عید میلادالنبی 2015

4:00 PM 0 Comments

فیصل آباد کے مرکزی آٹھ بازاروں میں عید میلادالنبیﷺ کا جلوس بڑے اہتمام سے ہر سال نکالا جاتا ھے. اور یہ ایک کلچر بن چکا ھے. اس بار بچوں کو جلوس دکھانے لیجانے کی ذمے داری میری تھی. اس سے پہلے میرے بچپن سے لے کر اب تک میرے والد ہی یہ ایڈونچر بچوں کو کرایا کرتے تھے

تو جناب بچے بن ٹھن کر میرے ساتھ نکل پڑے اور بچوں نے مختلف مقامات پر جلوس کو خوب انجوائے بھی کیا، یہ لاؤڈ اسپیکروں کا شور اور بیشمار ڈیکوریٹڈ گاڑیوں کی ریل پیل بچوں کے لئے اک نیا تجربہ تھا.

خاص طور پر جلوس میں آراستہ گاڑیوں اور ٹرکوں کی چھتوں سے ٹافیاں، بسکٹ کے پیکٹ، جوس کے ڈبے اور خدا جانے کیا کیا عوام پر پھینکا جا رھا تھا، جسے لوگ تبرک کی طرح لوٹ رھے تھے. اب میرے بچوں نے بھی ضد شروع کر دی کہ میں بھی یہ چیزیں کیچ کر کر کے انہیں دوں، جس امر کیلئے باوجود کوشش بھی میں ہمت جمع نہ کر سکا.

بچوں کو لاکھ سمجھایا لیکن بچوں نے میری مجبوری سمجھنے سے انکار کر دیا ... نئی مصیبت !! میں نے واپسی پر انہیں مارٹ لیجا کر اچھے والے جوس اور کیںڈیاں دلانے کی کوشش کی، لیکن بچے کہتے کہ ھم نے تو وہی جلوس والے جوس اور ٹافیاں ہی لینی تھیں.

یعنی جتنا بھی ان بچوں کو انجوائے کرا دو، لیکن آخر میں کسی چھوٹی سی بات پر رونی صورت بنا کر ہی گھر واپس آتے ھیں. گھر آ کر زاروقطار رونے لگے اور اپنی ماں اور دادی کے ساتھ لگ کر خوب ٹسوے بہائے کہ ابو نے ہمیں وہ چیزیں نہیں لے کر دیں. اور آخر میں بیگم سے یہی طعنہ سننے کو ملا کہ کیا بچوں کی خاطر آپ اتنا بھی نہیں کر سکتے؟ کیا بُرا تھا اگر جمپ کر کے کچھ چیزیں بچوں کیلئے کیچ کر لیتے !!!

0 comments: