موقع اگر قصدًا ضائع نہیں کیا ھو تو مجرم ھوں. اور جب آپکے پاکستان سے جانے کے ارادے کی بھنک پڑی ___ سچ کہوں تو بالکل اچھا نہیں لگا تھا. احساسات پر گویا خود غرضی سی غالب آ گئی ھو ___ دل سے دعا کی کہ آپ کا ویزا نہ لگے ___ پھر آپ نے بتایا کہ دو سال کے ویزے کی ٹرائی کر رھے ھیں تو دعا کی کہ ایک سال سے زیادہ کا ویزا نہ لگے. لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دعا کی کے مصداق بس مقدر بنانے والے نے ہماری تقدیر میں دوری لکھ رکھی تھی.
.
پاکستان میں آپ سے آخری ملاقات کے دن ایک بار پھر ھر احساس کے عارضی ہونے کا یقین دل میں سر اٹھا رھا تھا. دل میں گویا یہی فقرے بار بار گونج رھے تھے کہ "دو سال تو بہت زیادہ ھیں ____ اور کل کس نے دیکھا ھے؟ ___ یا قسمت یا نصیب "
انہی سوچوں کے درمیان آپ ہمارے رشتے کی تمام تر گرمجوشی رد کرتے ہوئے کسی انتہائی سرد دیس کی یاترا کو چل دئیے. اور اس برفانی ماحول میں بھی خوش خوراکی پر آپکا مسلسل فوکس دیکھتے ہوئے بے اختیار آپ دونوں کو 'کینیڈین بٹ' کا خطاب دینے کو دل کرتا ھے.
.
گزشتہ سال آپ دونوں کے ہمراہ بِتائے تمامتر بے لوث لمحوں، انمول شفقت، یادگار محفلوں، لذیذ بریانی اور نشہ آور گلاب جامنوں کو میں بیحد مِس کرتا ھوں.
.
روزانہ آپکی تصویروں اور کمنٹس میں آپکو دیکھ کر بس یہی خیال آتا ھے کہ زندگی کسقدر چھوٹی ھے مگر دوریاں اور خواھشیں کتنی بڑی. خود کو یہی یقین دلاتے ھیں کہ آپ پردیس میں اپنوں کیساتھ خوش ھیں اور ہمیں آپ دونوں سے دوری کے احساس پر افسردہ ہونے کی بجائے آپکی اپنے پیاروں کے درمیان اصل خوشی میں خوش ہونا چاہئے،
.
دعا ھے کہ دو برس چٹکی بجاتے میں گزر جائیں اور آپ اپنی تمامتر حشر سامانیوں کے ساتھ ایک بار پھر ہماری زندگی میں جلوہ گر ھوں گے. آمین
.
فقط آپکا خود ساختہ بیٹا
- خرّم امتیاز -

فوبیا

میں سچ کہوں تو ابھی تک کوئی ایسا خاص فوبیا تو میں اپنے اندر سے ایکسپلور نہیں کر سکا ..... لیکن کچھ باتیں ایسی ضرور ھیں کہ جن پر میرا دل بیٹھ سا جاتا ھے. کچھ چیزیں مجھ سے برداشت نہیں ھو پاتیں اور کچھ رویوں کے درمیان میں زیادہ دیر سروائیو نہیں کر پاتا ....... اس سلسلے میں بہت زیادہ تو نہیں لکھوں گا لیکن "تعصب" جہاں ھوں وہاں میرا گزارا مشکل ھے. "منفیت" میں میرے لئے سانس لینا مشکل ھے ___ اور "بے بسی" کی سچویشن سے میں کوسوں دور بھاگتا ھوں.

"فروری"

میری بھرپور فرمائش پر "فروری" کے عنوان پر میری دوست شاعرہ عنبرین خان نے اسپیشل نظم تحریر کی ھے
-------------------
"فروری"
یہ موسم فروری کا پھر سے کتنے رنگ لایا ہے
چمکتی دھوپ میں ٹھنڈی ہوائیں رقص کرتی ہیں
فلک پر روئی کے گالوں سے بادل اڑتے پھرتے ہیں
ستاروں سے بھری راتیں،
اجالوں سے بھری صبحیں،
کڑکتی ٹھنڈ سے گھبرا کے جو پودے تھے مرجھائے
وہ پھر سے پلنے لگتے ہیں،
خوشی سے کھلنے لگتے ہیں،
چمن کے رنگ سارے ہی، کہ جو ٹھٹھرے تھے سردی سے
سکڑ کر سب فقط کچھ سیاہ، سفید اور بھورے باقی تھے
وہ واپس مڑنے لگتے ہیں...
ہر اک دن، ہر گھڑی، ہر سو، نیا اک رنگ کھلتا ہے
دہکتا سرخ-- خوشیوں کا، بہاروں کا
معطر سبز--چمن کے خوبصورت سے نظاروں کا
گلابی اور عنابی-- شادمانی کے اشاروں کا
بسنتی رنگ-- پیلا رنگ-- جگنو اور ستاروں کا
مہکتی ڈالیوں پر چار سو چہکیں پرندے سب
خوشی کے گیت گاتے ہیں،
سب اپنے گھر بناتے ہیں،
چمن میں تتلیاں رنگیں سُروں میں گنگناتی ہیں
ہوا کے دوش پہ اُڑتی پتنگیں من کو بھاتی ہیں
حرارت زندگی ہے، زندگی کو پھر سے لایا ہے
چمکتے ، خوشنما سورج نے ہر دن کو سجایا ہے
بھلی لگتی ہے اس موسم میں بارش بھی اگر کچھ ہو...
سماں جب شام کا آئے، تو کیا کیا رنگ پھیلائے
دل اپنے آپ ہی میں گم،
بہت سی ان کہی باتیں، بہت سے ان سنے قصے،
خود اپنے آپ دہرائے..
بہت سی بسری یادیں سنگ اپنے لے کے آیا ہے
یہ موسم فروری کا، پھر سے کتنے رنگ لایا ہے!!!
-
- عنبرین خان -
--------------------


@عنبرین خان !! کچھ عرصہ پہلے آپ کی نظمیں اکتوبر ، نومبر ، دسمبر کے عنوان سے نظروں کے سامنے سے گزریں تو میں نے آپ سے خاص فرمائش کی کہ 'فروری' کے مہینے پر کچھ خصوصی شاعری کریں .......
فروری میرے لئے ہمیشہ بہت سپیشل رہا ہے ، میری اپنی سالگرہ ، اور میری شادی کی سالگرہ بھی فروری میں آتی ہے. اس کے علاوہ موسم بہار کی آمد آمد ہوتی ہے، اتنا خوشگوار موسم اور محسوسات شائد سال کے کسی دوسرے مہینے میں نہیں ہوتے

لیکن فرمائش کرتے وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آپ واقعی لکھ دیں گی ........ کیونکہ مجھے یہی لگتا تھا کہ آرٹ تو دل سے نکلتا ھے ... شائد کسی کی فرمائش پر اگلا نہیں جا سکتا. اور سچ کہوں تو میں خود بھی ایسا ہی ھوں، لوگ مجھے کہتے ھیں کہ فلاں چیز کی پینٹنگ بناؤ، مگر میں نے ہمیشہ وہی بنایا جو میرا دل چاہا، مجھ سے کم از کم آرٹ میں ڈکٹیشن نہیں لی جاتی ،، یا شائد میں پروفیشنل آرٹسٹ نہیں ھوں.............اور جب میں نے آپ کی جانب سے فروری کے عنوان پر یہ نظم دیکھی ___ اور فروری کو جس خوبصورت انداز میں لفظوں میں پرویا گیا ھے .... تو میں یہ سوچنے پر مجبور ھو گیا کہ عنبرین خان تو ماشااللہ پروفیشنل شعراء کی لسٹ میں اینٹری کر رہی ھیں. اکثر فی البدیع شعر بھی کہتی ھیں ... اور دیئے گئے عنوان پر اپنے آرٹ کے جوہر بھی دکھا سکتی ھیں ... جو موقع پر اپنے آرٹ کا جوہر دکھا سکے ، اصل آرٹسٹ تو وہی ھوتا ھے.... میں فروری کے لئے جو کچھ سوچتا اور محسوس کرتا تھا، عنبرین نے ویسا ہی یا شائد اس سے بھی بڑھ کر لکھ ڈالا ____ میں نے پہلی بار نظم پڑھی تو میں چاہتے ہوئے بھی اس نظم پر کوئی کمنٹ نہ کر سکا ........... جب بھی کمنٹ کرنا چاہا ... دماغ سن ھو جاتا کہ کس طرح پسندیدگی کا اظہار کروں ... لفظ کم پڑ جاتے __ فقرے گڈ مڈ ھو جاتے.... سوچتا ... آج کمنٹ کروں گا... کل کروں گا ... اور اسی سوچ میں مہینہ گزر گیا ... اور آج یہ نظم پھر ایک بار سامنے ھے، اور آج میری شادی کی سالگرہ کے موقع پر مجھے ڈیڈیکیٹ بھی کر دی گئی ھے. آج کے دن کا واحد تحفہ ابھی تک یہی ایک نظم ہی ھے

@عنبرین میں آپ کی شاعری کو گزشتہ ڈیڑھ سال سے فالو کر رھا ھوں، آپ کی کمانڈ اینڈ کنٹرول شاعری پر بڑھتا ہی جا رھا ھے .. ایک نکھار آ رھا ھے دن بدن..... اس کی ایک وجہ شائد اس گروپ کی وساطت سے ایک دوسرے کی پرسنل لائف میں جھانکنے کا موقع بھی ھے ... آپکی شخصیت بہت خوبصورت ھے. بہت بہت خوبصورت ..... بہت حساس لیکن مثبت ڈائریکشن میں حساس ھیں. آپ اپنی حساسیت بھری شخصیت سے اردگرد منفیت نہیں پھیلاتیں ...

میں چیزوں کو سنبھال کر رکھنے کا عادی ھوں، یہ نظم بھی میرے پاس محفوظ رھے گی. اور ہاں مجھ پتھر دل کو میری سالگرہ پر دیا گیا آپ کا خوبصورت کانچ کا تحفہ، ٹوٹ جانے کے اندیشے سے میری ہمت نہیں پڑتی کہ اسے استعمال کروں. میں نے اسے اُسی ڈبے میں ابھی تک محفوظ رکھا ہوا ھے ... آپ کے لئے انگنت دعائیں

کوالٹی ٹائم

منگل کی صبح
---------------------------
آفس کیلئے نکلنے ہوئے مجھے اپنے دوست اورنگزیب کا خیال ذھن میں گھوم رہا تھا جس نے ویکینڈ پر مجھے انڈیا / پاکستان کے میچ کے دوران کال کی (یقینا اس نے پاکستانی ٹیم کو صلواتیں ہی سنانا ہوں گی. کیونکہ وہ بھی کرکٹ کا شیدائی ہے) لیکن میں کسی مصروفیت کی وجہ سے وہ کال اٹینڈ نہیں کر سکا تھا __ اگلے دن فیصل آباد سے لاہور آتے ہوئے صبح فجر کے وقت اسکی مس کال فون پر دیکھی__ سوچا آفس جا کر کال کروں گا... لیکن آفس پہنچ کر آفس کے کاموں میں ایسا الجھا __ کہ بھول ہی گیا. رات کو لیٹ نائٹ میسنجر پر اورنگزیب کے ھیلو .. ھائی ... کے میسجز دیکھے ... لیکن اس سوچ کے ساتھ کہ "ابھی کال کرتا ہوں اسے" __ لیکن میں دوسرے جھمیلوں میں اسے بھول گیا، گزشتہ صبح کے سفر اور پھر دن بھر کے آفس کی تھکان تھی تو میں جلد ہی محوِ خواب ہو گیا
.
ابھی صبح آفس جاتے ہوئے راستے میں پھر اورنگزیب کا خیال ___ آفس جاتے ہی کال کروں گا.__ ویسے آج مجھے اور کیا کیا کرنا ہے ا؟؟ یہ تو مجھے معلوم ہی ہے کہ آج نعمان لاشاری کا پاکستان میں آخری دن ہے. اور انہوں نے آج آخری بار آفس کولیگز کو فائنل الوداع کہنے کیلئے آفس آنا ہے. ___ لیکن میرے ذمے دو کام ایسے ہیں جو ھنوز پایہ تکمیل تک نہ پہنچ پائے ____
.
کام نمبر 1: نعمان کے لئے فیصل آباد سے ان کی پسند کی کچھ بیکری آئٹمز منگوانا تھیں، جو ابھی تک لاہور نہ پہنچ سکی تھیں___ وہ بیکری پراڈکٹس میرا چھوٹا بھائی فیصل آباد سے خود لے کر آ رہا تھا جو دوپہر میں لاہور پہنچے گا___ اگر نعمان صاحب اس سے قبل ہی آفس کا چکر لگا کر چلے گئے تو وہ چیزیں ان تک کیسے پہنچیں گی. ___ لمحہء فکریہ :\
.
کام نمبر 2: ساجد حسین نے پہلی بار مجھے کوئی کام کہا تھا __ اور وہ تھا نعمان لاشاری کو خوشبوؤں بھرا ایک سرپرائز گفٹ دینے کا. پیسے انہوں نے میرے بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیئے ___ لیکن سرپرائز گفٹ کی لاھور سے خریداری میرے ذمے تھی، جو میں نے ابھی تک نہیں خریدا تھا.___ (یہ سوچ ساجد بھائی کی کھنکھناتی آواز میرے عالم تصور میں گونجی __ ویل ڈن خرّم !!! ) ___ نعمان کے ساتھ ملاقات آفس میں متوقع ھے. کب میں وہ پرفیوم خرید کر نعمان کے حوالے کروں گا ؟__ یہ سوچ کر ___مائنڈ بلینک :/
.
آفس پہنچ گیا __ پہلا کام ___ نعمان کو میسج کیا ___ آپ کب پہنچیں گے آفس. ____ دوسری جانب سے جواب ___ میری طبیعت بہت خراب ہے کل رات سے، کوشش کروں گا .. لیکن آج میرا آفس آنا مشکل ہے آج _______ شاواشے
.

منگل کی دوپہر
---------------------------
نعمان کے آفس نہ آنے کی خبر پر میں ملی جھلی کیفیات کا شکار تھا ____ پہلی سوچ : اچھا ہی ہوا کہ وہ آفس نہیں آ رہا، مجھے ساجد بھائی والا پرفیوم خریدنے کا ٹائم مل گیا :) __ اور شام تک فیصل آباد سے بھائی وہ بیکری ائیٹمز بھی لے آئے گا.___ زبردست !!! ____ اوہ !! لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ شام کو مجھے یہ چیزیں خود نعمان کے گھر جا کر دینا پڑیں گی؟ ____ اوہ نو !! اتنا سفر __ واپڈا ٹاؤن ... لاہور کی دوسری نُکر ____ہممممم !! چلو کر لوں گا ہمت جانے کی __ آج ویسے بھی اسکا آخری دن ہے یہاں __ پردیس جا کر کیا یاد کرے گا کہ کتنے اچھے دوست سے پالا پڑا B|
.
سکائپ پر شاہ پری کے میسیجز ___ نعمان بھائی کے لئے گفٹ بھیجا ہے آپ کے آفس کے ایڈریس پر. پلیز پارسل ریسیو کر لیجئے گا اور جب نعمان بھائی آفس آئیں تو انکو میری طرف سے دے دیجئے گا._________ واہ کمال ہی ہو گیا ... اتنے گفٹس ___ اور نعمان تو آج آفس آ ہی نہیں رھے. یکایک دل میں ایک مثبت فیلنگ نے جنم لیا کہ آج اگر نعمان سے ملاقات نہ ہو پائے، تو یہ تمام چیزیں میری بھی ہو سکتی ہیں 3:) لیکن میرے ضمیر نے دوسرے ہی لمحے میری مثبت سوچ خاک میں ملا ڈالی ___ چلو جی آنے دو شاہ پری کا پارسل بھی. ایک اور ذمے داری کا اضافہ :(
.
ڈنمارک آفس سے مارٹن کا میسج ___ آفس میں ٹیم میٹنگ سٹارٹ ہو گئی ___ اگلے تین ہفتوں کے کام کی پلاننگ شروع _ بحث در بحث ___ ارگمنٹ پر آرگمنٹ ___ دماغ خالی
 .
2 گھنٹے کی میٹنگ کے دوران آدھے گھنٹے کی لنچ بریک ہوئی ___ لاہور میں بم بلاسٹ کی خبر ____ سب آفس میں ٹی وی سکرین کے سامنے جمع ___ دہشتگردی پر بحث شروع ____ آفس بوائے نے میرا فون لا کر مجھے دیا کہ مسلسل کال آ رہی ہے کسی کی ______ کرن کی کال !!!! __ اور اس سے پہلے 8 مِس کالز ___ 3 کرن ہی کی __ 3 توصیف احمد کی __ 1 نعمان لاشاری کی ____ اور ایک مِس کال __ اورنگزیب کی ______ آہ شششش ***** میں نے اورنگزیب کو کال کیوں نہیں کی ... لیکن خیر ابھی فی الحال کرن کی کال ریسیو کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا ___ السلام علیکم ___ (دوسری جانب سے) وعلیکم السلام ___ یااللہ تیرا شکر ہے !! ____ بھئی شکر کس بات کا ؟؟؟ ____ اسی بات کا کہ آپ خیریت سے ہیں __ لاہور میں بم بلاسٹ ہوا ہے ناں ___ اور پتا ہے میں کتنی پریشان تھی ___ کب سے کال کر رہی ہوں ___ فون کیوں نہیں اٹھاتے؟__ یہ کوئی طریقہ ہے بھلا ... آپ کتنے غیر ذمے دار ہیں ... میرا تو دل حلق میں اٹکا ہوا تھا یہ سوچ کر کہ آخر آپ فون کیوں نہیں اٹھا رہے .. (کرن کی آواز پریشانی سے دھیرے دھیرے غصے کی جانب رواں دواں تھی)___ میرے کولیگز مجھے فون پر بات کرتے دیکھ کر یوں ھنس رھے تھے گویا انہیں کرن کی آواز بھی سنائی دے رہی ہو .... میں نے فورا کنفرم کیا کہ فون کا لاوڈ سپیکر آف ہے ___ بیگم کو یقین دھانی کرائی کہ میں خیریت سے ہوں. پریشان نہ ہوں.
.
اب میں نے توصیف کی تین مس کالز کے جواب میں اپنی واحد کال ملائی __ آگے سے وہ جناب بھی غصے میں __ ایک گھنٹے سے تمہارے آفس پلازہ میں کھجل ہو رہا ہوں اور تم کال ہی ریسیو نہیں کر رھے اور مجھے تمہارے آفس کا نمبر معلوم ھے لیکن __ اس پلازے میں اتنی ساری لفٹیں مجھے کنفیوز کر رہی ہیں، اس لئے میں گراؤنڈ فلور پر ہی ہوں ___ جلدی نیچے آؤ کیفے ٹیریا والی سائیڈ پر ________ اوکے اوکے آتا ہوں بھائی ____ لفٹ سے نیچے جاتے ہوئے میں منفی سوچیں سوچ رہا تھا کہ آخر کیوں ___کیفے ٹیریا ہی کے پاس کیوں بلایا گیا ہے مجھے؟ کہیں یہ کوئی سازش تو نہیں ؟؟ :)
.
خیر کیفے ٹیریا کے پاس توصیف کھڑا نظر آیا__ ہاتھ میں دو بڑے شاپر تھامے ، ____ توصیف ! پہلے تو یہ بتاؤ .. ان شاپرز میں کیا ہے؟ اور اتنی سیکورٹی کے باوجود گارڈز نے تمھیں اندر کیسے آنے دیا. لاہور پہلے ہی دہشتگردی کی زد میں ہے _____ توصیف نے بتایا : "اِن شاپرز میں نعمان لاشاری کے لئے گفٹس ہیں جو عفیفہ تبسم نے بہاولپور سے انتہائی چاہت کیساتھ بھجوائے ہیں. اور نعمان نے کہا تھا کہ یہ آفس میں خرّم کے پاس پہنچا دو ، وہ خود ہی نعمان تک پہنچا دے گا" __ شاواشے !!!!! :/
.


منگل کی سہ پہر
---------------------------
میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش بیٹھا توصیف احمد کو کیفے ٹیریا کے دہی بھلے اور گول گپوں کا صفایا کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا__ اسکے ساتھ کی سیٹ پر رکھے شاپرز جو عفیفہ تبسم کے خلوص و چاھت سے بھرے پڑے تھے __ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کس طرح میں اپنی بیکری آئیٹمز کے ڈبے، شاہ پری کا پارسل ، ساجد کا پرفیوم اور عفیفہ تبسم کے گفٹ شاپرز موٹر بائیک پر ایک ساتھ اٹھائے کسطرح نعمان لاشاری کے گھر پہنچوں گا
.
توصیف کو میں نے اپنی سوچ سے آگاہ کرتے ہوئے درخواست کی کہ یہ گفٹس تم واپس لے جاؤ ___ شام میں اکٹھے ہی لاشاری صاحب کا طرف چلیں گے __ توصیف بھی شرافت کیساتھ فورا ہی مان گیا __ ویسے بھی لگ رہا تھا کہ موصوف میرے آفس پلازہ میں گفٹس نہیں بلکہ دہی بھلے اور گول گپوں کی نیت سے آئے تھے. وہ اپنے گفٹس لئے واپس لوٹے __ میں بھاگم بھاگ آفس واپس پہنچا جہاں شاہ پری کا ٹی سی ایس پارسل میرا انتظار کر رہا تھا ____ ھیں !!!! اتنا بڑا ڈبہ ____ عوام کو آخر ہو کیا گیا ہے ؟ ___ اتنے گفٹس
.
میٹنگ دوبارہ سٹارٹ ہو گئی ____ میٹنگ کے دوران میری کولیگ مدیحہ کے فون پر نعمان کی کال ___ " ایہہ بٹ نال گل کرا میری ذرا __ ایہہ میری کال کیوں نہیں چکدا ؟؟ " ___ کال نہ اٹھانے کے تذکرے پر فورا میرے ذہن میں اپنے دوست اورنگزیب کا خیال کوندا کہ مس کال تو اسکی بھی آئی ہوئی تھی، اور میں نے ابھی تک اسے کال بیک نہیں کیا__ کوئی حال نہیں میرا ____ خیر وہ تو جگر ہے اپنا ___ فرصت ملتے ہی کروں گا اسکو کال _____ السلام علیکم نعمان صاحب کیسے ہیں آپ !!! سوری آپ کی کال نہیں سن سکا اور کال بیک بھی نہیں کر سکا. کیا کہنا تھا آپ نے ؟؟ ___ نعمان بولے: میں نے کہنا تھا توصیف کوئی گفٹس لے کر آئے گا وہ ریسیو کر لینا ____ جی بہت اچھا جناب !! اور کوئی حکم ؟؟ ______ نہیں اور کوئی کام نہیں ___ ہاں یاد آیا !! ایک چھوٹا کا کام ہے __ ایک کتاب چاہئے __ فیض احمد فیض کی __ "نسخہ ھائے وفا" ___ وہ مجھے لازمی چاہئے، لندن میں ایک دوست سے میں نے وعدہ کر لیا ہے، اور اس دوست کو ہر حال میں یہ کتاب چاہئے، لے آؤ گے ناں. ____ ہمم ٹھیک ہے، ابھی آفس میٹنگ چل رہی ہے، شام میں ملتے ہیں __ آپ کی طرف ___ اوکے ___ ڈن ___ بائے
.


منگل کی شام
--------------------------
شام آفس کا ٹائم ختم ہوتے ہی شاہ پری کے گفٹ والا ڈبہ اٹھائے بھاگم بھاگ آفس سے نکلا، توصیف کو فون کر دیا کہ اسکے فلیٹ کے قریب فیروزپور روڈ پر فلاں فلاں جگہ پرفیومز کی دکان پر آ جائے. وھیں ملتے ہیں ______ لیکن توصیف سے پہلے میں خود وہاں پہنچ گیا ___ اور پرفیوم پسند کرنے لگا ____ مختلف پرفیوم ٹیسٹ کرتے کرتے اتنا زیادہ پرفیوم مجھ پر چھڑکا جا چکا تھا کہ میں بذات خود خوشبو کا ڈھیر بنا ہوا تھا ___ آخر کار ساجد بھائی کی شخصیت کے عین مطابق ایک بہت زبردست پرفیوم مجھے پسند آ گیا، جو نعمان کو بھی یقینا بہت پسند آئے گا __ وہ پیک کروایا __ اس اثناء میں توصیف بھی اپنے شاپرز سمیت آ چکا تھا.
.
توصیف کو ساتھ لیا، اپنے فلیٹ پہنچا، بیکری آئیٹمز کے ڈبے اٹھائے، وہ بھی توصیف کو تھمائے اور اسے بائیک پر پیچھے بٹھا لیا ___ اور نعمان لاشاری کے گھر کی جانب رواں دواں _____ کاش اس لمحے کوئی تصویر لے سکتا ہماری کہ کتنی مشکل سے میں بائیک چلا رہا تھا __ اور پچھلی سیٹ پر توصیف اپنے شاپرز، شاہ پری کے پارسل اور بیکری آئیٹمز کے ڈبوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ___ ساجد بھائی والا پرفیوم بائیک کے ہینڈل کے ساتھ لٹکا لیا__ توصیف کے قبضے میں رہتا تو نعمان تک پہنچنے تک وہ مزید پرفیوم نہ رہتا. ____ خیر ساتھ ساتھ ہم اپنے ڈنر کی پلاننگ بھی کر رھے تھے کہ اگر نعمان نے ہمیں کچھ نہ کھلایا تو پھر ہمارے پاس مزید کیا کیا آپشنز دستیاب ہوں گے __
.
نعمان کا گھر واپڈا ٹاؤن کے عقب میں واقع نشیمن اقبال ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہے، واپڈا ٹاؤن سے گزرتے ہوئے مجھے یاد آیا کہ واپڈا ٹاؤن میں ہی تو میرے دوست اورنگزیب کا گھر بھی ہے. اور اس سوچ کے ساتھ ہی خود پر شدید غصہ بھی آیا ___ کہ میں نے ابھی تک اورنگزیب کو کال بیک ہی نہیں کیا ____ "ھاؤ سٹوپڈاینڈ کیئرلیس آئی ایم" ___ اب بائیک پر اسوقت توصیف بمع ڈبوں کے میری جو کنڈیشن تھی اس دوران فون کال تو ممکن ہی نہ تھی _____ خیر کوئی بات نہیں واپسی پر خود ہی اورنگزیب کے گھر کا چکر لگا لوں گا .. سارے گلے شکوے دور ہو جائیں گے.
.
نعمان کے گھر پہنچے، وہ واقعی کچھ کچھ بیمار اور اوازار لگ رہا تھا. میں نے سوچ لیا اسکو زیادہ تنگ نہیں کرنا، صبح فجر کے ٹائم پر اسکی فلائٹ بھی ہے، تو ہم بس گفٹس دے کر نکل جائیں گے. ____ نعمان کے بھائی جوس لے کر آ گئے __ جوس نے ہمارے اٹھتے قدم واپس روک لئے ___ نعمان نے کہا :: اوئے وہ کتاب نہیں لے کر آئے ؟؟ ______ کونسی کتاب ؟ کیسی کتاب __ اوہ !! وہ فیض احمد فیض کی کتاب __ وہ بھی لانی تھی ؟؟ !!! اب کیا ہو گا ____ کچھ بھی نہیں ہوگا ... ایک کتاب ہی تو ہے، چھوڑیں کیا کرنی ہے کتاب .... پھر کبھی سہی __ انگلینڈ سے مل جائے گی ..... وغیرہ وغیرہ ______________ نہیں وہ کتاب مجھے ہر حال میں چاہئے، میں نے ایک شخص کے ساتھ وعدہ کیا ہوا ہے .. اس نے لندن میں کہیں کسی سیمینار میں کتاب سمیت پیش ہونا ہے ، کتاب بہت ضروری ہے ___ بلکہ اس وقت سب سے زیادہ ضروری کتاب ہی ہے .. نعمان نے الٹی میٹم دے دیا، کتاب تو ہر حال میں چاہئے _________ لو جی کر لو گل ___ اب شہر سے تقریبا تقریبا باہر آ چکے ہیں یہاں سے کتاب کہاں سے حاصل ملے .... اور اس علاقے کا اتنا پتا بھی نہیں. اتنے میں نعمان غلطی سے پوچھ بیٹھے کے چائے پیو گے، جس پر توصیف نے فورا اثبات میں سر ہلا دیا ___ اور پھر چائے بھی آ گئی ساتھ مٹھائی بھی __ جسکے ساتھ ہم نے اپنی کچھ بھوک مٹائی بھی ___ اور ساتھ ساتھ میں سوچ رہا تھا کہ رات کے آٹھ بجے اب کتاب کہاں سے ملے گی 


منگل کی رات
----------------------------
رات ساڑھے آٹھ بجے نعمان لاشاری کے گھر بیٹھے بیٹھے ہم چائے اور مٹھائی کے ساتھ یہ غور و خوض کرنے میں مشغول تھے کہ فیض احمد فیض کی کتاب کہاں سے حاضر کی جائے چائے پی کر دماغ نے کچھ کم کرنا شروع کیا. اس علاقے کے آس پاس کے دوستوں کے نمبر ملائے ___ سب سے پہلے زبیر محمد __ تو وہ جناب کسی کام سے چیچہ وطنی گئے ہوئے تھے، مگر انہوں نے کتابوں کی دکان کا کچھ نقشہ سمجھایا___ لیکن وہ جگہ بھی خیر یہاں سے کافی دور تھی.
.
اگلی کال محمد بلال کو ملائی گئی. جو اس وقت آفس میں نائٹ ڈیوٹی کر رہے تھے، پہلے تو وہ اس بات پر حیران ہوئے کہ نعمان کو کتاب کی ضرورت کیسے پڑ گئی .. وہ بھی شاعری کی کتاب __لیکن ہمیں سنجیدہ جان کر انہوں نے بھی لاچاری کا اظہار کیا کہ بھائی کچھ لائیک کروانا ہے تو بتاؤ .. یہ کتابوں سے ہمارا کیا لینا دینا __
.
اگلی کال سہیل اکبر صاحب کو ملائی گئی کہ جوہر ٹاؤن میں انکے گھر کے قریب ہی جی ون مارکیٹ میں کتابوں کی کوئی دکان یقینا اس وقت کھلی ہو گی اور فیض کا کتاب مل جائے گی. اپنے سہیل بھائی شریف بندے __ فورا کتاب کے لئے جدوجہد کرنے کو تیار ہو گئے. مارکیٹ کیلئے کمر کس لی انہوں نے. انہوں نے پوچھا کتاب کا نام کیا ہے ____ جلدی میں میرے منہ سے نکل گیا : "نسخہ ہائے کیمیا" ___ جس پر نعمان اور توصیف کو قہقہے لگانے کا موقع مل گیا.
.
توصیف کے شیطانی دماغ میں آئیڈیا آیا کہ گروپ کے محمد زبیر (جونئیر) جو گزشتہ کئی ہفتوں سے ہر کسی کو کتابیں بانٹ رہے ہیں ان سے رابطہ کیا جائے، اور وہ بھی یہیں اسی علاقے میں پائے جاتے ہیں. ان سے رابطہ کیا گیا تو وہ کتاب کی تلاش میں ہم سے بھی زیادہ پرجوش ہو گئے .. بس اب ہر پانچ منٹ کے بعد کتاب کے موجودہ سٹیٹس پر زبیر میاں کی کال موصول ہونے لگی
.
ایسے میں موبائل پر بے ارادہ انٹرنیٹ کونیکٹ کیا تو میسنجر پر اورنگزیب کے "هیلو ! ، ھائی !! .. کدھر ہو ؟" کے میسجز دیکھ کر پھر ایک بار خود کو کوسا


منگل کی لیٹ نائٹ
----------------------------
میں اور توصیف یہ کہہ کر نعمان کے گھر سے اٹھ پڑے کہ ہم خود بھی کسی مارکیٹ سے جا کر کتاب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں. اور ہر صورت کتاب لے کر ہی آئیں گے.نعمان نے بھی ہمارے جذبے کو سلام کرتے ہوئے ہمیں مشن پر روانہ کیا ..... وہاں سے نکلتے ہی محمد زبیر کی کال آئی کہ کتاب مل گئی ہے اور دس منٹ میں کتاب کے ہمراہ میں شوکت خانم کے قریب فلاں جگہ پر موجود ہوں گا. سہیل اکبر صاحب کو فون کر کے ہم نے کتاب کی تلاش کے مِشن سے روک دیا.
.
نعمان کے گھر کے قریب ہی محمد زبیر کتاب لے کر آ گئے. ان سے پہلی ملاقات تھی. اب اس لڑکے نے اتنا احسان کیا کہ اتنی رات گئے نجانے کہاں سے وہ کتاب لے کر حاضر ہو گیا تھا، اور تکلف میں اب کتاب کی قیمت بھی وصول نہیں کر رہا تھا ___ خیر ہم نے سوچا کہ کتاب نعمان تک واپس پہنچانے میں خاطر خواہ تاخیر کی جائے تاکہ نعمان کو یہی تاثر ملے کہ کتاب حاصل کرنے میں ہم نے بہت زیادہ خاک چھانی ہے ______ ہم زبیر محمد اور اسکے دوست کے ساتھ ایک ریسٹورانٹ میں پیزا کھانے بیٹھ گئے. اور گپ شپ چلتی رہی. پیزا بھی اچھا تھا ___ زبیر اور اسکا دوست فیصل نوجوان ہیں اور ابھی اپنے کریئر کے آغاز میں ہیں __ تو توصیف نے انہیں ان کا کیریئر خراب کرنے کے بہترین مشورے دئیے___ میں نے کچھ درستگی فرمانے کی کوشش کی تو وہیں بیٹھے بیٹھے توصیف نے مجھے، فرقان وٹو اور عنبرین خان کو اپنا ٹاپ تھری دشمن قرار دے دیا. لیکن پیزے سے ہاتھ پھر بھی نہ روکا ____ محمد زبیر کے ساتھ یہ پہلی اور ہنگامی ملاقات تھی، اس لئے پیزا اور کتاب کے علاوہ کم ہی گفتگو ممکن ہو پائی
.
پیزا ختم ہوتے ہی ہم وہاں سے نکلے __ نعمان کی طرف پہنچے __ کتاب اسکے ہاتھ میں تھمائی __ اس نے یہ جاننے کی بھی کوشش نہ کی کہ کتاب کہاں سے ملی، کیسے ملی __ اور ھم نے آئندہ ملاقات لندن میں کرنے کے وعدے کیساتھ اسے فائنل گڈ بائے کہا اور وہاں سے چلتے بنے ___ واپسی پر واپڈا ٹاؤن سے گزرتے ہوئے اَورنگزیب کے گھر جانے کا خیال آیا، لیکن رات کے ساڑھے دس بج رہے تھے ... سوچا پھر کبھی سہی ... وہ فیملی کے ساتھ رہتا ہے، اس وقت جا کر کیوں اس کو ڈسٹرب کرنا.
.
واپسی پر موسم خوب سہانا تھا، اور لاہور کی خوبصورت سڑکوں پر ٹریفک بھی کم تھی، میں مسلسل کچھ گنگنا رہا تھا __ مگر میرے سُروں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے توصیف صاحب کوئی فلسفہ جھاڑنے کے موڈ میں تھے.___ توصیف کو اسکے فلیٹ پر ڈراپ کیا، اور پھر میں خود بھی اپنے فلیٹ پر ڈراپ ہو گیا ___ لیپ ٹاپ کھولا تو سامنے پھر اورنگزیب کا میسج ___ " بٹ کدھر ہو ؟ تینوں بھل گئے نیں یار پرانے ؟؟ " _________ رات ساڑھے گیارہ بج رھے تھے، لیکن اورنگزیب یقینا جاگ رہا تھا ____ اور آخر کار اسے کال ملائی __ مصروفیت کے باعث رابطہ نہ کر سکنے اور وقت پر میسج کا جواب نہ دینے پر معذرت کی __ پوچھا کہ سب خیریت ہے ناں __ کیوں اتنے میسیجز کر رہے تھے؟ __ کہنے لگا ___
" یار ویکھ ناں ... اپنی پاکستانی کرکٹ ٹیم نے کیہ گُل کِھلائے نیں !!! میرا بڑا دل کر رهیا سِی کہ تینوں فُون کراں تے دونویں رَل کے کرکٹ ٹیم نُوں رَج کے گالاں کڈیئے" !!!!
.

فائنل ٹچز

جب کوئی تخلیق کار کوئی نئی چیر تخلیق کرتا ہے تو وہ اسکی دنیا میں نمائش (اور پزیرائی کے لئے) بہت جذباتی ہوتا ہے. اور اسی ایکسائٹمنٹ میں کبھی جلد بازی میں الفا یا بِیٹا ورژن کو فائنل ورژن کے طور پر پیش کر دیتا ہے.... جس سے اکثر پراڈکٹ کا وہ امپریشن جم نہیں پاتا.___ بہت سے پوائنٹس پر نوک پلک درست کرنا ناگزیر ہوتا ہے .. کبھی کبھی کچھ فائنل ٹچز پراڈکٹ کا اوور آل امپیکٹ بدل کے رکھ دیتے ہیں............. اس لئے اپنی تخلیق کے تکمیل کے مراحل کے نزدیک پہنچ کر ایک تخلیق کار کو اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے ایک انالیسٹ (تجزیہ کار) کا بہروپ بھر لینا چاہئے. جب تک مکمل اطمنان نہ ہو جائے، پروڈکٹ کو منظر عام پر لانے سے گریز کیا جانا چاہئے.

سالگرہ کی شام

سالگرہ کی شام - پہلی قسط
------------------------------------
لاہور میں سالگرہ کا کبھی مزہ نہیں آتا، پچھلے سال برتھڈے سوموار کے دن پر تھی تو چھٹی کر کے لانگ ویکنڈ بنایا اور فیملی کے ساتھ جا کر منایا یہ دن. اس بار اندازہ تھا کہ لاہور میں رہتے ہوئے سالگرہ کا دن تو آفس کی نذر ھو جائے گا ... اور شام کو اداسی کا احساس پیشگی مجھے ستا رھا تھا.
دن بھر سبھی دوستوں کے ایس ایم ایس، سکائپ میسیجز ، اور فیس بک کی پوسٹس اور کمنٹس کے ذریعے مبارکباد ملتی رہی. کسقدر آسان ھے آجکل وش کر دینا، جس فیس بک فرینڈ نے پورے سال میں کوئی ایک بات تک نہ کی ھو، اسے بھی جب برتھڈے کا نوٹیفکیشن ملتا ھے تو 'سالگرہ مبارک' کی پوسٹ کر دیتا ھے. ___ کوئی بات نہیں ... میں بھی تو یہی کچھ کرتا ھوں :)
خیر دن تو گزر گیا. لیکن شام کو فلیٹ پر جا کر کم از کم آج کا دن میرا بور ہونے کا بالکل موڈ نہیں ھے . مجھے بالکل معلوم نہیں کہ شام کہاں گزرے گی، کس کے ساتھ اور آج کیا ڈنر ھو گا.


اتنے میں ساجد حسین کا میسج آیا ___ برتھڈے سلیبریشن کا کیا پروگرام ھے؟ ___ ساجد بھائی فی الحال تو کوئی پلان نہیں _______ خرّم ! یہ کیسے ھو سکتا ھے ... نعمان وغیرہ تو بنا رھے تھے پروگرام کہ آج سب اکٹھے ھو رھے ھیں.______ اچھا !!! کون سب ؟ مجھ سے تو کسی نے کوئی ذکر ہی نہیں کیا .. شائد کوئی پلان ھو، یا شائد کوئی پلان نہیں ... مجھے کسی نے بتایا ہی نہیں ___ اوہو !!! لیکن تم اچھا سا کھانا کھاؤ اور اکیلے مت رہنا _____ ساجد بھائی! آپ فکر نہ کریں . میں ویکینڈ پر گھر بیوی بچوں کے ساتھ خوب اچھی سی برتھڈے سیلیبریٹ کروں گا___ بچے بھی خوش ھو جائیں گے. ______ اچھا خرّم !! شام میں اداس مت ہونا. اداس ہونے لگو تو بیشک مجھے کال کر لینا _____ ھیں !!! ساجد بھائی کو کیسے پتا کہ میں آج شام میں بہت اداس ہونے والا ھوں.______ ساجد بھائی بے فکر رہیں، میں اداس نہیں ہونے کا__ اداسی کو سامنے دیکھتے ہی آپکا نمبر ڈائل کردوں گا :)
.
بلال کی آج آفس میں نائٹ ڈیوٹی تھی. چھ بجے سب آفس کولیگ جا چکے تھے، بلال ڈیوٹی پر آ چکا تھا ... میں بدستور آفس میں تھا ____ کیا مجھے بلال کے ساتھ کچھ پلان نہیں کرنا چاہئے؟ ____ لیکن کیوں کروں ____ وہ ڈیوٹی دے یا میرے ساتھ کہیں باہر چل کر ڈنر کرے ____ چھوڑو یار ___ یہ آئیڈیا تو خود بلال کو دینا چاہئے ___ آخر اسے بھی تو پتا ھے کہ میری برتھڈے ھے ، اور میں لاہور میں اکیلا ھوں___ ویسے میں کیوں آج سب سے اتنا زیادہ ایکسپیکٹ کر رھا ھوں؟ یہ اردو گروپ والوں نے مجھے سر چڑھا کر میرا دماغ خراب کر رکھا ھے __ ہمممم ____ یقینا بلال نے نعمان کیساتھ مل کر مجھے کچھ سرپرائز دینے کا پلان بنا رکھا ھے__ ساجد بھائی کی بات سے بھی یہی اندازہ ھو رھا تھا ___ لیکن یہ دونوں مجھے بتا نہیں رھے ___شاید ابھی تھوڑی دیر میں نعمان بھی ادھر آ پہنچے گا اور ___ اور کچھ نہ کچھ تو شغل وغیرہ کا پلان کیا ہی ھو گا ان دوستوں نے ____ دونوں بڑے ہی میسنے ھیں ،، کچھ نہیں بتا رھے مجھے _________ "اچھا بلال !! میں چلتا ھوں پھر ... کل ملیں گے " ____ "او رک جا بٹ روٹی کھاتے ھیں آفس میں" _______ "نہیں یار مجھے بھوک نہیں" ____ "اوکے بٹ !! جیسے تیری مرضی" ________ ارے یہ کیا !!! بلال نے مجھے روکا ہی نہیں ____ کیا نعمان اور بلال کا میری سالگرہ میرے ساتھ منانے کا کوئی پلان ہی نہیں تھا _____ کیسے دوست ھیں یہ ؟ اور نعمان کسطرح مجھے اتنا اگنور کر سکتا ھے، وہ بھی میری سالگرہ کی شام جب کہ میری فیملی بھی نہیں میرے ساتھ یہی کچھ سوچتا میں آفس سے نکل گیا.

-----------
(جاری ھے)


 

سالگرہ کی شام - دوسری قسط
--------------------------------------
میں نے پارکنگ سے اپنی بائیک پکڑی اور ریس کورس پارک آ گیا. غصہ اور حیرت کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ پارک کے کچے ٹریک پر تیز تیز واک شروع کر دی. سارے دن کی باتیں __ میسیجز __ مبارکبادیں میرے ذہن میں گھوم رہی تھیں. __ فاطمہ کی خوبصورت پوسٹ ___ ساجد حسین کی میری تصویروں پر مشتمل ویڈیو بمع شاعری ___ ثوبیہ ناز اور عنبرین کی نظم __ بنت کا پرچہ ____ اور باقی ہر ہر دوست کی مبارکباد آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی _____ میں نے گھر کا نمبر ملایا ____ یہ گھر کی جانے والی آج کی کوئی چوتھی کال تھی ___ آپ نے کھانا کھا لیا ___ ہاں کھا چکا ___ حلیمہ سے کہو اپنی پیاری سی آواز میں ایک بار پھر سے مجھے وش کر دے ____ حلیمہ ادھر آؤ ، ابو کو وش کر دو ____ بیک گراؤنڈ سے حلیمہ کی آواز : میں نے کوئی وش نہیں کرنا ... میں نے صبح کر دیا تھا ... اب ایک اور بار نہیں کہنا ..... پھر ماں کے ڈانٹنے پر آ بھی گئی فون پر ___ السلام علیکم ابو !! ھیپی ٹو یُو __ ابو آپ آئیں گے پھر ھم آپ کی ھیپی ٹو یو کریں گے ___ جی میری بیٹی ضرور ___ اور پھر حسن بھائی کی شکایتیں شروع ____ کال ختم ____ واک جاری
کئی بار اضطراب میں فون پر میسیجز اور کالز چیک کیں ____ شام میں کسی دوست نے رابطہ نہیں کیا ____ سچ میں بہت ہی بے مروت ھیں میرے دوست ___ ہاہاہا ___ آئی ایم اے لوزر ___ میں کیوں ایکسپیکٹ کرتا ھوں دوستوں سے __ خود غرض ھوں شاید ____ لکھتا کچھ ھوں ___ سوچتا کچھ اور ___ اور پھر کرتا کچھ اور ہی ھوں __ فاطمہ عنبرین میری یہ سوچ جان کر کتنا ہنسیں گی __ قاضی صاحب کے آنکھوں پر پڑا پردہ بھی ہٹ جائے گا ___ کرن کی نظر میں تو پہلے ہی میرے دوست بیوفا ھیں سب کے سب ___ فون سائلنٹ پر لگا دیا ___ اب کوئی کال بھی کرے گا تو نہیں اٹھانا ___ اور فون جیکٹ کی جیب میں .___ ویسے کیوں نہ ساجد بھائی کو کال کر لوں ، انہوں نے کہا تھا کہ اگر اداس ہونے لگوں تو انہیں کال کر لوں ____ لیکن کیا میں اداس ھوں؟؟ ___ نہیں !! بالکل بھی نہیں ___
جیکٹ کی جیب میں رکھا فون تھرتھرانے لگا ____ اگر تو یہ نعمان ، زبیر یا بلال کی کال ہوئی تو میں نہیں اٹھاؤں گا ... ہاں پکا ____ توصیف احمد کی کال___ شاواشے !!! _______ سلام _ وعلیکم السلام __ ھیپی برتھڈے __ تھینکس ___ کدھر ھو ؟ __ ریس کورس پارک!! ___ کھانا کھا لیا ؟ ____ نہیں کھایا ____ کیا پروگرام ھے ؟ ____ کوئی پروگرام نہیں ___ میری طرف آ جاؤ ___ نہیں تم ریس کورس پارک آ جاؤ ______ فون بند ___ پارک میں ایک شخص بنچ پر اکیلا بیٹھا پرانے انڈین گانوں کی دھنوں پر مسلسل بانسری بجا رھا تھا ___مدھر آواز تھی __ میں اس کے ساتھ بنچ پر بیٹھ گیا ___ اس کا انٹرویو شروع ___ وہ بانسری پر پچاس دھنیں بجا سکتا تھا، ٹاؤن شپ میں سلائی کا کام کرتا تھا .. شام میں پارک میں آ کر بانسری بجاتا ھے ___ کمال ھے ___ ابھی انٹرویو جاری تھا توصیف ریس کورس پارک پہنچ بھی گیا ___ بانسری والے کا انٹرویو مؤخر __ باجے والا جو آ گیا تھا ___ بنچ تبدیل ___ توصیف کا انٹرویو شروع ___ یار خرّم !! یہاں تو کافی ٹھنڈ ھے ___ نہیں یہ تو بہت رومانٹک موسم ھے .. چپ کر کے ادھر ہی بیٹھے رہو اور مجھے انجوائے کرنے دو ___ توصیف نے بزنس اور اکاؤنٹس کی باتیں شروع کر دیں __ موسم کو انجوائے کرنے کا فیصلہ کینسل ___ فرقان بھائی کی باتیں __ ساجد بھائی کی باتیں __ تایا جی ، ڈاکٹر نادیہ ، حرف راز کی باتیں ____ ایسے میں فیس بک پر جاوید اقبال کا سٹیٹس "نعمان لاشاری ان کے گھر بیٹھے کھانا تناول فرما رھے ھیں"_____ سٹیٹس پڑھ کر ٹھنڈ پڑ گئی __ انتظار ختم ____ توصیف کتنا بولتے ھو تم ___ بھوک نہیں لگتی تمھیں _____ میں تو کب سے کہہ رھا ھوں کچھ کھانے کو چلتے ھیں. ___ کیوں نہ بلال سے بھی پوچھ لوں ___ بیچارہ آفس میں بھوکا بیٹھا ھو گا یقینا.
-----------
(جاری ھے)



سالگرہ کی شام - تیسری قسط
-------------------------------------
بلال کو فون کیا ___ بلال !! تمہارے لئے آفس کی فریج میں جو کیک رکھا تھا، کھایا تم نے ؟؟؟ ___ نہیں کھایا ___ کوئی حال نہیں، اچھا ڈنر کرو گے ___ ضرور کروں گا _____ :/ فورا ہی ہاں کر دی .. بندہ کدی ناں ہی کر دیندا اے :) ___ کہاں چلیں؟ .. کہاں چلیں؟ ... ہاں ڈاکٹر نادیہ نے مشورہ دیا تھا ایک بار "لاھور چٹخارہ" ریسٹورانٹ جانے کا ___ توصیف میرے ساتھ ھے __ تم پہنچو وہاں _____ گلبرگ منی مارکیٹ میں لاھور چٹخارہ ریسٹورانٹ ____ ابھی میں اور توصیف وہاں پہنچے ہی تھے کہ بلال اور شکیل چودھری صاحب بھی وہاں پہنچ گئے.____ وہاں کی سپیشل آئٹم تھی ___ انڈین تھالی __ 


ہم نے تین تھالیاں آرڈر کر دیں ..... "چار مینار تھالی" ، "پنجابی تھالی" اور "کندھاری تھالی"
جب نفیس کھانا خوبصورت تھالیوں میں ہمارے سامنے آیا تو ہم نے ڈاکٹر نادیہ کو ڈھیروں دعائیں دیں. اور کھانا بہت لذیذ اور مزے کا تھا ___ ایسے میں تایا جی اور دلجیت قاضی کا بھی ذکر ہوا جو اکثر ان تھالیوں کے کھانوں کا تذکرہ کرتے تھے ___ سیر ھو کر کھایا، سمجھو سارے دکھ دور ھو گئے. ریسٹورانٹ سے باہر آ کر ھم نے موبائل فون سے کچھ سیلفیاں بنانے کی ناکام کوشش بھی کی ... جو ہمیشہ کی طرح آج بھی ٹھیک نہیں بنی. کچھ گپ شپ کے بعد شکیل صاحب اپنے گھر روانہ ہوئے، بلال نائٹ ڈیوٹی کیلئے واپس آفس چلا گیا .. میں اور توصیف ایک چائے کے ڈھابے کی طرف گامزن ہوئے ...
راستے میں لبرٹی سے گزرتے ہوئے ھم نے ورائٹی بک سٹور کے پاس وہ تاریخی مقام بھی دیکھا جہاں آج دن میں عنبرین خان حسب دستور ایک بار پھر زمین بوس ہونے کا شرف حاصل کر چکی تھیں /


چائے کے ڈھابے پر پہنچ کر توصیف نے بتایا _____ ساجد بھائی کی کال آئی تھی ، جو رستے میں نہیں سن سکا ___ میں نے کہا، فورا کال بیک کرو __ دیکھو کیا بات کرتے ھیں.___ اور مت بتانا کہ میں تمہارے ساتھ ھوں ___ چائے آ گئی __ توصیف کی ساجد بھائی سے کال شروع ___ ساجد بھائی نے توصیف سے جاننے کی کوشش کی کہ کیا آج شام میں توصیف نے خرم سے ملاقات کی یا نہیں؟ اور کھانا ساتھ میں کھایا یا نہیں ___ توصیف نے کہا ... نہیں خرّم میرا اتنا بھی کلوز فرینڈ نہیں ھے کہ میں اسکو اتنا وقت دوں ... اور ویسے بھی وہ بٹ ھے ___ تھوڑی دیر میں کال ختم ___ چائے بھی ختم __ اور شام بھی
----------------- 

ختم شد

"چار مینار تھالی"

لاھور چٹخارہ ریسٹورانٹ

قندھاری تھالی

خرّم امتیاز

افغانی اور قندھاری تھالی

افغانی تھالی

محمد بلال
 توصیف احمد