خاکے
میں گو خود بہت زیادہ ایکسپریسِیوو ( expressive) ھوں لیکن مجھے لوگوں کے بارے میں ان کی آٹو بائیوگرافی کی بجائے انکے آرٹ، کاوشوں اور فن کی زبان میں جاننا زیادہ اچھا لگتا ھے. میں نے جب راجہ گدھ پڑھا تو تقریبا ہر اہم اقتباس پڑھ کر بے اختیار کتاب کی بیک سائیڈ پر بانو قدسیہ کی تصویر کو دیکھتا کہ یہ عورت یہ باتیں کیونکر لکھ سکتی ھے ... کتاب ختم ہوتے ہوتے بانو قدسیہ کا ایک خاکہ میرے ذہن میں تھا (صحیح / غلط کی الجھنوں میں ___ میں نہیں پڑھتا) ... لیکن مجھے اپنے خاکے بڑے عزیز ہوتے ھیں. محمد رفیع کا تو ایک جیتا جاگتا خاکہ گویا روزانہ میرے ساتھ ہی رہتا ھے :)
0 comments: