لاھور سے فیصل آباد

2:35 PM 0 Comments

آج جمعہ کی شام پونے چھ بجے آفس سے نکل کر ڈائیوو کوچز اسٹینڈ کے لیے رکشہ پکڑا، آج میں نے آفس سے نکلتے نکلتے دیر کر دی تھی، اس ٹائم پر گلبرگ مین روڈ پر انتہائی رش ھوتا ھے، اور سڑک پر جو دو بڑے اشاروں پر رکنا پڑے گا تو عین ممکن ھے کہ آج لاھور سے فیصل آباد کیلئے اپنی سوا چھ بجے والی گاڑی یقینا مس کر دوں گا. لیکن بھلا ھو اس اثنا میں پیچھے سے آتی ہوئی پولیس کی بھاری نفری پر مشتمل تین بڑی گاڑیوں کا، جو ہوٹر بجاتی ہوئی آئیں اور ان کے لئے تمام اشارے اور راستے ہنگامی طور پر کھلتے چلے گئے. رکشہ والے بھی کمال ہوشیاری سے ان کے پیچھے پیچھے رکشہ بغیر اشارے پر رکے آگے کو نکال لایا. مگر رکشہ زیادہ دیر ان گاڑیوں کی ھمسفری نہ کر سکا کیونکہ وہ گاڑیاں بہت تیزی میں آگے نکل گئی تھیں، لیکن ان کی وجہ سے میں وقت پر اپنی گاڑی ضرور پکڑ لوں گا. ویسے خدا جانے کیا ایمرجنسی ھو گئی تھی، جو اتنی پولیس !!! کہیں کوئی دہشت گردی تو____نہیں ! نہیں !__خدا نہ کرے !!!!

 ڈائیوو اسٹینڈ پر پہنچا تو حیرت کا جھٹکا لگا کہ وہی تینوں پولیس وین ڈائیوو کے مین گیٹ کے باھر کھڑی تھیں، اور اسلحے سے لیس کوئی درجن بھر مستعد پولیس والوں نے ڈائیوو اسٹینڈ کے باہر مختلف پوزیشنیں سنبھال رکھی تھیں. اور سڑک پر کھڑے ہر شخص کی نگاہوں کا مرکز وہ پولیس والے تھے.

پل بھر کو سوچا کہ خیر نہیں لگتی، دل میں آیا رکشے والے سے کہوں کہ بھائی فورا سے پہلے یہاں سے نکل چلو. لیکن نجانے کیا سوچ کر اپنا لیپ ٹاپ کا بیگ کندھے سے لگائے نیچے اترا، اور ہمت کر کے ایک پولیس والے سے پوچھا کہ جناب کیا آج ڈائیوو اسٹینڈ میں کوئی مسئلہ ہوا ھے؟ اس نے جواب دیا، نہیں کوئی مسئلہ نہیں ھے، آپ جائیں اندر. اسٹینڈ کے مین گیٹ پر پہنچ پر میں نے ایک دوسرے پولیس والے سے پوچھا کہ "سر !! آج یہاں اتنی زیادہ سیکورٹی کیوں ھے یہاں؟ اس نے کہا __ ھم ویسے ہی ڈیمو (ریہرسل) کر رھے ھیں. خطرے والی کوئی بات نہیں. یہ سن کر کچھ سکون ہوا، اور خوشی بھی کہ شکر ھے یہ ہماری پولیس دہشت گردی کے ناسور کے نمٹنے کے لئے سنجیدہ ھے اور اسی سلسلے میں تیاریاں اور ریہرسل کرنے میں مشغول ھے.

ڈائیوو کے فیصل آباد ٹکٹ کاؤنٹر پر لمبی قطار دیکھ کر میں زیر لب مسکرایا کیونکہ یہ سب وہ لوگ تھے جو کسی وجہ سے پہلے ریزرویشن نہیں کرا سکے تھے اور اب چانس کے انتظار میں تھے کہ کوئی ریزرویشن والا مسافر آنے سے رہ جائے اور اس کے حصے کی ٹکٹ انہیں مل جائے. اور میں بذات خود کئی بار اسی چانس والی قطار میں کھڑا ہونے کا شرف حاصل کر چکا ھوں اور اکثر لیٹ ہو جانے پر روٹین کیساتھ اپنی ریزرویشن سے ہاتھ بھی دھوتا رھا ھوں.
لیکن آج میں نے دو سیٹس ریزرو کروا رکھی تھیں، حالانکہ چاہئے مجھے ایک ہی ٹکٹ تھی، پھر بھی بس اینویں فون پر دو سیٹس بک کروا لیں (آخر دل ھے پاکستانی)  :P


لمحے بھر کو میں نے دل ہی دل میں پولیس کی ان گاڑیوں کا شکریہ بھی ادا کیا جن کی بدولت کم از کم آج میری ریزرویشن کینسل ہونے سے بچ گئی تھی. :)

خیر قطار سے بے اعتنائی برتتے ہوئے میں کاؤنٹر پر پہنچا، اور کاؤنٹر والے سے کہا کہ خرّم کے نام سے فلاں سیٹس کی بکنگ ھے (کیونکہ بکنگ کی بدولت وہ کاؤنٹر والا باقی کے چانس والوں کو چھوڑ کر پہلے مجھے ٹکٹ دینے کا پابند تھا). قطار میں کھڑے لوگوں نے شدید نفرت سے مجھے گھورا. ان سب کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے میں نے کاؤنٹر والے سے کہا کہ میری دو سیٹس ریزروڈ ھیں ، لیکن مجھے ابھی صرف ایک سیٹ چاہئے. یہ سنتے ہی پوری چانس کی قطار میں جیسے ہلچل مچ گئی ھو. ایک ساتھ بہت سی آوازیں : "خرّم بھائی پلیز__دوسری ریزرو سیٹ میرے لئے لے لیں !!!!" اور اس کے ساتھ ہی پانچ سو اور ہزار کے نوٹ میری طرف بڑھاتے کئی ہاتھ اچانک میرے سامنے نمودار ھو گئے.
اس سے پہلے کہ میں اپنی دوسری ٹکٹ کیلئے ان میں سے کسی ایک لکی مسافر کا انتخاب کرتا، کاؤنٹر والے نے میری ٹکٹ میری طرف بڑھادی. میں نے جلدی سے اسے درخواست کی .. کہ یار پلیز دو ٹکٹس ہی کر دو ____ وہ بولا نہیں آج بہت رش ھے ، شکر کریں کہ آپ کو ایک ٹکٹ بھی مل گئی ھے. اور میں نے واقعی خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کے ہاتھ سے ٹکٹ پکڑی، پیسے ادا کیے اور کاؤنٹر چھوڑ دیا.

آج آفس میں مصروفیت کے باعث سارا دن فیس بک استعمال نہیں کی، تو راستے میں کوئی مزے کا سٹیٹس اپ ڈیٹ کروں گا، سہیل اکبر کی پوسٹ پر فنی فنی کمنٹس کروں گا. قاضی و لاشاری سے چھیڑ چھاڑ کروں گا ___ اور ہاں آج راستے میں سیل فون سے نصرت کی قوالیاں سنوں گا، بہت دن ھو گئے نصرت کو نہیں سنا __ یہ سوچ کر اپنے بیگ سے ہینڈز فری ائیر فون نکال کر جیب میں رکھ لئے. گاڑی میں سوار ہوتے ہی سب سے پہلے میں اپنا لیپ ٹاپ کا بیگ اپنی سیٹ کے اوپر کے خانے میں فٹ کرنے میں مصروف تھا کہ ایک بے تکلف آواز میری سماعت سے ٹکرائی ___ "خرّم صاحب !!! اے کوئی چنگی گل نئیں"
سر گھما کر دیکھا تو ایک آدھے گنجے سر والے صاحب مجھ سے مخاطب تھے. "سر !! آپ کون ؟؟" ___ اوئے پہچانا نہیں ؟؟ کوئی حال نہیں .... اتنا بڈھا ھو گیا ھے کیا؟ .... میں تیرا ایم ایس سی کا کلاس فیلو ... رضوان !
.
او رضوان یہ تُو ھے؟ کمینے تُو زندہ ھے ابھی ؟ یونیورسٹی کے بعد ایسا غائب ہوا .. کبھی ملا ہی نہیں. اور آج بارہ سال بعد یہ ننگا سر لے کر مجھ سے ڈائیوو میں مل رھا ھے. شرم نہیں آتی ؟؟ کوئی رابطہ ہی نہیں. میں نے بھی اپنی کلاس کے اس ڈفر دوست کو پہچان لیا، جو آج خاصا معزز دکھائی دے رھا تھا
.
"بہت خوب !! جناب غائب تو آپ ہوئے جو یونیورسٹی کے کانووکیشن تک میں نہیں آئے. اور الٹا شکایت بھی مجھ سے؟" اس نے بھی کاؤنٹر فائر کر دیا
.
خیر اتنے سالوں بعد یونیورسٹی کا پرانا دوست مل گیا تھا، دوسرے مسافروں سے سیٹ کمپرومائز کی ریکویسٹ کر کے ھم دونوں ساتھ ساتھ بیٹھ گئے. اور شروع ھو گئیں نہ ختم ہونے والی باتیں
.
"یار آج تم نے دیکھا ڈائیوو اسٹینڈ پر کتنی زیادہ سیکورٹی تھی، مسلح پولیس والے کیسے اچانک پہنچ گئے .. ھے ناں " میں نے کیژوُولی ہی سیکورٹی کے بارے میں اس کی رائے جاننے کے لئے بات کی. اس نے مسکراتے ہوئے دھیرے سے کہا: "ہاں وہ مجھے چھوڑنے آئے ہوئے تھے" __ میں سمجھا وہ مذاق کر رھا ھے .. میں نے حیرت اور ہنسی کے ملے جلے تاثرات کیساتھ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا __"تمھیں چھوڑنے آئے تھے ؟؟ آر یو سیرئیس ؟؟" ... اس نے کہا: "ہاں سیرئیس" .... میں کچھ سمجھا نہیں. تم کیا جاب کرتے ھو ؟
.
تب رضوان نے انکشاف کیا کہ وہ ڈپٹی ڈائریکٹر انٹلیجنس بیورو ھے .... میں نے کہا کہ وہ کیا ھوتا ھے؟ .... اس نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ وہ حساس انٹلیجنس ادارہ (آئی بی) میں افسر ھے. اور وہ سب پولیس اور گاڑیاں کوئی ریہرسل نہیں تھی، نہ ہی کوئی ایمرجنسی تھی. بلکہ رضوان کو ڈائیوو اسٹینڈ پہنچنے میں دیر ھو رہی تھی تو اس نے اپنا پروٹوکول لیا اور سب ٹریفک کو چیرتا ہوا ڈائیوو پہنچ گیا
 .
ہماری گاڑی چل پڑی تھی، اور میں نے دیکھا ڈائیوو اسٹینڈ کے باہر تعینات وہ مسلح پولیس والے بھی اپنی گاڑیوں میں سوار ھو کر واپس جا رھے تھے.

بڑی مشکل سے میں نے خود کو یقین دلایا کہ میری کمپیوٹر سائنس کی کلاس کا نالائق کلاس فیلو اسوقت ایک انٹیلیجنس ادارے میں سی ایس پی آفیسر ھے. رضوان نے سب کہانی بتا دی کہ ڈگری کے فورا بعد ہی اسے احساس ھو گیا تھا کہ وہ کمپیوٹر سائنس اور پروگرامنگ کی فیلڈ کے لئے موزوں نہیں، ویسے بھی ہر انسان ہر شعبے کیلئے نہیں ھوتا، اور ہر شعبہ بھی ہر شخص کے لئے نہیں بنا ھوتا. اُسے سول سروسز کا شوق تھا. جب ھم دوسرے دوست کمپوٹر پروگرامنگ کی نوکریوں کے لئے اپلائی کر رھے تھے، تو رضوان سی ایس ایس کی تیاری کر رھا تھا اور اس میں کامیاب بھی ہو گیا. مجھے خود میں اور اس میں زمین آسمان کا فرق محسوس ھو رھا تھا. ہماری گفتگو کے دوران اسے بار بار فون کالز موصول ھو رہی تھیں، اور وہ نہ سمجھ آنے والے استعارات میں بات کر رھا تھا. جسے میں نے کوڈ ورڈز گردانا
.
اب میری متجسس خرّم امتیازی رگ پھڑک رہی تھی اور حساس اداروں کو لے کر انگنت سوالات پہلے سے دل میں تھے. جن میں افغانستان کی سوویت یونین کیساتھ جنگ سے لے کر سانحہ پشاور تک ، سقوط ڈھاکہ سے لے کر عمران خان کے دھرنے تک، اور اہم لوگوں کی نجی زندگیوں سے لے کر فون کالز ٹیپ ہونے تک کے سینکڑوں سوالات میرے ذہن میں کلبلا رھے تھے.
.
اور پھر باقی کا تمام سفر اس انٹرویو میں گزر گیا، بہت سے سوالوں کے جوابات ملے، بہت سوں کے جواب نہیں ملے (یا پھر جان بوجھ کر نہیں دیے گئے) کئی سوالوں پر وہ ہسنتا رھا، کچھ سوالوں کے جواب میں ھونٹ پر انگلی رکھ کر چپ رہنے کا اشارہ بھی کیا.______ لیکن صحیح معنوں میں آج میرے نالج میں بہت اضافہ ہوا. اور شائد آج پہلی بار مجھے خفیہ اداروں کے اندرونی طریقہ کار اور مقاصد کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے اور سمجھنے کا موقع ملا
آخر میں وہ کہنے لگا، "بھائی !! فیصل آباد آ گیا ھے اب تو یہ انٹرویو ختم کر دو، اور کچھ اپنے بارے میں بھی بتا دو" ... خیر میں نے اسے سچ سچ بتا دیا کہ میں نعمان لاشاری کی کمپنی میں ایک چھوٹا موٹا ملازم ھوں.

گاڑی فیصل آباد ڈائیوو اسٹینڈ پر پہنچ چکی تھی، ھم نے ایک دوسرے کیساتھ کنٹیکٹ نمبرز کا تبادلہ کیا اور جلد دوبارہ ملنے کی یقین دہانیوں کیساتھ رخصت ہوئے. اسے اپنا فون نمبر دیتے ہوئے میں سوچ رھا تھا کہ بارہ سال بعد آج اتفاق سے ملاقات ھو گئی ... اور اب مشکل ہی ھے کہ کبھی دوبارہ اس سے ملاقات ھو !! کیونکہ بڑے لوگوں کے پاس ٹائم ہی کہاں ہوتا ھے (میں اپنی بات کر رھا ھوں) :P
.
جب سے گھر پہنچا ھوں کسی کو فون کرنے کی ہمت نہیں کر پا رھا، کہیں ایسا نہ ھو کہ اب میری فون کالز بھی ٹیپ ھو رھی ھوں :/

0 comments: