میاں بیوی کا عشق

10:28 PM 0 Comments


شادی کے بعد بیوی سے عشق ..یا اپنے شوہر سے عشق !!!!
میں کہتا ھوں عشق کی ضرورت ہی کیا ھے؟ اسلام نے بھی کب کہا ھے کہ میاں بیوی آپس میں عشق فرمائیں. تو وہ دونوں اگر شریعت کے تلقین کردہ حقوق و فرائض ہی پورے کر دیں تو بڑی بات ھو گی .میاں بیوی کے شرعی رشتے میں عشق ان سے مطلوب ھی نہیں. کبھی عورت کے جذباتی پن کی وجہ سے اور کبھی مرد کے بچپنے کی وجہ سے تسکین کیلئے اس رشتے میں عشق کا فلیوور ایڈ کرنا پڑتا ھے.

ھم پر فکشن، میڈیا اور انڈین فلموں کا اثر اتنا شدید ھے کہ ھم نے بس ہر صورت اور ہر حال میں عشق ضرور کرنا ھے ... لگتا ھے عشق نہ کیا تو زندگی ادھوری رہ جائے گی .. اور اس ادھورے پن کو ختم کرنے کیلئے انسان متعدد بار (سو کالڈ) عشق میں مبتلا ہونے کی کوشش کرتا ھے .... حالانکہ یہ کیفیت کوشش سے ممکن ہی نہیں .. خود اپنے آپ کو، محبوب کو اور دنیا کو اس واہمے میں مبتلا رکھ کر خوش ہوتے ھیں ... جبکہ یہ ہر کسی کے نصیب میں نہیں ھوتا .
ماڈرن دور کے عشق میں سب سے بھیانک پہلو یہ ھے کہ جنس / سیکس کو عشق کے ساتھ لازم و ملزوم قرار دے دیا گیا ھے ... اور چونکہ یہ جذبہ و جنس باآسانی دستیاب بھی ھے تو ہر (جائز و ناجائز) جنسی پریکٹس کرنے والا اپنے اس عمل کی تکمیل کیلئے دل میں عشق و محبت کا آرگمنٹ سوچے ھوتا ھے .. کیونکہ یہ عشق و محبت کی سوچ آپکی اس پریکٹس کو مثبت معنی دینے کا کام کرتی ھے ... دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی طرح اپنے ہر عمل کو مثبت رنگ میں رنگ کر تسکین پانے کی کوشش کرتا ھے. منفی جذبوں کے ساتھ کیے عمل سے حاصل تسکین انسان کو ادھورا بناتی ھے ... جبکہ مثبت تسکین انسان کو مکمل کرنے کا کام کرتی ھے.

لیکن تسکین تسکین ھوتی ھے. یہ ھم پر ھے کہ ھم اپنی تسکین کے جذبے کو اپنے شعور میں کیا معنی دیتے ھیں !! .... لیکن ... شریعت، مذھب، کلچر، آرٹ، سوشل ویلیوز اور گلوبل ویلیوز ... لازم نہیں کہ یہ سب کے سب ایک ساتھ ہماری تسکین کی ڈیفینیشن سے متفق ھوں.

0 comments: