اردو زبان اور اردو بولنے والوں کی تنزلی

9:34 PM 5 Comments

ہمیں اردو سے لاکھ محبت سہی لیکن میرا خیال ہے کچھ سچ بھی بولنا چاہئے. اور وہ یہ کہ گزشتہ سو سالوں میں دنیا میں بتدریج بہت سی تبدیلیاں آئی ھیں بالخصوص سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں. لیکن بدقسمتی سے اردو بولنے اور لکھنے والے شعروشاعری اورافسانوں میں ہی مگن رھے. اردو کسی بھی طرح جدید سائنس و ٹیکنالوجی کی زبان نہ بن سکی. حتی کہ اپنے آزاد وطن میں بھی ہم نے اردو کو جدید دور کی زبان بنانے کے لئے زبانی کلامی کوششوں سے بڑھ کر کچھ نہیں کیا. جس وقت سائنس و ٹیکنالوجی کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں ہمہ وقت نئے الفاظ کا اضافہ، تشریح و ترویج ناگزیر تھی، اس وقت ہمارے اردو دان اپنی زبان کو محض المیہ و طربیہ شاعری و قصیدہ گوئی و رومانس کی زبان بنانے کے لئے کوشاں تھے. وطن عزیز کے قیام کے بعد ہمارے بزرگوں نے اردو کو قومی زبان تو ڈکلیئر کر دیا (اور بیشک اس فیصلے کے باعث ہم نے مشرقی پاکستان کو بھی کھو دیا) لیکن اعلی دنیاوی علم اور معاشرتی سٹیٹس کے لئے ہم نے ہمیشہ انگریزی کو ہی ترجیح دی.

سچ یہ بھی ہے کہ شاید موجودہ اردو میں نہ تو فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی کے فارمولوں اور اصطلاحات کو سمونے کی گنجائش ہے اور نہ ہی پیچیدہ سائنسی تھیوریوں کا بیان ممکن ھے. آپ کوئی سائنسی تھیوری اردو میں بیان کرنے کی کوشش کریں (خواہ نیوٹن کا حرکت کا بنیادی قانون ہی لکھیں) وہ اس قدر مبہم اور فہم سے بالاتر ہوگا کہ اردو بولنے سننے والے ہی نہ سمجھ پائیں گے. سرکاری سکولوں میں میٹرک میں جو سائنس سبجیکٹس سو کالڈ اردو ٹرانسلیشن میں پڑھانے کی بھونڈی کوشش کی جاتی ہے، وہ ٹرانسلیشن  نایاب و پیچیدہ ترین اردو اصطلاحات اور بیشتر انگریزی الفاظ کو اردو میں لکھ کر بنائی جاتی ہے. 

 ھمارے بچے جو لفظ کبھی اپنے گھر اور سکول میں استعمال نہیں کرتے، تو کتب میں ثقیل اور بھاری بھرکم الفاظ پر مبنی میٹرک کی کتابوں کے وہ سائنسی کانسپٹ وہ بیچارے بچے سمجھ ہی نہیں پاتے. وہ رٹا لگا کر پاس ہونے پر مجبور ہوتے ھیں. اور میٹرک میں انہی اردو زدہ سائنسی سبجیکٹس کو مکس اردو و انگریزی میں پڑھانے کی وجہ سے بہت سے اچھے تخلیقی دماغ کریئر کی دوڑ میں شامل ہی نہیں ہو پاتے. جس کا جتنا اچھا رٹا، اتنے ہی زیادہ نمبر. اور پھر ایف ایس سی میں جا کر انہی سب کانسپٹس کا انگریزی میں رٹا لگانے پر مجبور ہوتے ھیں. کوئی شک ہی نہیں کہ ہمارے ہاں ڈاکٹر و انجنیئر بنتے ہی وہ ھیں جن کا رٹا اچھا ہوتا ہے. اور پھر وہی لوگ پریکٹکل شعبوں میں جا کر بھی کوئی تخلیقی کام کرنے کے قابل نہیں ہوتے. اور ایسے ہی پروفیشنلز ملک کی تنزلی کا مسلسل باعث بن رھے ھیں.

بین الاقوامی سطح کی اگر بات ہو تب بھی ہم تنہا کھڑے ہوتے ھیں. سچ تو یہ ہے کہ انٹرنیشنلی ہماری کوئی زبان ہے ہی نہیں.

5 تبصرے:

  1. جس کا جتنا اچھا رٹا، اتنے ہی زیادہ نمبر. اور پھر ایف ایس سی میں جا کر انہی سب کانسپٹس کا انگریزی میں رٹا لگانے پر مجبور ہوتے ھیں. کوئی شک ہی نہیں کہ ڈاکٹر و انجنیئر بنتے ہی وہ ھیں جن کا رٹا اچھا ہوتا ہے. اور پھر وہی لوگ پریکٹکل شعبوں میں جا کر بھی کوئی تخلیقی کام کرنے کے قابل نہیں ہوتے. اور ایسے ہی پروفیشنلز ملک کی تنزلی کا مسلسل باعث بن رھے ھیں.
    بہت عمدہ لکھا خرم !

    جواب دیںحذف کریں
  2. جس کا جتنا اچھا رٹا، اتنے ہی زیادہ نمبر. اور پھر ایف ایس سی میں جا کر انہی سب کانسپٹس کا انگریزی میں رٹا لگانے پر مجبور ہوتے ھیں. کوئی شک ہی نہیں کہ ڈاکٹر و انجنیئر بنتے ہی وہ ھیں جن کا رٹا اچھا ہوتا ہے. اور پھر وہی لوگ پریکٹکل شعبوں میں جا کر بھی کوئی تخلیقی کام کرنے کے قابل نہیں ہوتے. اور ایسے ہی پروفیشنلز ملک کی تنزلی کا مسلسل باعث بن رھے ھیں.
    بہت عمدہ لکھا خرم !

    جواب دیںحذف کریں
  3. سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
    ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں